داہنے ہاتھ والوں کو سالگرہ مبارک ہو - شازیہ طاہر

دلیل پر میری پہلی تحریر اگست 2016ء میں شائع ہوئی. اس کے بعد "چائے والا" کے موضوع پر ایک اور تحریر اپنی سمجھ کے مطابق لکھ کر بھیجی، جس کا متن کچھ زیادہ حساس تھا اور گمان تھا کہ شاید شائع نہ کی جائے، لیکن دلیل ٹیم نے اس کو قابلِ اشاعت سمجھا اور اس تحریر کو 42 ہزار سے زائد لوگوں نے پڑھا، جس سے مجھے بہت حوصلہ افزائی ہوئی. اگرچہ لکھنے لکھانے کا بہت شوق ہے اور یہاں یورپ کے ایک اخبار میں کچھ عرصہ پہلے چند آرٹیکلز شائع ہوئے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ مکمل طور پر رک گیا. لیکن دلیل کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ مجھ جیسے نوآموز لکھاریوں کے لیے یہ پہلی درس گاہ ہے جو نئے آنے والوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتی ہے، اور نہایت نرمی اور خلوص سے تربیت بھی کرتی ہے۔

ہر مسلمان جسے اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے، کا فرض ہے کہ وہ اپنے قلم کو قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کی اصلاح و بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ ایک سچا اسلامسٹ لکھاری اگر خلوص نیت کے ساتھ اس میدان میں اترتا ہے، اپنے قلم کے ذریعے اپنی اخلاقی اقدار اور تصوّرِ دین کا دفاع کرتا ہے تو اس کی یہ کاوش اس کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے۔

دلیل پر اپنی تحریر شائع ہوتے دیکھ کر محسوس ہوا کہ مجھے بھی اپنے حصے کا فرض ادا کرنا ہے۔ اگرچہ ہم انفرادی طور پر معاشرے کی برائیوں کو ختم نہیں کرسکتے لیکن آتشِ نمرود کو بجھانے کے لیے اس ابابیل کا سا کردار تو ادا کر سکتے ہیں جس نے اپنی چونچ سے قطرہ قطرہ پانی لے جا کر اپنا حصہ ڈالا اور اللہ کے ہاں سرخرو ہوئی۔ جس طرح ہمیں روزِآخرت اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا ہے، اسی طرح ایک لکھاری اپنے تحریر اور اپنے قلم کا بھی اللہ کے ہاں حساب دے گا۔ اگر ہماری تحریر کے ذریعے سے کسی ایک فرد کو بھی ہدایت کی روشنی نصیب ہو جائے تو وہ لکھنے والے کے لیے راہِ نجات بن سکتی ہے.
محترم عامر خاکوانی صاحب کے یہ الفاظ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں کہ
"ہرتحریر یہ سوچ کر لکھی جائے کہ جب یہ ہمارے آقا ئے نامدار ﷺ کے سامنے پیش کی جائے تو اس کو پڑھ آپ ﷺ کا ردعمل کیا ہوگا"
اس میں کوئی ایسا جملہ یا لفظ نہ ہو، جو سرکارِ مدینہﷺ کو ناپسندیدہ محسوس ہو اور آپﷺ کی منور پیشانی پر کوئی شکن نمودار ہو کہ ان کے امتی، ان کے نام لیوا دین اسلام کی بے توقیری کا باعث بنے۔

دلیل کے تقریباً تمام لکھاری اس وقت "جہاد بالقلم" کر رہے ہیں. دلیل نے دائیں بازو کے اسلامی نظریات و خیالات رکھنے والے لکھاریوں میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ جب بھی نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو یہ قلم کے اسلحہ سے لیس ہو کر اپنی نظریاتی قوت و فکر سمیت بےخطر اس جنگ میں ایسے کود پڑے کہ اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے پاکستان کو لبرل، سیکولر اور مغرب زدہ مادر پدر آزاد معاشرہ بنانے والے محوِ تماشائے لبِ بام رہ گئے، اور انھیں میدان سے پسپا ہونا پڑا۔

ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں لوگ برائی کو برائی کہنے میں بھی عار محسوس کرتے ہوں اور جہاں رمضان المبارک کے مقدس و متبرک مہینے کی حرمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لبرل اور سیکولر نظریات کی حامی اردو ویب سائٹس پر ایسی تعفّن زدہ تحریریں دیکھنے کو ملیں جن کے محض موضوعات کو پڑھ کر گھن آنے لگے، وہاں دلیل پر شائع ہونے والی تمام تحریریں تپتے صحرا میں ٹھنڈی اور نرم ہوا کا جھونکا ہیں. دلیل اندھیرے میں روشنی کا اک استعارہ ہے، دلیل حق اور باطل کی جنگ میں حق ہے، فرقان ہے. دلیل والوں کوغیرت بریگیڈ کا خطاب بھی دیا گیا، دلیل پر رائٹ ونگ یعنی دائیں بازو والوں کا لیبل بھی لگایا گیا، جو کہ دلیل ٹیم اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک اعزاز اور باعثِ فخر ہے. میں جب بھی سورہ واقعہ کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھتی ہوں، مجھے داہنے ہاتھ والوں پر رشک آتا ہےاور بلاشبہ دلیل ٹیم نے اپنی طرز کی پہلی اسلامی اردو بلاگنگ ویب سائٹ بنا کر اور اپنے آپ کو اعلانیہ اور فخریہ اسلامسٹ اور دائیں بازو کا کہہ کر ان شاءاللہ دائیں ہاتھ والوں میں اپنا نام لکھوا لیا ہے.

الحمدللہ اردو بلاگنگ ویب سائٹس میں دلیل پہلی پوزیشن پر ہے، اور یہ سب اللہ تعالی کی نصرت اور دلیل ٹیم کی شب و روز کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ میری طرف سے دلیل کی ادارتی ٹیم، خصوصاً بانی محترم عامر خاکوانی بھائی اور محترم دانیال بھائی، اور دلیل کے تمام لکھاریوں کو کامیابی کا ایک سال مکمل کرنے پر ڈھیروں مبارکباد۔ دعا ہے آنے والا ہر سال مزید کامیابیوں سے بھرا ہو۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ دلیل کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اور آنے والا ہر سال مزید کامیابیوں سے بھرا ہو۔ اللہ اس کے حصّہ داروں کو دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے اور آخرت میں بھی انھیں (رائٹ ونگ) دائیں ہاتھ والوں میں شامل کرے. آمین