"اپنے حصے کی شمع" - خدیجہ افضل مبشرہ

کچھ دن پہلے ایک "لبرل" بھائی صاحب کی فیس بک وال پر ایک تحریر پڑھی۔ ان کے مطابق جب مرد اور عورت میں کشش اور جھکاؤ کی کیفیت ایک قدرتی شے ہے تو اس پر پابندیاں لگانا اور حدیں باندھنا غلط ہے۔ اپنے موقف کی تشریح میں انہوں نے فیس بک وال کا کافی حصہ کالا کیا ہوا تھا۔ پڑھ کر جو میٹر گھوما تو کمنٹ کرنے کا سوچا۔ کمنٹ سیکشن میں کیا دیکھتی ہوں کہ ان کے ہم خیال افراد نہ صرف زوروشور سے ان کے موقف کی تائید کر رہے تھے بلکہ ان کی اس ہمت اور جرات پر دادو تحسین کے ڈونگرے بھی برسا رہے تھے۔ اس قدر دل برا ہوا کہ فیس بک ہی بند کر دی۔ بعد میں افسوس بھی ہوا کہ اس پوسٹ کا کوئی ریفرنس تو محفوظ کر لیتی۔

خیر، یہ صرف ایک فرد، ایک فیس بک وال کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہماری آج کی نسل کے بیشتر جوانوں کی سوچ ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ زمانہ چاند سے گزر کر مریخ پر آباد ہونے کی تیاریوں میں ہے اور یہاں ابھی بھی عورتوں کے پردے اور مرد کی نگاہیں جھکانے پر مناظرے جاری ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی ترقی میں ( خدا نخواستہ) یہ دقیانوسی فتوے حائل ہیں ۔ یورپ اس لیے ترقی کر گیا کہ ان کے ہاں اس بحث میں پڑھنے کی بجائے سائنس اور ایجادات پر مباحثے ہوتے ہیں۔ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں تو عورتوں کو برقعے میں لپیٹ کر چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے اور بس اسی وجہ سے ترقی رکی ہوئی ہے۔

یورپ کی اس ترقی کا راز کچھ بھی ہو لیکن یہ قطعاً نہیں ہے اور اگر آپ اس بات پر مصر بھی رہیں تو ہمارے ہاں بھی کچھ زیادہ فرق تو نہیں رہ گیا۔ اگر تو بات کی جائے پاکستان کی، تو مجھے یہ بتائیے کہ اب آپ چاہتے کیا ہیں؟ مخلوط تعلیمی نظام ہر جگہ رائج ہے۔ پردے کی پابندی دوسرے مسلم ممالک کی طرح ہمارے ہاں لازم نہیں، بے پردگی کے کئی لیولز ہیں۔ اپنے ماحول اور وسائل کے مطابق خواتین اس فیشن نامی مرض میں بخوشی مبتلا نظر آتی ہیں۔ عملی زندگی میں تمام شعبہ ہائے جات میں مرد حضرات کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اب اور کیا چاہتے ہیں آپ؟

اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ اسکولز ،کالجز اور یونیورسٹیز میں کھلم کھلا مراسم کی اجازت دے دی جائے؟ یورپین ممالک کی طرح گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر جو کہ آج بھی ایک ڈھپے چھپے انداز میں کافی پھیل بھی چکا ہے، جائز قرار دے کر عام کر دیا جائے؟ کیونکہ یہ تو ایک قدرتی عمل ہے اور آپ کے مطابق قدرتی عمل کو روکنا ناجائز ہے؟ ذرا اس قدرتی عمل کے ساتھ باقی قدرتی عوامل کا جائزہ بھی لیتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   ایک شادی کی داستان: شریعت کے حساب سے بالغ، قانونی اعتبار سے نابالغ

آپ کھانا کھاتے ہیں اور اس کھانے کی طرح اس کے نتیجے میں ہونے والی رفع حاجت کی ضرورت بھی ایک قدرتی عمل ہے۔ آپ کیوں بیت الخلاء کا ہی انتخاب کرتے ہیں؟ بھئی یہ تو قدرتی عمل ہے۔ کہیں بھی بیٹھ جائیے۔ سب جانتے ہیں کہ اس پر انسان کا زور نہیں تو پابندی کیسی؟ نیند آنا بھی ایک قدرتی عمل ہے کہیں بھی پڑ کر سو جائیے۔ گھر اور بستر کی قید کیوں؟ سب جانتے ہیں کہ قدرتی عمل ہے تو سوچنا کیسا؟

یہ سب ایسے نہیں ہو سکتا تو جو آپ چاہتے ہیں وہ کیسے ہو جائے؟ کیوں معاشرے کے گند میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں آپ؟ اللہ نے اگر یہ قدرتی کشش اور جھکاؤ مردو زن کے بیچ رکھا ہے تو اس کی حد بھی مقرر کی ہے۔ نکاح کر لیجیے۔ جو تین چار سال گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کر گزار کر لعنت اور پھٹکار کمانا چاہتے ہیں وہی نکاح کی سنت کو پورا کر کے محبت کو حلال کر لیجیے۔ اگر آپ گرل فرینڈ کے نخرے اور خرچے اٹھا سکتے ہیں تو اسے بیوی بنا کر کیوں نہیں کرتے یہ سب؟

ستم بالائے ستم یہ کہ جس طرف نگاہ اٹھاؤ یہی طوفان چڑھتا نظر آتا ہے۔ فلمیں تو خیر کسی تعارف اور تبصرے کی محتاج ہی نہیں۔ ان پر تو بات نہ ہی کی جائے، ٹی وہ ڈرامے ہیں تو وہ حدود و قیود سے آزاد۔ غیر شادی شدہ جوڑوں کے بیچ عجیب ہیجان آمیز رومینٹک مکالمے اور مناظر دکھائے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ رائٹرز کی بات کریں تو سوشل میڈیا کے اس زمانے میں ہر میرے جیسا دوسرا بندہ دو چار سستی دانشورانہ تحاریر لکھ کر خود کو انٹلیکچول سمجھ کر بیٹھا ہے یا الٹی سیدھی کہانی لکھ کر خود کو لکھاری ماننے لگا ہے۔ احساس محرومی کو جگاتی اور ہوا دیتی، سستے رومانس اور تھرڈ کلاس عشقیہ مکالموں سے بھرپور، حقیقت سے کوسوں دور کی فلمی کہانیاں ہر دوسرے فیس بک پیج پر پڑھنے کو ملتی ہیں اور ان کی قسط مس ہو جانے کی صورت میں ایڈمن کی جان کے درپے ہوئے ہوتے ہیں یہ ٹین ایجرز!

انتہائی امیر و کبیر گھرانوں کے بچوں کی لو اسٹوریز لکھنے والے بس اتنا بتا دیں کہ آپ یہ کہانیاں کن کے لیے لکھ رہے ہیں؟ پاکستان میں آدھی سے زیادہ آبادی تو مڈل کلاس سے بھی نچلے لیول پر ہے اور آپ بات کرتے ہیں ایلیٹ کلاس کی جو بمشکل ہی چار فیصد بنتے ہوں گے۔ ان کے پاس تو اور کوئی مسئلہ ہوتا نہیں سو عشق و عاشقی ہی بچی پھر۔ باقی چھیانوے ستانوے فیصد لوگوں کی زندگی کی عکاسی کیوں نہیں کرتے آپ لوگ؟ اپنے لوگوں کی کہانیاں کیوں نہیں لکھتے آپ جنہیں پڑھ کر بچیاں بچے اپنی زندگی کی بہتری کے لیے کچھ کر سکیں۔ مڈل کلاس طبقے اور ان کے معاشی معاشرتی مسائل پر ڈرامے فلمیں بنائیے تا کہ لوگوں کو اس میں اپنا عکس نظر آئے نا کہ بزنس ٹائیکونز کے بڑے بڑے محل اور پراڈوز دکھا دکھا کر احساس کمتری پیدا کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   دستک دینا ہر مرد کی فطرت ہے - ملک محمد

پھر موبائل فونز نے چھپ چھپ کر کبھی چھت پر تو کبھی گلی کے کسے کونے میں بذریعہ خطوط ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ سستے موبائل پیکجز نے رابطے آسان بھی بنا دئیے اور کم خرچ بھی۔ آج حالت یہ ہے کہ روٹی مہنگی اور کال سستی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ ہمیں سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ ہم تباہ ہو رہے ہیں۔ ہماری اقدار اور معاشرت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ تو مندرجہ بالا کاموں میں سے کوئی بھی ایک کام کر کے ایک ہی گناہ کر رہا ہے، مگر اس کے اس گناہ کے باعث گمراہ ہونے والے افراد اور نقصانات بھی اسی کے کھاتے میں ڈالے جائیں گے جس نے اس کی بنیاد رکھی۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے اپنے حصے کا کام کر جائیے جو بھی ممکن ہو۔ یہ مت سوچیے کہ میں اکیلے کیا کر سکتا یا کر سکتی ہوں۔

بارش کا ایک ایک قطرہ مل کر سیلاب لے آتا ہے۔ گندم کا ایک ایک دانہ مل کر ٹنوں کے حساب سے غلہ مہیا کرتا ہے۔ ایسے ہی ہر فرد ایمانداری سے صرف اپنی ذمہ داری پوری کرنے لگے تو آدھے سے زیادہ گند صاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاشرہ ہمارا گھر ہے۔ ہم سب کا اجتماعی گھر۔ کیا اسے ہم نے اپنے بچوں کے رہنے لائق چھوڑا ہے؟ تو بس پھر ایسے کاموں کو یہ سوچ کر کریں کہ جیسے رہنے کے لیے گھر صاف رکھا جاتا ہے ویسے ہی اپنی آئندہ نسل کے رہنے کے لیے اس معاشرے کے گند کو صاف کرنا اور اسے صاف رکھنا ہے۔

ویسے بھی کیا ہے کہ

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سلام
    جزاک اللہ (بہترین تحریر ہے "اپنے حصے کی شمع "
    کیا خو ب کہا ہے ایک بزرگ نے "کرنے کے کام کرو ،ورنہ ،نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جاوگے۔"