قرآن کے حقوق - سید وجاہت

قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہے جس نے گزشتہ تمام الہامی کتابوں کو منسوخ کردیا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہر ایک کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی اس آخری کتابِ ہدایت کو سمجھے۔ ویسے تو قرآن وہ کتاب ہے کہ جس کو بلا سمجھے پڑھنا بھی اجر سے خالی نہیں بلکہ ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن اس کتاب کی تلاوت کو ہی کافی سمجھنا یہ ایک عظیم الشان نعمت کی ناقدری ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کے پانچ حقوق ہیں ان کی ادائیگی لازمی و ضروری ہے، قرآن کا پہلا حق تو یہ ہے کہ قرآن پر ایمان لایا جائے مطلب یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ آخری و سچی کتاب ہے۔ یہ پہلا بنیادی حق ہے کہ اس کتاب کے کے صحیح اور منزل من اللہ ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔ اس کے بعد قرآن کا یہ حق ہے کہ اس کی تلاوت کا اہتمام کیا جائے اور بلاشبہ تلاوت کلام پاک اجر عظیم کا موجب ہے۔ اس کتاب کی ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پھر تلاوت کےبعد قرآن کا یہ بھی ہے کہ اس کے معانی و مفاہیم کو حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ مجھے معلوم تو ہو کہ میرا رب آلم سے والناس تک کیا فرما رہا ہے۔ پھر قرآن کے معانی و مفاہیم پر غور وفکر کرنا اور اس کی آیتوں میں تدبر کرنا یہ قرآن کا حکم بھی ہے اور یہ اس کے حقوق میں بھی شامل ہے، اللہ خود قرآن میں انسانوں کو تدبر کی دعوت دے رہیں ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (٤٧:٢٤)

"تو کیا یہ لوگ قرآن میں (ذرا بھی ) غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں"

پھر قرآن کے حلال کو حلال جان کر اس پر عمل پیرا ہونا اور قرآن نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان چیزوں سے اجتناب کرنا، یہ قرآن کا ہم سب سے تقاضہ ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا حق ہے۔

عام طور پر جب قرآن سمجھنے کی بات کی جاتی ہے تو ایک اشکال کیا جاتا ہے علماء نے قرآن کو مشکل بنادیا ہے اور اللہ کی آسان کتاب کو سمجھنے کے لیے 14 علوم سیکھنے کی شرط عائد کردی ہے۔ درحقیقت یہ ایک مشہور ومعروف غلط طور پر پھیلایا گیا ایک بیہودہ قسم کا الزام ہے جو علماء کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ قرآن سمجھنے اور اس کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کوئی بھی 14 علوم سیکھنے کی قید نہیں لگاتا۔ 14 علوم کی بات تفسیر قرآن سے متعلق ہے یعنی تفسیر قرآن بیان کرنے کے لیے اتنے علوم کا جاننا ضروری ہے، جن کو سیکھے بغیر قرآن کو کماحقہ سمجھا نہیں جاسکتا۔ عربی زبان میں کامل دسترس نہ ہوتو بندہ تفسیر قرآن کا اہل نہیں، عربی زبان میں ایک لفظ کے کئی معانی آتے ہیں۔ زبر زیر کے فرق سے زمین و آسمان کا فرق آجاتا ہے، بلکہ صرف زبر و زیر کے فرق سے بعض دفعہ معاملہ کفر تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ دراصل جو 14 علوم کی قید لگائی گئی ہے وہ تفسیر بیان کرنے کی ہے ایک شخص اسی وقت مفسر قرآن بن سکتا ہے جب اس کو 14 علوم پر کامل دسترس ہو، یہ شرط قرآن سمجھنے کے لیے ہرگز نہیں ہے۔ آپ علماء کی مفسرین کی مستند تفاسیر پڑھیں، ان کے دروس میں شامل ہوں انہیں پڑھنے اور سمجھنے کے لیے 14 علوم کی ہرگز ضرورت نہیں۔ ہاں اگر کوئی مفسر قرآن بننا چاہتا ہے تو لامحالہ اسے علوم القرآن پر دسترس حاصل کرنی ہوگی، مثلاً تفسیر قرآن کے لیے احادیث پر گہری نگاہ کا ہونا ضروری و لازمی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بعض آیات کی تشریح و توضیح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردی ہے تو جب آیت کا مفہوم زبان رسالت سے واضح ہوگیا تو پھر مزید قیاس آرائیوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اس طرح فصاحت وبلاغت کا علم جاننا بھی ضروری ہے، قرآن کہتا ہے کہ تمام اہل جہاں مل کر بھی قرآن کی طرح کی کوئی ایک سورت بھی نہیں بناسکتے۔ اب قرآن کی آیات اور قرآن کی سورتوں میں ایسی کونسی چیز ہے کہ جس سے یہ کتاب باقی کتب سے جدا ہورہی ہے تو ظاہر ہے اس کو جاننے کے لیے قرآن کی فصاحت و بلاغت کو جاننا ہوگا۔ مثلاً کوئی شخص آپ کے سامنے قرآن کی آیات اور عربی اخبار رکھ دے تو کیا آپ دونوں کے درمیان فرق کرسکتے ہیں؟ اللہ نے جو چیلنج دیا ہے کہ قرآن کے جیسی سورتوں کی طرح کوئی ایک بھی سورت نہیں لا سکتا تو ظاہر ہے اب قرآن میں موجود فصاحت و بلاغت کو سمجھنے کے لیے علم البیان یعنی کلام میں موجود فصاحت و بلاغت سمجھنا ہوگا، ورنہ قرآن کا اعجاز اور اس کا معجزہ ہونا یہ سمجھ نہیں آسکتا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ چودہ علوم کی قید تفسیر بیان کرنے اور مفسر قرآن بننے کے لیے ہےاور قرآن سے احکامات کا استنباط کرنے کے لیے لگائی گئی ہے، مطلقاً قرآن کو سمجھنے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کے لیے چودہ علوم کی کوئی قید نہیں۔ ہر شخص کو اجازت ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ تفاسیر قرآن کا مطالعہ کرے عربی سیکھ کر قرآن سمجھنے کی کوشش کرے، حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں قرآن کے حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔ ہماری اکثریت نے قرآن کو عملاً اپنی زندگیوں نے نکال دیا ہے، محض قرآن کو تلاوت کی کتاب سمجھ لیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہی ہماری بربادی اور رسوائی کا سبب ہے

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */