خوشگوار ازدواجی زندگی کے دس اصول - اکرام محمود

انسان کو اپنی زندگی کے لیے جس طرح ہوا اور پانی درکار ہوتا ہے اسی طرح ایک خاندان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان کا ادارہ شادی کے ذریعے وجود میں آتا ہے اور اس کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ چیزوں پر عمل کیا جائے۔

جداگانہ مزاج، عادات اور پس منظر کے ساتھ زندگی بھر ساتھ رہنے کا عہد کرنے والوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے حقیقی لطف اٹھائیں۔ اگر میاں بیوی کے درمیان محبت، وفاداری، خلوص اور احساس ذمہ داری ہو تو ان کی زندگی انتہائی پرلطف اور خوشیوں سے بھری ہوگی لیکن اگر حالات برعکس ہوئے تو اس رشتے کی افادیت بھی ختم ہوگی اور زندگی اجیرن بن جائے گی۔

اگر پینے کا صاف پانی میسرنہ ہو تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آئندہ پانی پینا ہی چھوڑ دیا جائے، بلکہ تمام تر کوششوں کا مقصد یہ ہوگا کہ صاف پانی مہیا ہو سکے کیونکہ زندگی کی بقا کے لیے پانی ضروری ہے۔ اسی طرح ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانا بھی ہمارے لیے اتنا ہی اہم مقصد ہونا چاہیے۔

اپنی زندگی سے حقیقی معنوں میں لطف اور خوشیاں حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل دس اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ ان اصولوں پر 100 عمل خوشگوار زندگی کی ضمانت ہے۔

۱) ذمہ داری قبول کیجیے (Take Your Responsibility)

ازدواجی زندگی میں سب سے ضروری اور پہلی چیز یہ ہے کہ اس رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ اس رشتے کو نباہنے اور اس کو حقیقی پر لطف بنانے کے لیے اپنامثبت کردار ادا کریں۔ اپنے اوپر لازم کر لیں کہ اس رشتے کو بچانا اور مضبوط تر بنانا صرف آپ کی ذمہ داری ہے۔

۲) کم طلب کریں، زیادہ دیں (Demand Less, Give More)

اپنی یہ تربیت کریں کہ آپ اس معاملے میں زیادہ حساس ہوں کہ آپ دوسرے فریق کو زیادہ سے زیادہ خوشیاں دینے والے بنیں۔ جب آپ زیادہ دینے والے بنیں گے تو اس سے آپ کے اندر اچھا احساس پیدا ہو گا۔ جو اس رشتے کو مضبوط بنائے گا۔ دونوں فریق جب اس اصول پر عمل کریں گے تو نتیجتاًاس رشتے کی اصل خوبصورتی سے لطف اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کے "مثالی" تعلقات اور عالمی سفارت کاری ( ذرا سی بات ) - محمد عاصم حفیظ

۳)فوری ردعمل کا اظہار نہ کریں (Delay in Reaction)

مختلف مزاجوں اور ذہنی سطح کے حامل افراد کے درمیان اختلاف فطری بات ہے۔ جب بھی کبھی دوسرے فریق سے آپ کے مزاج کے خلاف بات ہو تو آپ فوری ردعمل سے اجتناب کریں۔ جب اس کیفیت سے باہر نکل آئیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو خود یہ احساس ہو جائے کہ بات اتنی غلط نہ تھی جتنا آپ نے محسوس کیاتھا۔ اس اصول پر سختی سے عمل کرنے کی عادت ڈالیں۔ آپ زندگی کے ہر معاملے میں سکون محسوس کریں گے۔

۴) مخلص بنیں (Be Sincere)

ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں۔ وفاداری کو آخری درجے میں نباہنے کی کوشش کریں۔ اگر دوسرے فریق میں کچھ معاملات میں کمی ہے تو ایک مخلص دوست کی حیثیت سے اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کا جذبہ فریق ثانی پر اچھااثر ڈالے گا۔

۵) کھل کر تعریف کریں (Appreciate amply)

انسانی نفسیات کے ما ہرین یہ بتاتے ہیں کہ اگر دوسرے فریق کی کھل کر تعریف کی جائے تو اس سے اس کی شخصیت پر مثبت اثر پڑتا ہے اور اس کے معاملات میں بہت بہتری آتی ہے۔ مثلاً اگر بیوی کے کھانے میں ذائقہ نہ ہویاکم ہو تو اس کی تعریف بھرپور انداز میں کریں کچھ عرصے کے بعد اس کے واضح اثرات نظر آئیں گے۔

۶) باہمی دلچسپی کے امور بڑھائیں (Develop Common Interest)

خوشگوار ازدواجی زندگی کا چھٹا اصول یہ ہے کہ میاں اور بیوی اپنی مشترکہ دلچسپیاں زیادہ سے زیادہ بڑھائیں۔ جتنی زیادہ دلچسپیاں بڑھیں گی اتنا ہی حقیقی لطف بھی بڑھے گا۔

۷) اپنی توقعات کم کریں (Let Go Of Expectation)

زندگی میں دوسروں سے جتنی توقعات کم سے کم رکھیں گے۔ اتنا ہی زندگی کو آسان پائیں گے۔ ہماری زندگی میں زیادہ تر لڑائیاں اور رشتوں میں دوریاں توقعات کے زیادہ ہونے سے ہوتی ہیں۔ اس اصول پر عمل ہی آپ پر زندگی میں خوشیوں کے دروازے کھول دے گا۔

۸) معاملات پر تنقیدکریں، فردپر نہیں (Criticize Matters, Not Person)

آٹھواں اصول مضبوط تعلقات کے لیے نہایت ضروری ہے جب دو افراد کے درمیان معاملات ہوں گے تو ان میں خرابیاں بھی آئیں گی۔ اب اس کو کس طرح حل کیا جا ئے یہ اصول ہماری رہنما ئی کرتا ہے۔ جب آپ کو تنقید کرنی ہو تو صرف اس معاملے پر کریں لیکن فریق کی شخصیت کو ہدف تنقید نہ بنائیں۔ اس بات کی خلاف ورزی دلوں میں بہت سخت دوری کا باعث بنتی ہے۔ اور اس طرح رشتے کی بنیاد ہل جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کے "مثالی" تعلقات اور عالمی سفارت کاری ( ذرا سی بات ) - محمد عاصم حفیظ

۹) اختلافات کے ساتھ جینا سیکھیں (Learn To Live With Differences)

یہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ سب کچھ ہماری مرضی سے نہیں ہوتا۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے اپنی اس معاملے میں اچھی طرح تربیت کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ دوسرے کا حق تسلیم کرتے ہوئے اختلاف کو قبول کریں۔ آج ہمارے معاشرے کو اس اصول پر عمل کی سخت ضرورت ہے۔

۱۰) دوسروں کے سامنے مت لڑیں ( Do Not Argue In Presence of People)

خوشگوار ازدواجی زندگی کا یہ دسواں اصول ہے دونوں فریق یہ بات اپنے اوپر لازم کر لیں اور عہد کریں کہ وہ کبھی بھی بچوں اور دوسرے لوگوں کے سامنے نہیں لڑیں گے۔ اپنے معاملے کو الگ بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ میاں بیوی کا دوسرے لوگوں کے سامنے لڑنا ہی مستقل چپقلش کا باعث بنتا ہے۔ اور اس طرح انا میں آ کر غلط فیصلے ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے سامنے لڑنا ان کی شخصیت کو برباد کر دیتا ہے۔

زندگی بہت مختصر ہے، اس سے بھرپور خوشیاں حاصل کرنے کے لے اس کوبھرپور انداز سے گزارنا ضروری ہے۔ جس کے لیے عملی طور اس کی تربیت حاصل کرناہر ایک کے لیے لازم ہے۔ مندرجہ بالا اصولوں کی مدد سے اپنی زندگی میں خوشیاں لائیں اور اپنے خاندان کو بھی اس میں شریک کریں۔ یہ اصول صرف ازدواجی زندگی میں ہی خوشیوں کے ضامن نہیں، بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ زندگی کی قدر کیجیے۔ اس کے ہر لمحے سے حقیقی فائدہ اٹھائیں۔ کوئی چیز اس دنیا میں مفت نہیں ملتی۔ اپنی تربیت اچھے انداز میں کریں۔ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زندگی سے خوشیاں مانگیں۔