طلبا کیسے گزاریں فرصت کے اوقات - اشفاق پرواز

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ طلباء امتحان سے فارغ ہو کر تمام امور سے بے پروا ہو جاتے ہیں۔ امتحانات اختتام ہوتے ہی طلبا کو فرصت کے کافی سارے لمحات نصیب ہو جاتے ہیں۔ یہ فرصت اگر بہتر طریقے سے استعمال کی جائے تو عظیم نعمت ہے اور اگر غلط طریقے سے استعمال کی جائے توزحمت ثابت ہوتی ہے۔ صحت اور فرصت اللہ کی دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے ختم ہونے کے بعد ہی انسان کو اِن کی قدر ہوتی ہے۔ صحت تو پھر بھی بحال کی جاسکتی ہے مگر فرصت لوٹائی نہیں جاسکتی۔ آئیے ہم دیکھیں کہ فرصت کے اوقات کو ہم بہتر طور پر کس طرح استعمال کر سکتے ہیں:

شخصیت سازی:

آپ وہی ہیں جو آپ کی شخصیت ہے۔ شخصیت میں ہماری دلچسپیاں اور رجحانات، جذبات اور احسا سات، رابطے اور تعلقات وغیرہ ساری چیزیں آتی ہیں۔ مصروف ترین زندگی میں اپنی شخصیت کے ارتقاء کے لیے وقت نکالنا دشوار ہوگیا ہے۔ فرصت کے اوقات میں شخصیت سازی کا کام جنگی پیمانے پر کیا جاسکتا ہے۔ اپنی جسمانی وذہنی صلاحیتوں کو بڑھائے، اپنی فکر کو وسیع کیجیے، دلچسپیوں اور رجحانات کو صحیح رُخ دینے، اپنے تعلقات کو بہتر بنانے، اپنے احسا سات کو قابو میں کرنے، اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے، اپنے گفتگو واظہار میں وزن پیدا کرنے اور اپنی معلومات میں اِضافہ کیجیے۔ غرص اپنی خامیوں کی مشاندہی اور ان کے ازالہ کی کوششیں، اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور ان کو پر وان چڑھانے کی کوششیں کی جائیں۔ یوں تو ہر روز ہماری شخصیت میں نکھار آنا چاہیے، لیکن فرصت کے اوقات میں تو اس میں انقلاب آجانا چاہیے۔

مشغلے:

مشغولیت ایک ضروری صفت ہے۔ انسان کسی نہ کسی چیز میں مشغول رہتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر اُس کو مثبت چیزیں میسر نہ آئیں تو وہ منفی چیزوں میں مشغول ہوجاتا ہے۔ فرصت ملنے پر اپنے اآپ کو دلچسپ اور اچھے کاموں میں مشغول کر دینا بے حد فائدہ مند ہے۔ اِن مشغلوں سے رجحا نات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ صلاحیتوں کی پہچان ہوتی ہے، ذوق وہنر کو غزا فراہم ہوتی ہے، ذہن کو آرام و سکون ملتا ہے، اور ایک خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ احساسِ کمتری، تناؤ (Depression)اور مایوسی سے انسان کو نجات ملتی ہے۔ کام کرنے کا جزبہ اور دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ فرصت کے اوقات میں سارے مشغلے اپنائے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی کی عمر - جہانزیب راضی

مطالعہ:

غورو فکر، تجزیہ و تدبر کے لیے، ذہن کو وسیع کیجیے، حالات کو جاننے اور سمجھنے، الفاظ کا ذخیرہ جمع کرنے، اورمعلومات میں اضافہ کرنے کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ مطالعہ کے ذریعے ہی فکر و نظر میں گہرائی اور دُوراندیشی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ہی تخیل پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے وقتِ فرصت میں مطالعہ کرنے سے انسان اپنے آپ میں ایک مثبت انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ اچھی اور مفید کتابوں کا انتخاب اوران کا تسلسل کے ساتھ مطالعہ شخصیت میں تبدیلی کا با عث ہوتا ہے۔

تربیت:

تربیت کی انسان کو اشد ضرورت ہے۔ یہ ایک نہ تھمنے والا عمل ہے۔ جس کی بدولت انسانی زندگی میں نکھار آتا ہے۔ غلطیوں کی اصلاح، کمیوں اور کمزوریوں کو دور کرسکتا ہے۔ نئے حالات کا مقابلہ کر نے کی صلاحیت بہم پہنچتی ہے اور ایسا شخص کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہم فرصت کے اوقات کو تربیت کے لیے بہتر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

دنیوی معلومات میں کمی کو دور کرنے، قران کو صحیح طور پر پڑھنے، کئی زبانوں پر عبور حاصل کرنے کے لیے، کئی مضامین کی مشکلات کو دُور کرنے یاکمپیوٹر وغیرہ سیکھنے کے لیے فرصت کے اوقات کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کل کے کام:

رسول اللہﷺ نے فرمایا:ـــ ـ ’’ فرصت کو غنیمت جانو مصروفیت سے پہلے ‘‘، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرصت قیمتی شے ہے۔ مصروف ہونے سے پہلے اس کو غنیمت جان کر اس کا استعمال کرنا ہے۔ جب ہم مصروف ہوجائیں گے وقت کی قلت محسوس ہوگی، اُس وقت، وقت کی تنگی کی شکایت سے بہتر ہے کہ آجفرصت کے اوقات کل کے کاموں کی تیاری میں لگائیں۔ آئندہ آنے والے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے لائح عمل تیار کریں۔ ضروری سامان مہیا کرلیں اور کسی مسئلے کو مسئلہ بننے سے پہلے ہی فرصت کے اوقات میں حل کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی کی عمر - جہانزیب راضی

تعلقات:

تعلقات معاشرے کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے۔ گھروالوں سے ہوں یا رشتہ داروں سے، بزرگوں سے ہوں اساتذہ سے، دوستوں سے ہوں یانئے احباب سے، رشتہ قائم کرنے اور اس کو مضبوط کرنے، دکھ دردبانٹنے، مشورو ں کا تبادلہ کرنے، محبت بڑھانے، اعتماد حاصل کرنے کے لیے، ملاقاتیں ضروری ہیں۔ فر صت کے اوقات میں تعلقات استوار کرنے اور اُن کو بڑھانے کا بہترین موقع مل سکتا ہے۔ ان تعلقات کی بنیاد پر ہی آپ آئندہ ان میں دعوتی کام کر سکتے ہیں۔ ان کی حوصلہ اور ہمت افضائی کر سکتے ہیں۔ نیک اور اچھے کاموں میں ان کو شریک کر سکتے ہیں۔ ایک صحت مند اور صالح معاشرہ تشکیل دینے میں بھی تعلقات بہت حد تک بڑے کار آمد ہوسکتے ہیں۔

احتساب اور منصوبہ بندی:

کسی کام کی کامیابی کے لیے اور اس کو یرقی کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔ ایک اس کی منصوبہ بندی اور دوسرا احتساب، علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

صورت شمشیرہے دست قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب

زندگی جیسی قیمتی، پیچیدہ اور تیزرفتار چیز کے لیے تو احتساب بہت ہی ضروری ہو جاتا ہیں۔ لیکن زندگی میں اتنے زیادہ کام ہیں کہ ان کو منظم کرنے یاان کا احتساب کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ فرصت کے اوقات کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اپنے مقاصد واہداف، منہج عمل، آپ کو حاصل ہونے والے وسائل، راستے میں پیش آنے والے مشکلات اور ان کے ممکنہ حل کو بھی آپ نوٹ کرلیں، پھر آپ مقاصد واہداف حاصل کر نے کی مرحلہ وار منصوبہ بندی کریں۔ یاد رکھیے، کہ منصوبہ بندی، عمل آوری اور جائزہ ایسی چیزیں ہیں، جو زندگی کو کامیابی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.