آخری راؤنڈ - محمد عامر خاکوانی

پانامہ لیکس کے آنے سے جو پنڈورا باکس کھلا تھا، وہ تو شائد اتنا جلدبند نہ ہو، مگر جوکشمکش اس کے بعد شروع ہوئی، اس کا آخری راﺅنڈ چل رہا ہے۔ جے آئی ٹی کو جو وقت دیا گیا تھا، وہ ختم ہونے کو ہے۔ اصولی طور پر اسے دس جولائی کو رپورٹ جمع کرانی چاہیے، ممکن ہے کسی تکنیکی وجہ پر وقت بڑھانے کی درخواست کی جائے ، لیکن اگر ایسا ہو گیا ، تب بھی یہ معاملہ زیادہ طول پکڑتا نظر نہیں آتا۔ امکان یہی ہے کہ جولائی اس ایشو کے اعتبار سے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف یاتو مجرم ثابت ہو کر نااہل ہوجائیں گے یا پھر ان پر لگائے گئے الزامات بے وزن ثابت ہوں گے اور یوں میاں صاحب کو ایک ایسی کلین چٹ مل جائے گی، جس کے بعدان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات تو ہرگز نہیں لگائے جا سکتے۔ اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہے کہ میاں نواز شریف کے سیاسی مخالفین کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنماﺅںاور شائدشریف خاندان کو بھی یہ خدشہ ہے کہ وزیراعظم نااہل ہوجائیں گے۔ اگرچہ خاکسار کا ابھی تک یہ خیال ہے کہ میاں صاحب کے بچ نکلنے (بلکہ پھسل کر نکل جانے)کے اچھے خاصے امکانات موجود ہیں ، میرے حساب سے تو یہ کم از کم بھی ففٹی ففٹی والا معاملہ ہے۔

مسلم لیگ ن کی ڈکشنری میں مگر لگتا ہے کہ بچ نکلنے کی ففٹی پرسنٹ آپشن کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ سوفیصد جیتنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ اپنی حکمت عملی کے مطابق حکمران جماعت بتدریج آل آؤٹ وار کی جانب جا رہی ہے ۔ ہفتہ کی شام ایک ساتھ کئی وزیروں کی پریس کانفرنس اپنے اندر ایک واضح پیغام لئے ہوئے تھی۔وہ جے آئی ٹی پر تیز ، کاٹ دار جملوں سے حملہ آور ہوئے اور کھل کر کہا کہ قطری شہزادے کی تفتیش میں شمولیت کے بغیر تحقیقاتی رپورٹ نہیں مانی جائے گی۔ فوج یا ایجنسیوں کو کھل کر نشانہ بنانا شائد ابھی حکومت مناسب نہیں سمجھتی، مگر وہ بڑی ہنرمندی سے ایسے تمام اشارے دے رہے ہیں کہ لوگ جے آئی ٹی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ یا خفیہ اداروں کا سایہ دیکھنا شروع کر دیں۔کہنے کو تو وفاقی وزرا نے فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی باضابطہ جملہ نہیں کہا، مگر کوئی سادہ لوح شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ حکومت اداروں کے تصادم کو روکنے کے بجائے معاملات اسی طرف لے جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی میں شامل حساس اداروں کے نمائندوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، حالانکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں ان اداروں کے ارکان شامل ہونا معمول کی بات ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کیا ہوگا، اس حوالے سے مختلف آپشنز چل رہی ہیں۔ ماہرین کی رائے میں رپورٹ کی جانچ کےلئے بنایا جانے والا خصوصی بنچ ہی اب اس معاملے کو دیکھے گا کیونکہ دیگر دو جج صاحبان (جسٹس آصف کھوسہ ، جسٹس گلزار)نے اپنا فیصلہ پہلے ہی سنا دیا ہے، اب یہ تین جج صاحبان اپنی رائے دیں گے اور اگر ایک جج نے بھی وزیراعظم کےخلاف فیصلہ سنایا تو پھرمیاں صاحب نااہل ہوجائیں گے، کیونکہ پانچ ججوں میں سے تین کی اکثریتی رائے ان کے خلاف چلی جائے گی۔ مسلم لیگ ن کی اس معاملے پر گہری نظر ہے اور ان کے قانونی مشیر مختلف تجاویز دے رہے ہیں۔ چند دن پہلے ایک نئی لائن یہ بھی دی گئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فیصلہ کرنے کے لئے فل کورٹ بنایا جائے، یعنی سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان اسے دیکھیں۔ ایک نئے بنچ کی بات بھی چلائی جا رہی ہے،جس میں ان پانچ جج صاحبان میں سے کوئی بھی شامل نہ ہو۔ ویسے فل کورٹ اور نئے بنچ والی بات تو مذاق لگتی ہے، جان بوجھ کر ایسی تجاویز اور آرا دی جا رہی ہیں، مطلب وہی کہ جس قدر ہو سکے کیس لٹکایا جائے۔ حکومت کے لئے حالات خاصے نازک ہیں،اس موقعہ پر میڈیاہاؤسز بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ طریقہ کار دلچسپ ہے۔ پہلے کسی صحافی سے اخبار میں کوئی سٹوری شائع کرائی جاتی ہے، پھر وفاقی وزراء اپنی پریس کانفرنس میں اس خبر کا حوالہ یوں دے گا جیسے خدانخواستہ وہ کسی صحیفہ سے لی گئی ہو۔ یہی صورتحال ٹی وی ٹاک شوز میں بھی جھلکتی ہے۔ کسی خاص پروگرام میں مخصوص سوچ رکھنے والا اینکر ایک وکیل سے بات کرے گا ، اس سے اپنی من پسند بات کراکر یوں تفاخر سے اسے پیش کیا جائے گا، جیسے تمام مسائل کا حل نکل آیا ہے ۔ یوں لگتا ہے وزیراعظم ہاﺅس میں بنے میڈیا سیل کا کام روزانہ ایک نئی درفنطنی چھوڑنا اور ایک نرالی تھیوری سے لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ ایک خاص لائن ہے جسے پہلے مسلم لیگی رہنما بولتے ہیں، پھر ٹی وی ٹاک شوز میں وہ بات چلتی رہتی ہے، اگلے روز بعض کالم نگار اس بات کو رنگ روغن کر کے اس پر کالم لکھ ڈالتے ہیں۔ ایسی ایسی عجیب وغریب تاویلیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جائے ۔ وہ جو اعتدال اور دلیل سے بات کرنے کے دعوے دارتھے، لگتا ہے انہوں نے یہ دونوں خصوصیات کہیں بیچ کھائی ہیں۔ اب بس ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکمران جماعت کا دفاع کیا جائے، میاں نواز شریف کو معصوم عن الخطا ثابت کیا جائے اور اپوزیشن پر لعن طعن کی جائے ۔

اگلے روز دانشوروں کی محفل میں ایک پروفیسر صاحب کہنے لگے کہ میاں نواز شریف پر کرپشن کا کیس تو ہے ہی نہیں۔ چندلمحوں تک تو میں بھونچکا رہ گیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ کیا بولیں۔ پھر ہمت کر کے انہیں سمجھایا ، ”حضور والا ! یہ کیس ہے ہی کرپشن کا ، اس کے علاوہ تو اور کوئی معاملہ ہی نہیں۔ برطانیہ میں نواز شریف فیملی کی جائیداد ہے ، یہ بات پچھلے بیس پچیس برسوں سے میاں صاحب کے مخالفین کہہ رہے تھے، مگر مسلم لیگی قیادت اسے الزام کہہ کر رد کر دیتی تھی۔ پانامہ لیکس کے ذریعے پہلی بار ایسا ہوا کہ لندن کے فلیٹس کی ملکیت میاں نواز شریف کے صاحبزادوں کے نام ثابت ہوگئی۔ پانامہ سکینڈل کے خوف سے حسین نواز شریف نے اپنے ٹی وی انٹرویوز میں یہ بات ازخود مان لی۔ پانامہ لیکس کے بعد میاں نواز شریف نے سیاسی چال چلی اور خود کو مظلوم اوربے گناہ قرار دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی تجویز دی۔ یوں یہ معاملہ عدلیہ کے سپرد کرنے کا کام خود میاں صاحب ہی نے کیا۔ ان کے صاحبزادوں نے جائیداد کی ملکیت مان لی تو اگلا سوال یہ پیدا ہوا کہ جب یہ فلیٹس لئے گئے ، اس وقت تو صاحبزادگان بچے تھے ، کہاں سے پیسے لئے۔ یہی وہ منی ٹریل ہے جس کے لئے تمام تگ ودو ہوئی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ میاں صاحب نے ملکی خزانہ سے لوٹ مار کر کے رقم غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی یعنی منی لانڈرنگ کی۔ میاں صاحب اس سے انکاری ہیں، مگر انہیں پھر باہر سے ایک مکمل منی ٹریل ثابت کرنا پڑے گی ،جوکہ وہ کرنے میں ناکام رہے۔اس کےلئے قطری خط کی
ضرورت پڑی۔ اندازہ لگائیں کہ نواز شریف فیملی کس قدر پھنسی ہوئی تھی کہ اس نے قطری خط لانے کی شرمندگی برداشت کر لی ، کیونکہ یہ انکے پچھلے تمام موقف کی نفی تھی اور میاں صاحب کو علم تھا کہ ملک میں کسی نے قطری خط کو حقیقت تسلیم نہیں کرنا۔ اس کے باوجود قانونی تقاضے نبھانے کےلئے ایسا کرنا پڑا۔ یہ اور بات کہ جے آئی ٹی کے سامنے قطری شہزادہ پیش نہ ہوا اور اب خدشہ ہے کہ اس خط کی قانونی حیثیت مشکوک ہوجائے گی۔ “

اس تمام تفصیل سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ پورا کیس کرپشن کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میاں نواز شریف بے گناہ ہیں تو وہ ضروریہ بات کہے، مگر براہ کرم یہ تو مان لیں کہ سپریم کورٹ میں کیس اور جے آئی ٹی کا یہ تمام گورکھ دھندا کرپشن کیس کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے کی کوشش ہے۔ اسی طرح اب یہ بات بھی نہ کہی جائے کہ جنرل مشرف کے خلاف کیوں نہیں مقدمہ چلایا جاتا۔ اس لئے کہ جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ حکومت نے چلانا ہے اور اس میں اب کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ عدالتیں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے چکی ہیں، وزارت داخلہ چاہے تو کل ہی پرویز مشرف کا ریڈ وارنٹ جاری کر دے، ایسے میں عالمی پولیس یعنی انٹرپول کے ذریعے مشرف کو گھسیٹ کر ملک واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام حکومت نے کرنا ہے، اگر اپنی کسی مصلحت یا کمزوری کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو اس کا طعنہ تو نہ دے۔ ویسے تو ہر معاملے میں ایجنسیوں کا ہاتھ دیکھنے کی غلط روایت بھی اب ختم ہونی چاہیے۔ اگر کوئی ایشو ان کے حق میں سیٹل ہوجائے تو پھر ٹھیک ہے، جہاں کہیں ان کے خلاف کچھ گیا، وہاں فوراً اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹ لائے۔ لندن فلیٹس خریدنے کا مشورہ اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا کیا ؟ پانامہ لیکس بھی کیا پاکستانی حساس اداروں نے کیں؟ اسی طرح قوم سے خطاب ، پارلیمنٹ میں تقریر اور مختلف موقعوں پر مختلف موقف اپنانے کے پیچھے بھی خفیہ اداروںکی سازش تھی؟ کس نے کہا تھا کہ اچھی طرح رٹا بھی نہ مارو اور ہرجگہ مختلف بات کہو؟کیاقطری خط لانے کا احمقانہ مشورہ بھی کسی ادارے نے دیا تھا ؟جو غلطیاں خود کیں، اس کے نتائج بھی خود ہی بھگتناہوں گے، دوسرے کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش ہر بار کامیاب نہیں ہوسکتی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */