ہم لکھنے کی مشق کیسے اور کہاں سے کریں؟ - آخونزادہ عبدالسبحان

کسی بھی فن و ہنر کو سیکھنے کے لیےاُس فن کا جنون ہونا لازم ہے۔ دنیا میں کسی بھی کام میں مہارت پیدا کرنے لیے محنت، لگن اور تسلسل کےبغیر ترقی ناممکن ہے، اس کے بعد اگرجنون ہوگا تو پھر آدمی ہر جگہ اپنےلیے راہ نکال ہی لیتا ہے۔ یہ رکاوٹیں، کمزوریاں و نالائقیاں رفتہ رفتہ ختم ہوجاتی ہیں۔ آپ کہیں گے وہ کیسے؟

وہ ایسے کہ اُس کے لیے ساز گار ماحول اور بہترین دوستوں، لکھے پڑھے طلباء اور نیک سیرت لوگوں کی صحبت اختیار کرنا بے حد ضروری ہے، سمجھ دار لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا شروع کریں، اِسی طرح سوشل میڈیا پر بھی اچھے تعلقات اور بہترین لکھاریوں سے دوستیاں بنائیں، وٹس ایپ اور فیس بک کے اچھے گروپ جوائن کریں، جہاں سوشل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی بہتات ہے وہاں اچھے خاصے کورسز اچھے لکھاریوں کے زیر نگرانی نہایت کم فیس یا فری میں پڑھائے جاتے ہیں، اس کا مثبت استعمال کرکے مثبت نتائج حاصل کریں، یہاں بہترین لکھاری لکھتے ہیں۔ یہاں احتیاط کرنا بھی لازمی بات ہے کیونکہ لاتعداد گروپس اور پیج کا چکر لگانے اور اِدھر اُدھر گھومنے پھرنے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اس کے لیے سینیئر دوستوں سے مشورہ لیتے رہیں۔ اِسی طرح اساتدہ، علمی دوستوں اور کتابوں کے روپ میں ماحول میسر آہی جاتا ہے اِس کے بعد اپنی طرف سے کوشش کرتے رہیں۔

ایک بات یاد رکھیں لکھائی کی خوبصوتی و جاذبیت اصل میں ہاتھ سے لکھی ہوئی لکھائی کی ہوتی ہے، یہ دلوں کو اپنی خوبصورتی کی بنا پر موہ لیتی ہے، اس کی افادیت و اہمیت سے تو انکار نا ممکن ہے۔ لیکن اب زمانہ تبدیل ہوچکا ہے کمپیوٹر کا زمانہ ہے اور دھیرے دھیرے موبائل کی طرف یہ کام بڑی تیزی سے پلٹنے لگا ہے۔ تو ظاہر بات ہے جو دیگر علوم کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جتنا باخبر ہوگا اُتنا ہی اچھا لکھاری ہوگا۔ ہمارے اکثر احباب جدید آلات سے بے خبر ہے، اس لیے وہ کچھ خاص کام سر انجام نہیں دے پارہے، انہیں چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور کمپیوٹر کے استعمال کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے مثبت پہلوؤں پر غور کرکے استعمال میں ضرور لائے، حقیقت میں وہ باکمال لوگ ہیں لیکن، وہ اس کام کوصحیح طرح سمجھنے سے قاصر ہونے کے سبب وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتے، دوسرا یہ کہ کچھ میری طرح لکھاری ہیں جن میں مجھ سمیت اکثر کاغذ پر ایک جملہ لکھنے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں ہر وقت اپنی غلطیوں کا فکر دامن گیر رہتا ہے اس لیے وہ کاغذی ڈائری لکھنے کی کوشش نہیں کرتے جی جناب بلا جھجک لکھیں ابتداء میں غلطیاں ہوتیں رہتی ہیں، آہستہ آہستہ لکھتے لکھتے یہ ازخود ختم ہوجاتی ہے۔ اب چونکہ موبائل اور کمپیوٹر پر اصلاح کے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں جس سے بہت کم وقت میں وہ لکھ کر تصحیح کے بعد پوسٹ کرنا بڑا آسان طریقہ ہی اپنا لیتے ہے۔ ہاں جو ٹائپنگ اور ٹیکنالوجی سے واقف ہیں لیکن کاغذ سے نفرت کرتے ہے، تو یہ رویہ بھی ٹھیک نہیں دونوں قابل افسوس ہے۔ کاغذ یعنی اپنی ڈائری میں لکھنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور موبائل فونز پر، بھی لکھنے کی، مشق کرنی چاہیے، اور خوب کرنی چاہیے مسلسل مستقل مزاجی سے انسان مشکل سے مشکل تر چیز کو حاصل کر لیتا ہے جس کی ہمارے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */