انسان کی ترقی اور سعیِ کائنات کا راستہ - عبداللہ ابنِ علی

آئیے آج انسان کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں مطلب کہ انسان نے خود کو کیا جانا اور درحقیقت جان نہ سکا۔ کتابِ الٰہی نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ میں نے تمہیں بہت سی مخلوق میں فضیلت بخشی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ قرآن میں بے شمار اور جگہ پر اللہ نے خود انسان کو مخاطب کرکے خصوصاً اُس کی عقل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے تحقیق و ترقی پر اُبھارا ہے۔ اُسے پوری زندگی گزارنے کا بہت ہی خوبصورت اور عمدہ طریقہ سِکھلادیا ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہ انسان ہی ہے جو اپنی اور کائنات کی تخلیق پر غور کرنے کے بجائے آپس میں لڑائی جھگڑا کررہا ہے، کبھی رزق کے حصول کی خاطر دوسرے انسان کا معاشی قتل کررہا ہے، شہرت و عزت کے چکر میں دوسرے انسان کی ناجائز تذلیل کرکے اپنا وقارخود ہی کھو رہا ہے اور طاقت کے حصول کے لیے دوسری سرزمین میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ جبکہ خداوندِ تعالیٰ نے اس رزق، دولت شہرت اور عزت کے معاملات کا بہت پہلے ہی بتادیا ہے۔ جی ہاں! میں یہاں صرف قرآن کی ہی بات نہیں کررہا بلکہ اگر آپ صحیفوں کو اُٹھا کر دیکھیں تو اُس میں بھی آپ کو بہت سے احکام بالکل وہی ملیں گے جو قرآن میں بیان ہوچکے ہیں زندگی گزارنے سے متعلق چہ جائیکہ اُن صحائف میں انسان نے ہی ردّ وبدل کردیا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمیں تو تمام کتبِ آسمانی پر ایمان لانے کا حکم ہے لیکن شریعت صرف محمدِ مصطفی ﷺ ہی پر چلنے کا حکم ہے۔ علماء حق اوردانشوروں کا یہی خیال ہے کہ انسان کی اس تنزّلی کی وجہ یہی ہے کہ یہ قرآن سے دور ہے۔ علاّمہ اقبالؒ کا جوانی کا ایک قصّہ بہت مشہور ہے اُنہیں والد صاحب کا بلاوا آیا کوئی ضروری بات کرنا تھی وہ بھی براہِ راست، کام سے جیسے ہی فرصت مِلی فوراً دوڑے چلے آئے، والد نے پوچھا کتنے دن کی فرصت مِلی ہے، کہنے لگے تین دن، پوچھا وہ کیاخاص بات کہنی تھی آپ کو؟ والد نے کہا ابھی اُس کا وقت نہیں آیا۔ اگلے دِن دوبارہ گئے وہی جواب مِلا، اندر ہی اندر مچل رہے تھے کہ بس ایک اور دن کی مہلت ہے نامعلوم پھر دوبارہ موقع ملے نا ملے۔ تیسرے اور آخری دن پہنچے والد صاحب کے پاس اور پھر دریافت کیا تو والد صاحب نے کہا بیٹا! تجھے اتنی فکر تھی میری اُس بات کی تو سُن 'قُرآن کو ایسے پڑھا کر جیسے یہ ابھی ابھی نازل ہوا ہے '۔ والد صاحب کی یہ نصیحت کا پاس اقبالؒ نے ایسے رکھا کہ لکھنے والے لکھتے ہیں علّامہ سے زیادہ قُرآن کو کوئی نہ سمجھ سکا۔

بہرحال یہ کوئی معمولی بات تو نہیں کہی گئی تو راقم نے خود سے تحقیق کی کیسے یہ قصّہ درست ہوسکتا ہے لیکن جب سے کلامِ اقبال پڑھنا شروع کیا تو جو باتیں پہلے سمجھ نہیں آسکی تھیں آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگیں اور اُن کے کلام کے کچھ حصہ کو چھوڑکر بہت ساری نظم و اشعار کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے اس حکم کو کہ 'تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟' کی آسان سی تشریح کردی ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کیا واقعی انسان کی خودی اور کائنات کی سعی کو قرآن سے حاصل کیاجا سکتا ہے؟ جی ہاں، اس بات کا جواب وہ نو مُسلم ہیں جو اسے پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں، مجھے کہنے دیجیے وہ لوگ سُنی، شیعہ اور وہابی نہیں ہورہے الحمداللہ مُسلمان ہورہے ہیں۔ اور نہ صرف یہ نو مُسلم بلکہ وہ لوگ بھی جو موروثی طور پر فرقہ بندی میں بٹے ہوئے تھے۔ فرقہ بندی کی نحوست سے اپنا ایمان بچاتے ہوئے غالبؔ کہتے ہیں، 'کیوں کر؟اُس بُت سے رکھوں!جان عزیز کیا نہیں ہے؟ مجھے ایمان عزیز!۔ کیا واقعی ہم نے قُرآن کی اہمیت کھودی ہے؟ یا اپنی قدر کھودی ہے؟ جب ہم قرآن سے دور ہونگے تو نہ صرف ایک کلام سے بلکہ کائنات کے سب سے بڑے معجزے سے دور ہوجائیں گے۔

نبیﷺ کا فرمان ہے مفہوم 'ہر نبی کو اُس کے معجزے کی بدولت اُس کی اُمت دی جائیگی اور میرا (نبیﷺ کا) معجزہ یہ قرآن ہے اللہ اس کے ذریعے میری اُمت بڑھادے گا(متفق علیہ)۔

اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہمیں خود کو اور کائنات کو سمجھنے کے لیے قرآن سے قریب کرنا چاہیئے یا نہیں۔ بقول اقبال ؒ 'بے خبر ! تو جوہرِ آئینہ ء ایام ہے تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے'، 'اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ توُ قطرہ ہے ٗ لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے'۔