قطر اور عرب ممالک کا بحران - پروفیسر جمیل چودھری

ایران اور سعودی عرب کے اختلافات تو کافی عرصے سے سنتے چلے آرہے تھے لیکن ایک چھوٹے سے ملک قطر کے ساتھ بڑے عرب ممالک کے اختلافات جب منظر عام پر آئے تو دنیا حیران رہ گئی۔ پھر 13نکاتی مطالبات کی فہر ست تسلیم کرنے کے لیے صرف10 دن دیئے گئے۔ اب یہ مختصر عرصہ گزرنے کے بعد قاہرہ میں چار عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے مزید48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ دنیا میں کوئی کتنا ہی چھوٹا اور کمزور ہو، الٹی میٹم کی زبان کو کوئی بھی نہیں مانتا۔ ہرریاست کی عزت اور وقار ہوتا ہے۔ عربوں کے الٹی میٹم کے انداز کو دھمکانا ہی کہاجاسکتا ہے۔ قطر نے8جون کو ہی مطالبات ماننے سے انکار کرکے اپنے وقار کا اظہار کردیاتھا۔ دنیا میں ایسا پہلے بھی کبھی نہیں ہوا کہ صرف الٹی میٹم اور دھمکی سے کوئی ریاست گھٹنے ٹیک دے۔

اب ہم بڑے عرب ممالک نے چھوٹے سے قطر سے جومطالبات کئے ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے بڑا مطالبہ الجزیرہ ٹیلی وژن کو مکمل طورپر بند کرنا ہے۔ اس سے پہلے عرب قوم کا کوئی بھی آزاد رائے رکھنے والا نشریاتی ادارہ نہیں تھا۔ عربوں کے تمام ادارے چاہے وہ اخبار ہوں، ریڈیو اسٹیشن ہوں اور یا ٹی وی سٹیشنز، سرکاری کنٹرول میں چلتے آرہے تھے۔ مصر میں آزادی کا اظہار کرنے والے نشریاتی اداروں پر پابندیاں فوری طورپر لگادی جاتی تھیں۔ سعودی عرب میں تو بادشاہت کے ہوتے ہوئے آزادی اظہار کا کوئی تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی حالات شام عراق اور دوسرے عرب ممالک کے تھے۔ یہ جرات صرف قطر کے دوستوں نے کی۔ حکومت نے بھی اس کے لیے فنڈز مہیا کئے اور1996ء میں الجزیرہ کا عربی ایڈیشن شروع ہوا اور پھر 2006ء میں اس ادارے کی نشریات انگریزی زبان میں پوری دنیا میں سنی جانے لگیں۔

یہ عربوں کی طرف سے تازہ ہوا کا پہلا جھونکا تھا۔ دونوں کے لیے پڑھے لکھے اور اپنی رائے رکھنے والے سٹاف کو بھرتی کیاگیا اور اب ان کی تعداد 3000تک ہوچکی ہے۔ الجزیزہ نے اب پوری دنیا میں اپنی پہچان اور ساخت بنالی ہے۔ ان کی خبروں اور اداریوں کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ کسی بھی نشریاتی ادارے کو خصوصی مقام سالہا سال کی محنت کے بعد ہی ملتا ہے۔ الجزیرہ انگلش کو پاکستان میں بھی بہت پسند کیاجاتا ہے۔ چارعرب ممالک کا مطالبہ سب سے بڑا یہی ہے کہ اس ادارے پر مکمل طورپر پابندی لگائی جائے۔ چھوٹی موٹی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی ادارے نے اپنا500سٹاف کم کردیا ہے۔ مکمل پابندی کا مطلب پورے ادارے کے3 ہزار سٹاف کو بے روزگاری کے سپرد کرنا ہے۔ مصر اور سعودی عرب کا یہ مطالبہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ اس کا قصور اخوان المسلمون اور حماس کی حمایت بتایاجاتا ہے۔ سعودی عرب پہلے خود بھی ان دونوں تنظیموں کا حامی رہا ہے۔ عرب ممالک اب ایسی تنظیموں سے خوف کھارہے ہیں جو سیاسی اسلام کی نمائندگی کرتی ہیں۔

سعودی عرب چونکہ اب اسرائیل سے قریب ہورہا ہے لہٰذا اسے فلسطین کی آزادی کا نام لینے والی حماس بھی اچھی نہیں لگتی۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سعودی عرب کی لائبریریوں سے مولانا مودودی کا انقلابی لٹریچر بھی نکال دیاگیا ہے۔ عربوں کی یہ پالیسیاں مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ الجزیرہ پر پابندیوں کا مطالبہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ پھر یہ مطالبہ کہ قطر ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرے اور تجارتی لین دین بھی نہ کرے، اس سے بھی دوراندیشی بالکل نہیں جھلکتی۔ مسلم ممالک کو آپس میں زیادہ بہتر تعلقات رکھنے چاہیے۔ چند سال پہلے ایرانی صدر احمدی نژاد کا استقبال ریاض میں ہورہا تھا اور سعودی کراؤن پرنس تہران میں او آئی سی کے اجلاس میں شریک تھے۔ مکمل تعلقات کا خاتمہ تو صرف چند ماہ پہلے ہوا۔

عربوں کو چاہیے کہ قطر کو ایران سے اچھے تعلقات کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ الٹا اس پر زور ڈالیں کہ وہ بھی ایران سے تعلقات ختم کرے۔ ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ قطرمیں ٹھہرے ہوئے لٹے پٹے اخوان المسلمون کے سربراہوں کو قطر سے نکال دیاجائے۔ یہ مطالبہ انسانوں اور خاص طورپر مصری مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے والی بات ہے۔ کیا مصر کے بعد کوئی بھی مسلم ملک ان کو پناہ نہ دے؟ انسانی اور اسلامی نقطہ نظر سے اسے غیر اخلاقی مطالبہ ہی کہاجائے گا۔

قطر میں برادر اسلامی ملک ترکی کا ایک چھوٹا سا فوجی اڈا بھی ہے، اس کے خاتمہ کا مطالبہ بھی فہرست میں شامل ہے۔ اس سے بھی بڑا فوجی ہیڈ کوارٹر تو وہاں امریکہ نے بھی بنایا ہوا ہے اور امریکی ہیڈ کوارٹر توپورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے بارے تو کوئی بات نہیں کی گئی۔ امریکہ کے آگے تو آپ بچھے جارہے ہیں اور ترکی کا چھوٹا سا فوجی اڈا آپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

مطالبات کی پوری کی پوری فہرست صرف اور صرف قطر کو مصر اور سعودی عرب جیسے بڑے ملکوں کے آگے جھکنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قاہرہ میں مصر، عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ قطر کے ردعمل پر ہمیں افسوس ہے۔ قطر نے ہمارے مطالبات کو اہمیت نہ دیکر اچھا نہیں کیا۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہم مناسب وقت پر مزید اقدامات کا اعلان کریں گے اور یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ان مطالبات کا مقصد قطر کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مددکرنا ہے۔ بہتر صورت یہ ہے کہ چاروں عرب ممالک کی طرف سے قطر کو بامعنی مذاکرات کی دعوت دی جائے۔ مطالبات کو سامنے رکھ کر ایک ایک پر سیر حاصل گفتگو ہو۔ جب تک دوسرے فریق کا نقطہ نظر نہ سنا جائے اس وقت تک مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوتے۔ دونوں جنگ عظیم کے بعد بھی آخر مذاکرات کی خوبصورت میز ہی سجائی گئی تھی اور معاملات حل ہوگئے تھے اور چاروں عرب ممالک اور قطر کے درمیان توکوئی جنگ بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی۔

سعودی عرب کی ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے قطر کو دعوت دے۔ مذاکرات کی دعوت کویت جیسے غیر جانبدار ملک میں ہو۔ مذاکرات میں مسائل تب حل ہوتے ہیں جب کوئی بڑے یا چھوٹے ہونے کا تصور نہ ہو۔ سعودی عرب کو اپنی بڑی ریاست یا زیادہ دولت مند ملک کے تصور سے نیچے آکر بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔ الٹی میٹم اور دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، حالات مزید خراب ہوں گے۔ مسلمانوں کے حالات ہر سطح پر خراب ہورہے ہیں۔ خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم، ہرطرف اختلافات اور جھگڑے، یورپ اورامریکہ اس ساری صورت حال سے خوش ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑ کر برباد ہورہے ہیں۔ شیعہ-سنی اختلافات کیا کم تھے کہ اب رہی سہی کسر عرب خودبھی لڑ کر پوری کررہے ہیں۔ اختلافی مسائل کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کرحل کرنا مدبر حکمرانوں کی علامت ہوتی ہے۔ قطر اور باقی عرب ممالک کے اختلافات کو بھی ایسے ہی حل ہونا چاہیے۔