جاپان اور پاکستان فرق کیا؟ - عبد الباسط بلوچ

جاپان سے واپسی ہوئی، دوست احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے دوستوں نے ایک سوال پوچھا آپ نے جاپان اور پاکستان میں کیا فرق محسوس کیا؟ پاکستان میں کیا نہیں جو وہاں آپ کو ملا؟ وقتی طور پر کچھ چیزیں تو گنوا دیتا ہوں اور ان کو مطمئن بھی کر دیتا ہوں لیکن سوچا کیوں نا اس کو ترتیب سے عوام کے سامنے رکھوں؟

انسانی اعتبار سے موازنہ کریں تو جاپانی ایک ذمہ دار اور فرض شناس قوم ہیں۔ ان کو اپنے ہر کام کا احساس بھی ہے اور ادراک بھی۔ ہم ٹائم پاس اور عارضی سوچ کے حامل ہیں، فرض شناسی کا مطلب حاضری کو سمجھتے ہیں، کام کرنے کو نہیں۔ ائیرپورٹ ہی سے اس کا احساس شروع ہو جاتا ہے اور آخر تک ساتھ رہتا ہے۔ پاکستان سے جہاز کی سواری سے جاپان میں جہاز سے اترنے تک سب ہی بدلا ہوا نظر آتاہے۔ پھر وقت کی ناقدری ہمارا قومی امتیاز بن چکا ہے جبکہ وقت شعاری ان کی کامیابی کی کنجی ہے۔ مزاج میں شائستگی، چال میں میانہ روی، اخلاق میں برتری، چہرے پر مسکراہٹ، جذبہ خدمت کی فراوانی، اپنے اقدار اور قوانین کی پاسداری ان کا شعار ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے پیش آناان کی ذمہ داری ہے۔ قانون کی پاسداری سے عملداری تک ہر چیزان کی عادت میں شامل ہے۔ کاروبار سے خریداری تک، سفر سے منزل تک، کام سے آرام تک، خوشی سے غمی تک عبادت سے معاملات تک، صبح سے شام تک، نوکری سے کاروبار تک، بازار سے گھر تک، وعدے سے عمل تک، اتنی ہی سچی، کھری اور پکی پائی گئی جس طرح جاپان کی چیزوں کے بارے میں پاکستان میں سوچ پائی جاتی ہے۔

یہ سب کچھ ان میں کیوں ہے، ہم میں کیوں نہیں؟ اس کا جواب بھی سن لیجیے۔ یہ سب اوصاف ان کے ایمانی نہیں کاروباری ہیں۔ یہی ان کی معیشت ہے یہی ان کی کامیابی ہے۔ ان کے خیال میں اس کے بغیر نہ ہم معاشی طور پر ترقی کرسکتے ہیں نہ قومی طور پر۔ لیکن ہم اس کے الٹ سوچتے اور کرتے ہیں۔ ہم انفرادی طور پر بہت اچھے ہیں لیکن اجتماعی طور پر ہم ناکام ہیں۔ ایمان، ہمارا زاد راہ اور اخلاق و کردار ہمارا رہبر ہو تو ہم بھی حقیقی پاکستانی قوم بن سکتے ہیں۔