جھوٹ میں سچ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

دو جھوٹ ہیں اور ان کے پیدا کردہ ہیجان نے پوری قوم کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے. ایک جھوٹ یہ ہے کہ میاں نواز شریف مظلوم ہیں اور پانامہ معاملے میں ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، دوسرا یہ کہ جو ہو رہا ہے اس کے پیچھے جذبہ محرکہ محض احتساب ہے.

مظلومیت کی بات اس لیے درست نہیں کیونکہ پانامہ پیپرز معاملہ سامنے آنے کے بعد خود وزیراعظم صاحب نے عدالتی کمیشن بنانے کی پیشکش کی اور اس کی تشکیل کے لیے عدالت عظمی کے چیف جسٹس صاحب کو خط بھی تحریر کیا. نیز پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر تقریر کے دوران میاں نواز شریف صاحب نے ایک بار پھر خود کو احتساب کے لیے پیش کیا. تاہم جب خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے اور تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بظاہر دلفریب پیشکش کے پیچھے خلوص جانچنے کا وقت آیا، یعنی اس کمیشن کے "ٹرمز آف ریفرنس" طے کرنے کا مرحلہ، تو حکومتی حلقوں کی گرم جوشی تیزی سے ماند پڑنے لگی. پارلیمنٹ میں موجود پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم ہوئی تاکہ مجوزہ تحقیق کی حدود اور طریقہ کار وغیرہ کا فیصلہ ہو سکے. اس مرحلہ کے آتے ہی حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش یہی دکھائی دی کہ معاملہ کسی طرح سرد خانہ کی نذر ہو جائے. اس رویہ کی ایک جھلک وفاقی وزیر خواجہ آصف کے اس بیان میں دیکھی جا سکتی ہے: "عوام چند روز میں اس معاملہ کو بھول جائیں گے". گویا ان کی نظر میں اس کمیٹی کے قیام کا مقصد مذکورہ چند روز گزارنے سے زیادہ کچھ نہیں تھا. بہرحال ایسا نہ ہو سکا. حالات ایسے بنتے گئے کہ سپریم کورٹ کو خود اس معاملہ کو براہ راست دیکھنا پڑا.

عدالت کی اس معاملہ میں مداخلت کا حکومت نے بظاہر تو خیرمقدم کیا لیکن بعد حکومتی طرز عمل اس بات کی تائید نہیں کرتا. ابتدائی عدالتی کاروائی کے دوران یہ بات بہت شدت سے محسوس کی گئی کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر وزیراعظم کے خلاف کسی قسم کی انکوائری یا معلومات کی فراہمی میں لیت ولعل سے کام لیتے رہے. بلکہ بعض معاملات میں تو سرے سے انکار ہی کر دیا. بادی النظر میں ان ک یہ خیال تھا کہ یہ ایسا کچھ نہیں تھا جس کے لیے وزیراعظم کی خفگی مول لی جائے.

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور اس کے ہمدرد حلقوں نے بظاہر پانامہ معاملہ کو نواز شریف صاحب کو حکومت سے نکال پھینکنے کے نادر موقع کے طور پر لیا. حکومت کا دعوی بھی یہی ہے کہ احتساب کا نام لے کر تحریک انصاف دراصل حکومت کا دھڑن تختہ کرنا چاہتی ہے. ان کا کہنا ہے پانامہ تو محض ایک اور بہانہ ان کے ہاتھ لگ گیا ورنہ پہلے بھی وہ 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کے نام پر اسلام آباد میں ایک طویل دھرنا دے چکے تھے. اس کا مقصد بھی وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنا ہی تھا. مزید وہ یہ بھی کہتے ہیں تحریک انصاف کی احتساب کے ساتھ بطور ایک نظریہ وابستگی کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ جب خیبر پختون خواہ کے احتساب کمیشن نے چند طاقتور افراد پر ہاتھ ڈالا تو صوبائی حکومت نے نہایت عجلت میں احتساب کے قانون میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کر دیں جس کی مخالفت میں صوبائی احتساب کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان نے احتجاجاً استعفی دے دیا. یہ فروری 2016 کی بات ہے. اب تک کے پی کے میں نئے احتساب کمشنر کی تعیناتی نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس بات کی تسلی بخش وضاحت ہی سامنے آئی ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے. ان مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی ترجیحات اصولوں پر غالب دکھائی دے رہی ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   میں نے جان اللہ کو دینی ہے - طارق حبیب

پانامہ کیس کے متعلق ایک بات سمجھ لینا چاہیے کہ جب بھی سیاست عدالتی معاملات سے مَس کرتی ہے تو ان کو بھی سیاسی بنا دیتی ہے. یہی سب کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں. وزیراعظم اور ان کے بچوں کو اسلامی تاریخ کے نہایت محترم مظلومین کے حوالے یاد آ رہے ہیں اور عمران خان اور تحریک انصاف کو جید منتظمین کے. گویا دونوں ہی "حق" پر ہونے کے دعویدار ہیں.

وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ عدالت کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش بھی ہو رہے ہیں لیکن ساتھ جے آئی ٹی پر کڑی تنقید کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں. غالباً وہ بھول رہے ہیں کہ اس سب کی پیشکش تو ان کی اپنی تھی. عدالتی کاروائی اور تفتیش تو ایسے ہی ہوتی ہے. بظاہر یہ تلخ گفتگو ایک حکمت عملی کا حصہ ہے. فیصلہ حق میں آئے یا مخالف، وہ گویا دونوں کے لیے بھرپور گراؤنڈ ورک کر رہے ہیں.

تحریک انصاف بھی عدالت کی حمایت کرکے قانون کی حکمرانی کی بھر پور تائید کا تاثر دے رہی ہے. تاہم اس کے ساتھ ہی محترمہ فردوس عاشق اعوان اور نذر محمد گوندل صاحب جیسے سیاسی چہروں کو بھی دھڑادھڑ پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ انتخابی معرکہ میں کامیابی کے امکانات کو بڑھاوا دیا جا سکے. یاد رہے نذر گوندل صاحب پر ای او بی آئی کے سرکاری فنڈز میں اربوں روپے کے گھپلوں پر مقدمات قائم ہیں.

صورتحال کے حوالہ سے بے یقینی کی کیفیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ عدیم المثال نہیں. پچھلے دور میں بھی ایسا ہی ہوا جب میموگیٹ اور سوئس اکاونٹس قومی افق پر ویسے ہی چھائے رہے جیسا کہ اب ڈان لیکس اور پانامہ پیپرز کا غلغلہ ہے. اس میں دو رائے نہیں میموگیٹ اور سوئس اکاونٹس کا مسئلہ بالکل حقیقی تھا، اور اہم بھی. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان دونوں کی ہینڈلنگ اور انجام سے یہ تاثر گہرا ہؤا کہ ان کا استعمال دراصل سیاسی مقاصد کے حصول لیے ہوا.

یہ بھی پڑھیں:   میں نے جان اللہ کو دینی ہے - طارق حبیب

عوام کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک چند ٹھوس اقدامات پر قومی اتفاق رائے استوار نہیں ہوگا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا. مثلاً، ایک یہ کہ اب تک کی کاروائی سے یہ بات ظاہر ہے کہ جب اداروں کو کام کرنے دیا جائے تو وہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں. وہی محکمے جو پہلے حکومتی اثر کی وجہ سے تحقیقات سے معذوری ظاہر کر رہے تھے قواعد و ضوابط کی آڑ میں تاخیری حربے اختیار کر رہے تھے وہ اب عدالت عظمی کی ہدایات پر متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات پیش کر رہے ہیں. میری نظر میں یہ بات اس کیس کا اصل حاصل ہے اور تمام صورتحال میں بڑا سچ. ہمارے ادارے نااہل نہیں، انہیں ناکارہ بنا کر رکھا جاتا ہے. اداروں کو ان کا کام کرنے دیں ان کی استعداد کار بھی بڑھے گی اور احتساب کا ایک خودکار نظام بھی وجود میں آ جائے گا. یہ امر سیاستدانوں کے اپنے فائدے میں ہوگا اور پھر نہ وہ بلیک میل ہوں گے اور نہ ہی انہیں کسی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا.
فی الوقت اہم یہ ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے دونوں فریق اسے اپنی اپنی سیاست کا چارہ بنانے کے بجائے بردباری سے اسے قبول کریں تاکہ ہم دائروں کی غلامی سے نکل کر سیدھی راہ پر قدم تو رکھیں.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.