جب "آئمہ" نہ تھے، تب دین مکمل نہ تھا؟ محمد زاہد صدیق مغل

"جب امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد ابن حنبل، اشعری، ماتریدی وغیرھم نہ تھے تو کیا دین مکمل نہ تھا؟ آخر میں ان میں سے کسی کی بات کیوں مانوں؟ کیا صحابہ کا ایمان انھیں مانے بغیر معتبر نہ تھا؟"

یہ ایک عمومی سوال ہے جسے مختلف عنوانات سے پیش کیا جاتا ہے۔ بظاہر معقول دکھائی دینے والا یہ سوال درحقیقت نہ صرف سطحی ہے، بلکہ بنیادی مسئلے کے غلط فہم پر بھی مبنی ہے۔ یہ سوال کہ "میں ان لوگوں کی بات کیوں مانوں؟" اس کا جواب ہے "تاریخیت کا ناگزیر جبر"۔ اس بات کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بیان مسئلہ کے لیے فی الوقت ہم کلامی ابحاث کے تناظر میں گفتگو کیے لیتے ہیں، فقہی ابحاث پر بھی یہ عمومی گفتگو تقریبا اسی طرح لاگو ہوتی ہے۔

دراصل معاملہ یوں ہے کہ دین کی کوئی ضروری بات بسا اوقات نصوص کے مجموعی مفہوم میں اگرچہ شامل ہوتی ہے مگر وہ کسی خاص وقت، سوال یا مسئلے کے تناظر میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مثلا مسئلہ جبر و قدر کو لیجیے، یا گناہ گبیرہ کے مرتکب کے ایمان کی بحث کو لیجیے، یا صفات باری تعالی کے بارے میں بعض ضروری ابحاث کو لیجیے۔ جب یہ یا ان کی مثل دیگر ابحاث سامنے آئیں تو اہل علم نے نصوص کی روشنی میں ان پر غور و فکر کیا کہ ان کے بارے میں بعض آراء ایسی ہیں جو نصوص کے منشاء کے صریحا خلاف ہیں، لہذا انھیں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس قسم کے بہت سے مسائل میں اصولی تنقیح کے بعد جب کچھ آراء "نپی تلی صورت" اختیار کرگئیں تو وہ مختلف گروہی عنوانات کی صورت اختیار کرتی رہیں (مثلا اشاعرہ، ماتریدہ، معتزلہ) جن میں سے بعض کو "لائن سے اس پار" اور بعض کو "دوسرے پار" کے طور پر سمجھا گیا۔ یہ ابحاث اگرچہ صحابہ کے دور میں موجود نہ تھیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دینی اعتبار سے کلیتا غیر مطلوب ہیں۔ دینی اعتبار سے کسی عقیدے یا عمل کے لزوم کا تعلق اس امر سے نہیں کہ آیا صحابہ کے زمانے میں اس کا ظہور ہوا یا نہیں، بلکہ اس سے ہے کہ آیا نصوص اس بارے میں کیا کہتی ہیں۔ اب جو شخص "ان ابحاث کے بعد" پیدا ہوا (اور وہ صاحب علم بھی ہے) تو اس کے سامنے تین آپشنز ہیں:
(الف) تاریخ میں بیان شدہ کسی ایک رائے کو درست سمجھے،
(ب) سب تاریخی آراء کو رد کرکے ایک نئی رائے اپنائے۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان سوالات، مسائل و ابحاث کو نصوص کی روشنی میں غیر متعلق ثابت کیا جائے (نہ کہ اس دلیل سے کہ چونکہ پہلے دور میں یہ بحث نہ تھی، لہذا غیر ضروری ہے کیونکہ یہ کوئی علمی دلیل نہیں)
(ج) تاریخ سے پیچھے چھلانگ لگا دی جائے۔ یاد رہے، "بعد کے دور کے" کسی شخص کے پاس یہ انتخاب کسی طور پر میسر نہیں کہ وہ ان معنی میں "تاریخ سے پیچھے" چلا جائے کہ ان ابحاث سے ماقبل دور میں جا کر ان سے غنی ہوجائے۔ یہ صرف ایک غیر حقیقی، غیر علمی و لامتصور مفروضہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رؤوف و رحیم رسول ﷺ -ڈاکٹر میمونہ حمزہ

جو حضرات درج بالا سوال اٹھاتے ہیں، ان میں سے اکثریت کا خیال یہ ہوتا ہے گویا انہیں صورت (ج) میسر آجائے گی جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ درحقیقت عملا وہ آپشن (الف) پر سوال کھڑا کرنے کے بعد (کہ میں کسی کو کیوں مانوں؟) آپشن (ب) کی صورت گری و تعمیر کر رہے ہوتے ہیں اور عنوان (ج) کا دے رہے ہوتے ہیں، گویا ان آئمہ کو رد کردینے کے بعد اب وہ صحابہ کے دور میں پیچھے چلے گئے ہیں اور براہ راست صحابہ کی طرح رسول اللہﷺ سے دین لے رہے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ فی الحقیقت وہ تاریخ کو رد کر کے ایک نئی رائے تعمیر کر رہے ہوتے ہیں (مثلا جیسے پرویز صاحب یا غامدی صاحب کر رہے ہیں)۔ اسے ہی "تاریخ کا ناگزیر جبر" کہتے ہیں کہ یا تو آپ تاریخ کو قبول کرتے ہیں اور یا اسے رد کرکے ایک نئی رائے اپناتے ہیں، آپ کسی طور "تاریخ سے پیچھے" نہیں جاسکتے۔

تو یہ سوال کہ میں اشعری، ماتری یا معتزلہ میں سے کسی ایک کو کیوں مانوں؟ اس کا جواب ہے تاریخ کا وہ لازمی جبر جس کا میں شکار ہوں اور جس سے مفر میرے لیے ممکن نہیں۔ میں یا تو یہ کرسکتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کو قبول کروں اور یا ان سب کو رد کرکے ان مسائل پر ایک نئی رائے تعمیر کر لوں، مگر میں ان کے ماقبل دور میں ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ تعبیر نصوص کے معاملے میں کسی ضروری مسئلے سے متعلق جو عقدہ تاریخ کے ایک خاص دور کے بعد کھلا، اس دور سے ماقبل دور میں بھی دین ان معنی میں مکمل تھا کہ وہ مسئلہ شارع کی ہمیشہ سے مراد تھا، اگرچہ ابھی ظاہر نہ ہوا تھا۔ جب ظاہر ہوگیا تو بعد والوں کے لیے اس کے بارے میں پوزیشن لینا لازم ہوگا، اسے "بائے پاس" کرنے یا اس پر اس قسم کے سوال اٹھانے کا کوئی مطلب نہیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.