رمضان، روزہ اور ہم - نورین تبسم

"دہشت گردی سے شرانگیزی کی جنگ تک"
اس میں شک نہیں کہ روزہ روزہ ہوتا ہے، دورانِ روزہ چاہے "سو سو کر جاگا جائے" یا جاگ جاگ کر سویا جائے۔ کیا دور آگیا ہے کہ وہ محاورے ماضی میں جن کی وضاحت کرنا پڑتی تھی، آج من و عن اُسی طرح برتے جا رہے ہیں۔ بات ہو رہی تھی سو سو کر جاگنے کی تواس کا عملی ثبوت ہمیں اپنی زندگیوں میں یوں اُمڈ اُمڈ کر ملتا ہے جب راتوں کو جاگنے والے صبح دم گھوڑے گدھے بیچ کر سوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ راتیں خواہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کٹیں، جناب میڈیا کے سامنے عقیدت کی چادر چڑھاتے ہوئے یا حب الوطنی کے اکلوتے ٹریڈ مارک "کرکٹ" کے میچز دیکھ کر۔

رمضان کا مہینہ سال کے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد آنے والا وہ بارھواں مہینہ ہے جو ہر نام نہاد پیدائشی مسلمان کو ایک بار تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دینی حمیّت جانچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کوئی کتنا ہی "موڈریٹ" مسلمان ہو یا نعوذ باللہ اسلام کی فرسودہ تعلیمات و پیغام کا زمانۂ حال کے مطابق پرچار کرنے والا لبرل عالم ِدین۔ اس ماہ کم ازکم ایک پل کو دل میں ہی سہی سوچتا ضرور ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟

ہمارے معاشرے میں اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلتا!
فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میں کہیں ایک انچ کی تبدیلی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے بازار اسی طرح پُررونق رہتے ہیں۔ ہمارے تعیشات اسی طرح جاری و ساری رہتے ہیں۔ ہماری ملکی سیاست اسی طرح چند افراد، چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔ ہماری افطاریاں ہماری سحریاں، دیسی بدیسی، طعام گاہوں کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں۔ جہاں بسا اوقات ایک فرد کے افطار یا سحر کا خرچ ایک پورے خاندان کے ہفتے بھر کے کھانے کےبرابر سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔

بھرے پیٹ کے دین دار امیر آدمی کے لیے تو پہلے بھی رمضان کا مہینہ عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتا تھا۔گرم موسم میں ڈائٹنگ کی مفت سہولت کے ساتھ ٹھنڈے کمروں میں کاروبارِحیات سرانجام دے کر سحر و افطار میں لذتِ کام و دہن بکھیرتی عالیشان کھانے کی میزوں سے لے کر افطارپارٹیوں کے "گیٹ ٹو گیدر" عین کارِثواب ہی تو ہیں۔ بقول شاعر "رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی"۔ اب میڈیا کے توسط سے رمضان کے "فیوض" میں عام آدمی بھی داخل ہو گیا ہے۔ وہ جس کو دو وقت کی روٹی کے لیے ہر روز کنواں کھودنا پڑتا ہے، اُس کے گھر میں اب ایک جادوئی ڈبہ موجود ہے جو کچھ پل کو ہی سہی، اپنے ماحول سے یکدم دور کر دیتا ہے۔ پیٹ کی آگ جو کبھی نہیں بُجھتی لیکن نفس کی بھڑکتی آگ ضرور ذرا دیر کو تسکین پانے لگتی ہے تو پیٹ کی بھوک پیچھے رہ جاتی ہے۔ ویسے بھی روزے کی حالت میں پیٹ کا یہ خطرہ دور ہی رہتا ہے۔ وہ پہلے دور کے قصے تھے، جب محض اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آتی تھی، اب ساری دُنیا کے گریبان میں دیکھ لو، ہر بات جائز اور منطقی ہے۔ اور کیا فرق پڑتا ہے کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزرے یا دین کی باتیں اپنے من پسند ریپرز میں لولی پاپ کی طرح چوستے۔ وہ دور گیا جب روزہ صرف بندے اور مالک کا معاملہ تھا، اب تو یہ بندوں اور چینلز یا پھر انسان اور بٹنز کے درمیان ہو کر رہ گیا ہے۔ حد ہو گئی ریموٹ کے بٹن ہوں یا ماؤس کا کلک، اور یا پھر موبائل فون کے پیکجز، ہر طرف عجب انہماک کا عالم ہوتا ہے۔

قرآن کا نسخہ جو رمضان میں اونچے طاقوں سے اُتر کر بڑے ذوق وشوق سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا تھا اور دل میں تہیہ کرتے تھے کہ قرآن پڑھنا ہے، خواہ ایک سے زیادہ بار مکمل پڑھیں، یا ایک بار ہی سمجھ کر پڑھیں۔ اب تو ٹرانسمیشن اشد ضروری ہے کہ "لائیو" ہے، جو گزر گئی تو ریکارڈنگ بھی نہ ملے گی، بس ابھی وقت ہے اس کی "نیکیاں" لوٹنے کا۔ قرآن تو چودہ سو سال سے ہمارے پاس ہے، اور محفوظ ہے اور ہم کون سا برا کام کر رہے ہیں؟ یہ تو عین دین داری ہے، دین کی باریکیوں کو جاننا۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ میڈیا کی چکا چوند ہمارے اندر کی روشنی سلب کر کے ہماری آنکھیں چندھیائے دے رہی ہے، اور ہم سوچنے سمجھنے سے عاری روبوٹ بنتے جارہے ہیں۔ کسی تعصب سے قطع نظر یہ بھی سچ ہے کہ سال کے گیارہ مہینے اگر چینلز پر خرافات دکھائی دیتی ہیں تو وہ اس ماہ مشرف بہ اسلام تو ہو جاتے ہیں۔ اب یہ اور بات کہ چاند رات کو سب چینلز پھر اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ زہر زہر ہوتا ہے چاہے اسے شہد میں ملا کر دیا جائے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس ایک ماہ میں میڈیا سے محبت کا ایسا بیج بو دیا جاتا ہے جو بانس کے درخت کی طرح خاموشی سے یوں پروان چڑھتا ہے کہ گھر کے بڑے جو دینی ذوق سے یہ نشریات دیکھتے ہیں، بعد میں اپنے بچوں کو روکنے ٹوکنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر دین کو پھیلانا بلاشبہ جہاد کا مقام رکھتا ہے لیکن کیا صرف اس ایک ماہ ہمارے جیّد عالم ِدین اور درد مند دل رکھنے والے اسلامی اسکالر پورے سال کا قرض چکا دیتے ہیں؟ کیا یہ محض مسلمان ہونے کی زکٰوۃ ہے جو سال گزرنے پر فرض ہو جاتی ہے؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   وجودِ باری تعالیٰ کا انکار: جاوید غامدی اور "ابویحییٰ" کے فتاویٰ - طارق محمود ہاشمی

ہمارا دینی شعور، ہماری اسلام سے محبت، ہماری قرآن سے دوستی، سال کے گیارہ ماہ بھی برقرار رہنی چاہیے. اس بینڈ باجے کے ساتھ نہ سہی یا پھر گھڑی کا الارم بھی نہ ہو جو ہڑبڑا کر جگا دے، بلکہ اس چاہت کو دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑی اس مدہم سی خاموشی کی طرح ہونا چاہیے جو سوتے جاگتے زندگی کی نوید دیتی ہے۔ سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں، پھر چینلز کو بھی چاہیے، اگر اسلام سے اتنی عقیدت ہے تو سال کے باقی مہینوں میں کیوں نہیں۔ اپنے "پیک آورز" نہ سہی، دن یا رات کا کچھ وقت ہر روز ایسے ہی "لائیو" پروگرام کیوں نہیں کرتے۔ ٹی وی جو ہرخاص وعام سے لے کر سب کے لیے ارزاں تفریح کا ایک ذریعہ ہے، وہاں دین و دنیا "محمود و ایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے، لیکن کون سا ایمان۔

ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے، اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے، اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائے، یعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137
سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275

وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ سارا فساد ''ہم'' کا پھیلایا ہوا ہے، جب سے ترقی یافتہ بننے کی صف میں کھڑے ہونے کی ہوس میں مبتلا ہوئے ہیں، ''میں اور تو''گزرے دور کی کہانی لگتی ہے۔ آسمان چھونے کی خواہش پیروں سے زمین نکال رہی ہے اور ہم بغیر کسی مشقت میں پڑے ''بو کاٹا'' کی صدا لگا کر گُڈیاں لوٹنا چاہ رہے ہیں۔ حد ہو گئی۔ ملک ہمیشہ کی طرح تاریخ کے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ دُشمن سرحد پار نفرتوں کی فصل کاٹ رہا ہے تو سرحد کی حد پر طبلِ جنگ بھی بجا رہا ہے. ملک کے اندر سیاہ ست دان آنکھوں پر طاقت کے کھوپے چڑھائے انا کی میوزیکل چئیرز میں مصروف ہیں تو بیمارِ وطن دیارِ غیر کی بہکی فضاؤں میں تالی بجاتے، کمر لچکاتے عجیب عالمِ فراموشی میں محو رقص نظر آتے ہیں۔ اہلِ اقتدار اگر جانے یا نہ جانے کے مخمصے میں گرفتار ہیں، تو اہلِ ہوس بچا کچا ایمان بھنبھوڑنے میں مصروف۔ مفاد کے غازے میں لتھڑا میڈیا دشمن ملک میں "اپنی ثقافت" کا ڈنکا بجانے والے فن کاروں کی ناقدری پر نوحہ کناں ہے تو حال سے بےحال ہم عام عوام نسلوں کی مایوسیوں کے بوجھ ڈھوتے جانے کب سے برہنہ پا چلتے چلے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   "مخلص و محقق" ملحد کے عذر کی دلیل اور عہد الست - محمد زاہد صدیق مغل

اس دور ِپُرفتن میں سب سے زیادہ خوشی دُشمن کو ہو رہی ہوگی تو سب سے بڑی ندامت بھی عظیم سُپر پاور کے ہی حصے میں آئی ہے کہ جو کام سالوں کے ڈرون نہ کر سکے، جو افراتفری دہشت گردی کے بڑے سے بڑے حملے نہ پھیلا سکے، جو کام ہماری قوم کے بڑے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی سازشیں نہ کر سکیں، جو کام "اِن" کے ایوان ِاقتدار کے پالے ہوئے نہ کر سکے، جنہوں نے قوم کی عفت و عصمت، غیرت و حمیت ڈالروں کے عوض گروی کیا ڈنکے کی چوٹ پر نیلام کر دی، اور جو کام زرد صحافت کے لفافے نہ کر سکے، جو کام روٹی روزی کی دوڑ میں اور ریٹنگ کے لالچ میں سرگرم میڈیا نہ کر سکا، اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس، دُنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی، ورلڈ آرڈر کا ورق ورق لکھنے والے بھی ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوں گے کہ یہ قوم تو محض لاتوں کی بھوت تھی اور صرف پہلا پتھر پھینکنے کی دیر تھی۔

کیا کہیں کہ پہلا پتھر کس نے پھنکا تھا اور بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی، بس یوں جانو کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"، ہم کیا جانیں۔ ہم تو بس لاشے اٹھائے جاتے ہیں، کبھی اپنوں کے کبھی سپنوں کے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
اس درد کی دواکرے کوئی

یہ اوپن سیکرٹ ہم جیسے عام لوگوں کو سمجھ آ رہا ہے تو پھر ہمارے "اعلیٰ" دماغ کہاں گھاس چر رہے ہیں؟ یہ بات بھول کیوں گئے ہیں کہ اس شاخ پر اُن کا آشیانہ بھی ہے۔ ہم عام عوام تو چلو پِس ہی رہے ہیں اور پستے رہیں گے۔ "وہ" تو پیدا ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر ہوئے ہیں یا ہمارے ٹیکس کے بل پر ہمیں کنٹرول کر رہے ہیں، بیرونی دشمنوں سے بچانے کے علم بردار بھی ہیں۔ کوئی بتائے ان کی ڈگریوں اور اندھےکی ریوڑیوں میں کیا فرق ہے؟ ہم جاہل ہی بھلے کہ کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ "قاتل ہے دلداروں میں". سچ کہا ہے کہ ۔۔۔چوراں نال "مل" گئی اے " یا چوراں نال "رل" گئی اے؟ ہم نہیں جانتے۔ جانتے ہیں تو بس یہ کہ اس میں ہر وہ شامل ہے جو جان کر بھی انجان بنا ہوا ہے۔

آنے والے وقت میں ممکنہ شرانگیزی کو روکنے کے لیے بحیثیت قوم ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ مسلک و فرقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر صرف اسلام اور پاکستان کو سامنے رکھنا ہے، ورنہ آج کل ہونے والے فساد میں آنے والے وقت کا نوشتہ دیوار دوسروں کے ہاتھ سے لکھا نظر آ رہا ہے۔

حاصل ِ کلام یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے آپ کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کی جائے کہ جو برائی ہے اس کو برائی جانا جائے اور عارضی چمک دمک کے پیچھے ابدی اندھیروں کا سودا نہ کیا جائے۔ اللہ ہمیں ہمیشہ کی طرح ہمارے اس خود کے پیدا کردہ عذاب سے نجات دے، مخلوق کے شر سے پناہ دے اور وسوسے ڈالنے والے شر سے بھی نجات دلائے۔ اللہ ہمیں دہشت گردی سے شرپسندی کی اس جنگ میں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے. آمین۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں