دلیل ایک ہوا محل - سعود عثمانی

باکمال صحافی اور ادیب برادرم عامر ہاشم خاکوانی نے اپنے کالم اور صحافتی تحریروں کے ذریعے تو اپنے معتقدات اور مشاہدات کو بیان کرنے کے لیے ایک پراعتماد لہجے کی بنا ڈالی ہی، لیکن دلیل کے نام سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو ہوا محل بنا کر لوگوں کے لیے ٹھکانہ بنایا، اس پر انہیں جتنا آفرین کہا جائے کم ہے. اور جتنی داد پیش کی جائے تھوڑی محسوس ہوگی.

ہندوستان کے گلابی شہر جے پور میں ایک شاہی محل، ہوا محل کے نام سے ہے. باہر سے اس کے رُوکار کے سامنے کھڑے ہوکر دیکھیں تو گلابی رنگ میں جھروکے ہی جھروکے پھوٹتے محسوس ہوتے ہیں، دریچے ہی دریچے شگفت ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور کھڑکیاں ہی کھڑکیاں کِھلتی نظر آتی ہیں.

ایک روایت کے مطابق اس محل میں ایک ہزار کھڑکیاں ہیں. مقصد یہ کہ راجستھان کی جھلسا دینے والی گرمی میں کمروں اور غلام گردشوں میں تازہ ہوا بےتکلف گھومتی پھرتی رہے اور حبس یا گھٹن کا شائبہ بھی نہ ہو.

دلیل ایک ہوا محل ہے.
معماروں نے جو آسانی اس کے رہائشیوں کے لیے پیدا کی ہے، ان سہولتوں نے بنانے والوں کے خلوص کے ساتھ مل کر ایک سال میں ہی دلیل کو غیر معمولی مقبولیت کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے.

آپ سب کو دلیل مبارک.دلیل کو سال گرہ مبارک.

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.