دلیل کو کامیابی کا یہ سفر بےحد مبارک - حیا حریم

جب زندہ آنکھیں دیکھتی ہیں، دماغ سوچتا ہے، دل تڑپتا ہے، اور زبان کچھ کہنا چاہتی ہے تو منتشر افکار، بکھرے احساسات لفظ بن کر قرطاس پر رنگ بکھیرتے چلے جاتے ہیں. بکھرے احساس، زخم خوردہ جذبات، اور کبھی مسکراتے جملے مل کر سامنے آتے ہیں، تو وہ صرف ایک رسم کتابت ہی نہیں رہ جاتی، بلکہ کہنے والے کے لیے ایک طاقت ہوتی ہے، اس کے بدیہی مؤقف کی ایک "دلیل" ہوتی ہے.

بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ
بہت سے کہنے والے، اور سوچنے والے کبھی اپنا مؤقف سنا نہیں سکتے اور کبھی اپنے افکار کے امڈتے سمندر کی موجزن موجوں کو سنبھال نہیں پاتے، یوں ان کی دلیلیں کمزور اور مؤقف ادھورا رہ جاتا ہے،
ایسے میں "دلیل" کے نام سے دلائل کو سامنے لانے کا یہ پلیٹ فارم نہایت عمدگی سے اپنا سال بھر کا سفر مکمل کر چکا ہے.

چونکہ دلیل نے سب کا خیر مقدم کیا، افکار کو قوت بخشی اور مستقل مزاجی سے اپنے مقاصد میں مگن رہی، حقائق کو سامنے لائی، اور بہت جلد قلمکاروں کی تحریریں شائع کر کے دلوں میں جگہ اور صحافت میں نام بنا لیا۔ میرے خیال میں تو انٹرنیٹ پر پھیلی صحافت کی دنیا میں بکھرے بے شمار صفحات اور پلیٹ فارمز میں دلیل وہ واحد ہے جس نے قلیل عرصے میں ایسی کثیر مقبولیت حاصل کی. سب کو خوش آمدید کہا، نامور لکھاری ہوں یا نوآموز قلمکار، طویل تحریر ہو یا مختصر انداز، دلیل نے سب کو خوش آمدید کہا، سب کی حوصلہ افزائی کی اور سب کا ساتھ دیا.

اس لیے دلیل اب صرف دلیل ہی نہیں، ایک قوت، ایک طاقت اور ایک نام بن چکا ہے. دلیل کو کامیابی کا یہ سفر بے حد مبارک ہو، اس کے دامن میں سدا عروج رہے، اور منتشر افکار کو زبان اور کمزور احساسات کو طاقت ملتی رہے، اور دلیل کی دنیا آباد رہے.

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.