نظام زکواۃ ہی ترقی کا ضامن - مظفر حسین بیگ

زکوۃ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔ اس کی اہمیت اور افادیت سے کس کو انکار، مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اپنوں کی غفلت شعاری اور غیروں کی ہوشیاری کس قدر ایک غور و فکر کی صورت اختیار کر چکی ہے. امت مسلمہ میں سے اکثر لوگ اس کے تئیں عدم دلچسپی کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے زکوۃ کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں مسلمان 300 سے لے کر 500 بلین ڈالر سالانہ ادا کرتے ہیں، اگر اس کا محض ایک فیصد بھی جنگوں اور قدرتی آفات سے بدحال و متاثر لوگوں کی امداد اور آبادکاری کے لیے فراہم کیا جاتا تو رقوم کی کمی، جوسالانہ 51 بلین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، کے بحران پر آسانی کے ساتھ قابو پایا جا سکتا ہے. یہی صورت حال وادی کشمیر کی بنی ہوئی ہے کہ یہاں کے کل صاحبان نصاب میں سے تقریباً پچیس فیصد افراد ہی باقاعدگی سے زکوۃ ادا کرتے ہیں جبکہ قربانیوں میں یہاں کے لوگوں کی مثال سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے. دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ 2005ء کے زلزلے،2008ء،2010ء اور 2016ء کی ایجی ٹیشن یا 2014ء کے قہر افشاں سیلاب میں کس طرح سے لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی، اور پھر سے زندگی سنوارنے پر اٹھ کھڑے ہوئے اور رواں جدوجہد آزادی میں کس طرح سے لوگ اپنی جانوں اور املاک وغیرہ کی قربانیاں دے رہے ہیں.

آخر کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے زکوۃ کے تئیں غفلت شعاری کی چادر اوڑھ لی ہے، جبکہ مصیبت کے ایام میں ہمارے پاس صرف یہی ایک سرمایہ اور ہتھیار ہے جس سے ہم کسی حد تک تنگ دست اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ آگ کے وقت کنواں کھودنے کی پالیسی عین موقع پر خود کشی کے مترادف ہے، جو بیت المال کمیٹیاں 2016ء میں وجود میں لائی گئیں، کتنا بہتر ہوتا کہ پہلے ہی اس پر غور و فکر کیا ہوتا۔ پوچھا جاسکتا ہے جس قوم کے افراد قید و بند کی صعوبتیں پچھلے 70 سالوں سے گزار رہے ہیں، جن کے مرد و زن کو بلاامتیاز تختہ مشق بنا کے لہولہان کیا جا رہا ہے، جن کے جگر گوشوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے چھینی جا رہی ہے یا جو کروڑوں کے نقصان پر اف بھی نہیں کرتے، تو ایسے قوم میں زکوۃ کا اجتماعی نظام رائج کیوں نہیں ہوسکتا؟ کیا اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں جنہوں نے صرف ڈیڑھ اینٹ کی مسجد اور فروعی مسائل تک اپنی دعوت کو محدود رکھا ہے یا جو مسلکی بنیاد پر اس قوم کے بٹوارے کیے ہوئے ہیں. دیکھا جائے تو یہ زمین بہت ہی زرخیز ہے، وادی کے ضلع بارہ مولہ کے ٹاؤن کے ایک فلاحی ادارے ادارہ فلاح الدارین کی مثال ہمارے لیے ایک نمونہ عمل ثابت ہوسکتی ہے جس کو چند نوجوانوں نے پندرہ سال پہلے وجود میں لایا۔ یہ مخلصانہ محنت اور مسلسل جدوجہد اور جذبہ ایثار کا ثمر ہے کہ 83 ہزار کا بجٹ 2015ء میں ایک کروڑ دس لاکھ تک پہنچا۔

انہوں نے 2025ء تک قصبے میں غربت کے خاتمے کا عزم کیا ہوا ہے. یہ وادی کے ایک ٹاؤن میں کام کا معمولی خاکہ ہے. یہی جذبہ اگر اپنایاجائے تو عین قریب یہاں کوئی لینے والا نہیں ملے گا۔ اسی طرح سے یتیم فاوئڈیشن، یتیم خانہ اور سخاوت سنٹر کے علاوہ بھی بہت سارے فلاحی ادارے ریاستی سطح پر منظم طریقے پر یتیموں، بیواؤں، محتاجوں اور سماج کے دیگر ضرورت مندوں کی فلاح وبہبود میں پیش پیش رہتے ہیں.

زکوۃ سے ہماری عدم دلچسپی نے ہم کو اس قدر محتاج بنا دیا ہے کہ ایک انسان کو دو سو روپیہ کی عوض دس دس بار سوشل ویلفیئر دفاتر اور بنکوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں. کیا ایسی ذلت، رسوائی اور وقت کا ضیاع اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے؟ کیا ابوبکر صدیق ؓ نے مانعین زکوۃ کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا قرآن پاک میں نماز کے ساتھ اکثر جگہوں پر زکوۃ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے؟ کیا ہماری وادی میں ایک سروے کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ یتیم موجود نہیں ہیں؟ جو گزشتہ 72 برسوں کے دوران بھارت مخالف تحریک کے نتیجے میں والدین سے محروم ہوگئے۔ اوان میں 73 فیصد ایسے یتیم بھی شامل ہیں جوماں اور باپ دونوں کی شفقت سے محروم ہوئے ہیں. کیا یہ حقیقت ہمارے سامنے نہیں ہے کہ صرف دس فیصد ہی یتیم خانوں کے اندر زندگی گزار رہے ہیں؟ باقی ماند ہ یتیم بچوں کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہ کس حال میں زندگی کے ایام کاٹ رہے ہیں. ایسی صورت حال ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ باہمی اور مسلکی اختلافات کو چھوڑ کر زکوۃ کے اجتماعی تصور کے بارے میں کوئی ٹھوس پالسی اختیار کریں،اور یتیم خانوں کے ساتھ ساتھ بنیادی سطح پر ان کی تعلیمی اور جسمانی پرورش کا اہتمام کریں۔