گرم موتی : محمد مبین امجد

میں نے کبھی خود کو اتنا بے بس و مجبور نہیں محسوس کیا جتنا آج کر رہا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو ابل رہے تھے۔۔۔۔ گرم موتی کے جیسے۔۔۔۔ چمکنے والے ‘ بہنے والے گرم آنسو انسان کی فریاد ہیں ۔ پرانی یادوں کے ترجمان ہیں ‘ یہ آنسو انمول خزانہ ہیں ‘اور یہ خزانہ کمزور کی قوت ہیں۔ مگر آج مجھے یہ خزانہ لٹانا ہی تھا۔
٭٭٭٭٭
آج مجھے یہ خزانہ لٹانا ہی تھا کہ آج میں دوسری مرتبہ یتیم ہوگیا تھا۔ مگر نہیں شاید پہلی مرتبہ ہی ہوا تھا۔ آج بابا جی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔
یہ بابا جی کون تھے؟ کیا تھے؟؟ کہاں سے آئے تھے؟؟؟ میں نئیں جانتا۔ ہاں انہوں نے مجھے اور مجھ ایسے کئی بچوں کو پالا۔۔اپنا نام دیا۔۔ اور ان کو معاشرے کا ایک اہم اور فائدے مند شہری بنایا۔
ہم شاید معاشرے کا وہ گند تھے جن کیلیے آج تک کوئی کچرا کنڈی نہیں بن سکی تھی۔ میں کون تھا؟ کیا تھا؟؟ اور بابا جی نے مجھے کہاں سے اٹھایا تھا؟؟؟ میں نہیں جانتا۔
میری حقیقت تو محض ایک لمحاتی لطف اور گناہ کے چند موتی تھے۔
گرم موتی۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
میں نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو خود کو ایدھی ہوم میں پایا۔ میں کس کی اولاد تھی نہیں پتا۔
ماں اور باپ کا پیار پانا تو ایک طرف کبھی ان کا نام بھی نہ جان پایا۔
ہاں مگر میرے بابا جی کو ساری دنیا جانتی ہے۔ انہوں نے شاید مجھے کسی کچرا کنڈی سے اٹھایا تھا یا میرے گناہگار والدین مجھے جھولے میں ڈال گئے تھے۔۔۔ مجھے کیا پتہ۔ اور۔۔۔
اور مجھے پتہ چل بھی کیسے سکتا تھا۔ میں تو معصوم تھا۔
٭٭٭٭٭
مردوں کے اس معاشرے میں میرے بابا جی ایک بہار اور زندگی کی علامت تھے۔ انہوں نے کتنے ہی ایسے بچوں کو نئی زندگی دی جن سے ان کے ماں باپ نے منہ پھیر لیا۔۔۔
بچے ۔۔۔۔
بچے تو ذمہ داری کا دوسرا نام ہیں۔۔ اور ان پارکوں اور کلبوں میں محبت کرنے والے ذمہ داری کو کیا جانیں۔۔۔ ان کو تو بس اپنی وحشتوں کے پانی سے غرض تھی۔۔۔
وحشتوں کا پانی۔۔۔۔ گرم موتیوں ایسا۔۔۔ صاف اور شفاف ایسا کہ اس سے پیدا ہونے والی اولاد اگر بیٹی ہو تو رحمت اور بیٹا ہو تو نعمت۔۔۔۔۔ مگر یہی پانی جب گناہ سے، ناجائز طریقے سے نکلے تو عزتیں داو پر لگ جائیں۔ اور پھر۔۔۔۔۔
اور پھر انہی عزتوں کو بچانے کیلیے رات کے اندھیروں میں کوئی اپنے جسموں کی غلاظت جھولے میں ڈال جاتا ہے۔۔۔ کوئی قتل کر دیتا ہے اور کوئی اس غلاظت کو، اس کچرے کو کچرا کنڈی میں پھینک جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭
میری آنکھوں سے گرم موتی نکل نکل کر میرے رخساروں پہ بہہ رہے تھے کہ آج میرے بابا مجھے چھوڑ گئے تھے۔۔۔
مگر وہ بھی ایسی کوئی بات نہیں کہ ساری دنیا کے بابا چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر
٭٭٭٭٭
اج میرے بابا کے جنازے پہ ملک بھر کے سرکردہ لوگ آئے تھے۔۔۔اور میں نے کبھی خود کو اتنا بے بس و مجبور نہیں محسوس کیا جتنا آج کر رہا تھا۔ کیونکہ آج میں یتیم ہوا تھا۔۔۔
اور مجھے ہی سکیورٹی رسک قرار دے کر میرے بابا کے جنازے سے روک دیا گیا تھا۔۔۔مجھے جسے ساری عمر بابا ن اپنے سینے سے لگا کر رکھا تھا ۔۔۔ مجھے ہی جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔
٭٭٭٭٭
اور شاید اسی وجہ سے میرے آنسو تھے کہ رک ہی نہیں پا رہے تھے۔۔ یہ آنسو ۔۔۔۔
گرم موتیوں سے آنسو شاید ایک غریب ہی کی پونجی ہوتے ہیں جسے وہ وقت آنے پہ لٹاتا اور کھلے دل لٹاتا ہے۔
اور آج مجھے بھی یہ خزانہ لٹانا ہی تھا کہ میں یتیم جو ہوا تھا۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.