ایک سال کی دلیل! - ام الہدی

”دلیل“، بچپن میں جب کتابوں اور کہانیوں میں یہ لفظ پڑھتی یا سنتی تھی تو ایک رعب کا احساس الفاظ کے مطلب ڈھونڈھنے میں محسوس ہوتا تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ لفظ سماعت تو کیا خیالات و احساسات کے پردوں سے بھی فزوں سے فزوں تر ہوتا گیا۔

اپنے اردگرد کی بدلتی دنیا میں گفتگو کو بحث اور بحث کو تہذیب کے دائرے سے باہر جاتے دیکھا۔ اور رعب کی جگہ ڈر اور خوف نے لے لی۔ سلسلہ شاید یونہی جاری رہتا، اگر سماجی رابطہ کی جدت اور ذرائع ابلاغ کو ایک ہی دھاگے میں نہ پرویا جاتا۔

اور پیارے ادارے دلیل نے یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام دے کر باطل پر حق کی دلالت قائم کر دی۔ سچ اور حق کے متلاشیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں چیزوں کی منظرکشی فلسفے کی نہیں دلائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جہاں مثالوں کو نظریات کو دھندلا کرنے کے لیے نہیں بلکہ واضح کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ تیزی سے ہاتھوں سے نکلتی میراث کی فکر جتنی دلیل کے آئینے میں مجھے نظر آئی اُتنی کہیں نہیں دیکھی۔

اور یہ اسی وجہ سے ہے کہ یہاں مصنف سے زیادہ الفاظ اور اُن میں محفوظ سچائی کی قدر کی جاتی ہے۔ یہاں ترجیحات حق سے شروع اور دلائل پر ختم ہوتی ہیں۔ یہاں اپنے قارئین کو بھی وہی مقام دیا جاتا ہے جو اپنے مصنف حضرات کو دیا جاتا ہے۔ اور میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ دلیل کے ساتھ کسی بھی سطح سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص خود کو دلیل کا ایک حصہ سمجھنے کےاحساس سے ضرور آشنا ہوا ہوگا۔ جب اتنے کم عرصہ میں مجھے دلیل میری فیملی کی طرح کا احساس دیتی ہے تو آغاز سے اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے احساسات و جذبات یقیناا ناقابل اظہار ہوں گے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ اتنے کم عرصہ میں اتنی شہرت، عزت اور وقار ملنےکی وجہ دلیل کے یہی سنہری اُصول ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آج ہماری شادی کی 31 ویں سالگرہ ھے- لالہ شمس

دلیل کی بہت ساری خوبیوں اور کاوشوں کے ساتھ ایک بہترین اور ناقابل فراموش کاوش یہ ہےکہ دلیل نے صرف ایک سال کے کم ترین عرصہ میں نوجوانوں کو پھر سے تحریر اور مطالعہ کی طرف راغب کر دیا ہے۔ 27 رمضان المبارک کے خاص اور بابرکت دن جو اس مملکت خداداد کا بھی معرض وجود کا دن ہے اور دلیل کا بھی، اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دلیل کا مشن اُس کے کام، نا،٫ نظریہ اور منزل حق کی جانب سفر بذات خود دلائل ہیں۔ دلیل کو اُس کی پہلی سالگرہ نیک تمناؤں اور کامیابیوں اور کامرانی کی دعاوں کے ساتھ مبارک ہو۔

اللہ حق اور سچ کے لیے کی جانے والی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.