مفید مطالعہ کیسے کیا جائے؟ محمد فہد حارث

دوست نے پوچھا کہ مطالعہ کیسے کیا جائے کہ وہ آپ کے لیے مفید ثابت ہو۔ دیکھیے مطالعہ کی بابت کچھ چیزیں اپنی سرشت میں شامل کرلیجیے، پہلی یہ کہ مطالعہ ایسے موضوع کی کتب کی ورق گرادنی سے شروع کیجیے جن سے آپ کو براہ راست دلچسپی ہو، تاکہ آپ کی کتب بینی و مطالعہ کی عادت بنے۔ بعض لوگ پوری نیک نیتی سے علم کے حصول کے لیے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ ان کی کتب بینی کی عادت نہیں ہوتی، سو کسی دینی کتاب کے دو چار صفحات پڑھ کر ہی ان کی طبیعت اکتا جاتی ہے اور وہ کتاب سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں، اس لیے سب سے ضروری ہے کہ مطالعہ کی عادت پیدا کی جائے۔ اپنے پسندیدہ موضوع سے شروعات کریں، جس کو تاریخ پسند ہو وہ تاریخ پڑھے، جس کو حدیث وہ حدیث، جس کو قرآن وہ قرآن اور جس کو تنقیدی لٹریچر، وہ تنقیدی لٹریچر کا مطالعہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر کسی کو ڈائجسٹ پڑھنا پسند ہیں تو ڈائجسٹ پڑھے کہ اس کے اندر کتب بینی کی عادت پیدا ہو۔ ان شاءاللہ اس پریکٹس سے چند ہی ہفتوں میں آپ میں کتب بینی کی عادت پیدا ہوجائے گی اور ہر طرح کی کتب کے مطالعے کے لیے خود کو آمادہ پائیں گے۔

اب جب ایک دفعہ کتب بینی کی عادت پیدا ہوجائے تو اب آپ مطالعے کے اصول و ضوابط مقرر کرلیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی دینی مدرسہ کے طالب علم نہیں ہیں، بلکہ از خود دینی کتب کا مطالعہ کرنا چاہ رہے ہیں تو پھر آپ پر لازم ہے کہ آپ سب سے پہلے اصول الدین سے متعلق کتب پڑھیں، جیسے اصول تفسیر قرآن، اصول حدیث وغیرہ۔ اس بابت زیادہ دقیق کتب پڑھنے کے بجائے بازار سے بنیادی و آسان فہم کتب خریدیں جو کہ مبتدی طلبہ کے لیے لکھی جاتی ہیں اور بآسانی دستیاب ہوتی ہیں، تاکہ مشکل اصطلاحات میں الجھ کر آپ بیزاری کا شکار نہ ہوں۔ مبتدی طلبہ کے لیے لکھی گئی آسان فہم کتب میں مشکل اصطلاحات کا استعمال نہں ہوتا۔ اس طور سے آپ کے ذہن میں ایک ایسا خاکہ تیار ہوجائے گا جو کہ ہر طور کی دینی کتب کے مندرجات کے صحیح یا غلط ہونے کی بابت آپ کی مدد کرسکے گا، اس طور سے غلط طور سے پیش کی گئی تعلیمات یا گمراہ افکار سے متاثر ہونا آپ کے لیے آسان نہ رہے گا اور آپ کے لیے کسی بھی کتاب کے مندرجات کی صحت کو جانچنا چنداں مشکل نہ ہوگا۔ البتہ اگر آپ پہلے سے ہی کسی دینی مدرسہ میں زیرتعلیم ہیں تو چونکہ اصول دین کی درسی کتب آپ کے نصاب میں شامل ہوں گی، آپ کو ان کو الگ سے پڑھنے کی قطعی حاجت نہیں۔ آپ اپنا مطالعہ کسی بھی نہج سے شروع کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

کوشش کیجیے کہ اپنے مسلک کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلک کے علماء کو بھی پڑھیں اور بغیر کسی طور کا تنقیدی ذہن بنائے کچھ سیکھنے کے لیے پڑھیں۔ صرف یہ سوچ کر پڑھیں کہ آپ ایک عالم کو پڑھ رہے ہیں، البتہ اس کے دلائل کا جائزہ لیتے رہیں۔ عموما ہم یہ غلطی کرتے ہیں کہ ہم جب بھی کسی دوسرے مسلک کے عالم کو پڑھتے ہیں تو ان سے کچھ سیکھنے کے بجائے دراصل ان کی غلطیاں پکڑنے کے لیے ان کو پڑھتے ہیں۔ یہ قطعی مناسب طرز عمل نہیں، یہ چیز آپ کی ذہنی وسعت کو بڑھنے سے روکے گی اور آپ کو تنگ نظر بنائے گی۔ کسی بھی کتاب کا مطالعہ اس میں پیش کردہ دلائل کی روشنی میں کریں اور کتاب پڑھتے ہوئے قبولیت کا جو مارجن آپ اپنے مسلک کے عالم کو دیتے ہیں، وہی دوسرے مسلک کے عالم کو بھی دیں، بشرطیکہ اس کے پیش کردہ دلائل آپ کو متاثر کرسکیں۔

دوسرے مسلک کے علماء کی کتب پڑھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے اندر وسیع النظری و رواداری پروان چڑھے گی، اور آپ اتفاق نہ کرنے کے باوجود بھی فریق مخالف کی پوزیشن کو سمجھ سکیں گے۔ یہ طرزعمل آگے جاکر مذاکرے اور تحریر میں آپ کی بہت مدد کرے گا اور آپ کا قلم و لہجہ، تحریر و گفتگو دونوں مواقع پر شائستگی سے اختلاف کرے گا، جو کہ فریق مخالف کی نظروں میں آپ کے مؤقف کو قبولیت نہ سہی لیکن سوچ و بچار کرنے کے لائق ضرور بنادے گا۔ مختلف مسالک کے علماء کی کتب کے مطالعے کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو اپنے مسلک کے علاوہ دوسرے مسلک کے علماء سے حسن ظن پیدا ہوگا اور ان کی قدر آپ اپنے اندر محسوس کریں گے۔ اختلاف رکھنے کے باوجود آپ کو ان سے سیکھنے کا موقع ملے گا اور ساتھ ہی آپ کے اندر سے تشدد پسندی و فتوی بازی کا رجحان معدوم ہونے لگے گا۔

مطالعے کے زیر اثر کسی بھی طور کا نظریہ جب آپ کے اندر پروان چڑھنے لگے اور مختلف نظریات میں سے آپ کو وہ ہی ایک نظریہ راجح لگے تو اس نظریے کو مکمل طور سے اپنانے سے پہلے اس نظریے پر کی جانے والی تنقیدی کتب کا مطالعہ بھی ضرور کریں، اس کی مثال اس طور سے سمجھیں کہ بعض دفعہ انسان کو اپنی خامیاں اس وقت تک نہیں پتہ چلتیں جب تک کوئی دوسرا اس کی توجہ اس طرف نہ کروائے، بالکل اسی طور سے بعض دفعہ ہم ایک نظریے کے درست ہونے کے قائل ہوکر اس کو اپنا رہے ہوتے ہیں تو عموما اس نظریے سے متعلق سلبی یا مرجوح دلائل ہمارے سامنے نہیں ہوتے، لیکن جب کوئی ناقد اس نظریے پر تنقید کرتا ہے تو اس نظریے کے ان کمزور گوشوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ سو اس طور سے تنقید پڑھنے سے ہمارے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم کسی نظریے کے قوی و ضعیف دونوں دلائل کا موازنہ کرسکیں۔ اگر اس کے بعد بھی اس نظریے کے اثبات کے دلائل راجح و مضبوط نظر آتے ہیں تو اس کو بلاتامل بغیر کسی شک و شبہ کے اپنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ اپنے ہر نظریے، ہر عقیدے پر ایک دفعہ تنقیدی مواد بالضرور پڑھیں، یہ طرزعمل نہ صرف آپ کو خوداحتسابی کا موقع دیتا ہے بلکہ اپنے مؤقف کی حقانیت اور اس سے متعلق اعتراضات کے شافی جوابات بھی مہیا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کسی بھی عالم یا کتاب کے بارے میں مؤقف دوسرے کی دی گئی رائے پر نہ بنائیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر اس قدر علمی استعداد موجود ہے کہ آپ صحیح اور غلط میں کسی حد تک تمیز کرسکتے ہیں تو پھر اس عالم اور اس کی کتب کا غیر جانبداری سے ساتھ کھلے ذہن سے بالاستعیاب مطالعہ کیجیے اور پھر از خود پرکھیے کہ اس عالم کی بابت دوسروں کی دی گئی رائے درست ہے یا نہیں۔ یہ اپروچ آپ کے اندر خوداعتمادی اور کانفیڈنس پیدا کرے گی اور آپ کسی بھی بڑے سے بڑے عالم سے مرعوب ہوئے بغیر اس کے افکار کی حقانیت کی بابت غیر جانبدارانہ رائے محض اپنے مطالعے سے بھی دے سکیں گے۔

مختصرا یہ کچھ نکات تھے جو کہ مطالعے کی عادت کے اپنانے کی صورت میں پیش نظر رہیں تو مطالعہ کی افادیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ ان شاءاللہ پھر کبھی ہوا تو اس بابت مزید نکات کی نشاندہی کی جائے گی کہ فی الحال تحریر کی طوالت کے سبب کئی اہم نکات ذکر نہیں کیے گئے۔

نوٹ: اس بیانیہ میں قرآن کے مطالعے کے نکات شامل نہیں کہ قرآن تو ہر مؤمن کو کسی بھی دینی کتاب کے مطالعے سے پہلے سمجھ کر پڑھتے رہنے کی عادت ڈال لینی چاہیے تاکہ اس کی روشنی میں انسان صحیح اور غیر صحیح دلائل کا موازنہ کرسکے۔

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.