ریمنڈ ڈیوس کی کتاب، تضادات کا پلندہ (2) - حافظ یوسف سراج

پیشی کے بعداگلی صبح کینال روڈ پر پولیس کے ٹریننگ کالج میں قونصل جنرل کارمیلا کاٹرائے کی قیادت میں امریکی ٹیم ریمنڈ ڈیوس سے ملاقات کرتی ہے۔ امریکی طبی ٹیم ریمنڈ کا معائنہ کرتی ہے، انھیں ان کے جسم پر کسی قسم کے تشددکے نشانات نہیں ملتے جبکہ کتاب میں ریمنڈ قاری کو بتاتا ہے کہ پہلے قرطبہ چوک اور پھر انارکلی سڑک پر ہجوم اس پر تشدد کر چکا تھا۔ جس کے جواب میں ریمنڈ ڈیوس ہاتھوں سے دفاع کرتا رہا۔ اب یا تو ریمنڈ امریکی نہیں افریقی جسم رکھتا تھا کہ جو پاکستانی ہجوم کی مار سہہ کر بھی بےنشاں رہا، یا امریکی ڈاکٹر اتنے نا اہل تھے کہ وہ ایسا کوئی نشان حضرت والا کے جسم سے ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ ادھر ریمنڈ ڈیوس مدظلہ بھی ایسے صابر صوفی کہ تن کا تشدد من کے گیان میں پی ہی گئے۔ آخرپاکستانی ہجوم کا تشدد تھا، کوئی پین کلر ہی لے لی ہوتی۔ حالانکہ مشتعل پاکستانی ہجوم کے بارے ریمنڈ صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ اسی طرح کے ایک ہجوم نے گوجرہ میں ایک عیسائی کو مار ڈالا تھا، ہجوم ہی کے متعلق کتاب میں یہ تضاد بھی موجود ہے کہ انارکلی روڈ پر ہجوم پولیس کی موجودگی میں ریمنڈ کی طرف لپکتا ہے، تو پولیس والا ہجوم کو یہ بتا کے ڈرا دیتا ہے کہ ریمنڈ مسلح ہے۔ البتہ کتاب کہتی ہے کہ یہی پولیس والا جب ریمنڈ سے گن لے کر چلتا بنتا ہے تو اس دوران ریمنڈ کو اکیلے پا کر بھی ہجوم پاک صاف اور تقدس بھری نظروں سے ہی دیکھتا رہتا ہے۔ یہ ہوتی ہیں کچھ کتابوں کی کرامات، جنھیں ٹیکنیکلی تضادات کہتے ہیں۔

14 روزہ ریمانڈ کے دوران پولیس نے ریمنڈ سے تفتیش کرنا تھی، جس کے متعلق قونصل جنرل صاحبہ ریمنڈ کوسمجھا گئی تھیں کہ خود کو سفارت خانے کا ملازم بتانے کی کوشش کرنا، تفتیش گو پولیس نے ریمنڈ ڈیوس کی کرنا تھی، یہاں مگر تفتیش ریمنڈ ڈیوس صاحب پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کرتے نظر آتے ہیں، اسی دوران ِتفتیش کے متعلق وہ ہمیں بتاتے ہیں، کہ انھیں پولیس کی تفتیشی اہلیت پر اعتبار نہ تھا، کیونکہ لاہور میں چند درجن پولیس آفیسر تھے، اور انھیں ماہانہ 250 کیس نمٹانا ہوتے تھے۔ ریمنڈ بتاتا ہے کہ پولیس اس سے غیرمتعلقہ سوال بھی پوچھتی رہی، مثلاً ریمنڈ کو کھانا صحیح مل رہا ہے یا نہیں؟ ویسے تو نہیں، البتہ قیدیوں سے کیوبا میں روا رکھے گئے امریکی حسن ِسلوک کے تناظرمیں یہ سوال واقعی غیر متعلق ہو سکتا ہے۔ ریمنڈ صاحب پولیس کے اس سوال کو غیر متعلقہ بتاتے ہیں، البتہ اسی دوران زیرِتفتیش رہ کر بھی آپ ہمیں لاہور کے تفتیشی افسروں کی کمی اور ان کے کیسز کی زیادتی کے متعلق بتانے لگتے ہیں۔ شاید اسی کو متعلقہ بات کہتے ہیں۔

ریمنڈ کا اصرار ہے کہ وہ محض ایک سابق فوجی اور موجودہ کنٹریکٹر تھے، خوامخواہ عدالت میں وکیل اسے سی آئی اے سے جوڑنا چاہتا تھا۔ البتہ جب ایک خوش اخلاق پولیس افسر طارق انھیں بتاتے ہیں کہ ان کے ایک بھائی امریکی ریاست جارجیا میں پرانی گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں تو انھیں فورا کھٹکتا ہے کہ ’’اب یہ مجھ سے تعلق جوڑ کر مزنگ وقوعہ کی بات چھیڑ دے گا۔‘‘ سرکار ریمنڈ ڈیوس عالی جناب! وقوعہ کی بات چھیڑنے کے لیے تو آپ زیرِ تفتیش تھے ہی۔ یہاں آپ وہ پوچھی گئی اصل بات گول کر گئے ہیں، جس کے متعلق کتاب کے شروع میں آپ نے لکھا کہ سی آئی اے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے آپ نے کتاب میں حقائق چھپائے ہیں۔ سرکار مزنگ وقوعہ تو آپ سے جو پولیس افسر جب چاہتا پوچھ لیتا، آپ چونکہ اس لیے کہ آپ کی جاسوسانہ حس ِتربیت نے جانچ لیا کہ اب وہ آپ کے اصل مشن کی بات کرے گا۔ ویسے جتنا بیدار اور شاطر دماغ آپ کا ہے، واقعی کسی سادہ سے کنٹریکٹر کا ہی ہوتا ہے نا؟ اسی دوران ایک دوسرے پولیس آفیسر آپ سے پوچھتے ہیں کہ کبھی ڈی ایچ اے گئے ہو؟ آپ اس سوال کی حساسیت کو اتنا سمجھتے ہیں کہ لکھتے ہیں میں نے اس کا انتہائی محتاط جواب دیا۔ جی ہاں واقعی ایک سیکورٹی گارڈ کو تفتیش کے موقع پر اتنا ہی محتاط رہنا چاہیے، ویسے میں نے پڑھ رکھا ہے سرکار! کہ خفیہ جاسوس بھی ایسے مواقع پر ایسے ہی محتاط ہو جاتے ہیں، بہرحال آپ تو بس سیکورٹی گارڈ ہی تھے! آپ سی آئی اے کے ایجنٹ، اسٹیشن چیف یا اور کچھ بھی نہ تھے، ہے نا! البتہ سی آئی اے سے اتنی گہری دلچسپی رکھتے تھے کہ جب باراک اوبامہ لیون پینٹا کو سی آئی اے کا چیف مقرر کرتا ہے تو تب کتاب کے باب اٹھارہ کے مطابق آپ حیران ہونے لگتے ہیں کیونکہ آپ کے بقول واشنگٹن سے طویل عرصے سے وابستہ رہنے کے باوجود لیون پینٹا سی آئی اے کا سب سے کم تجربہ رکھنے والے آدمی تھے۔ ظاہر ہے یہ دلچسپی رکھنا آپ کے لیے لازم تھا، کیونکہ ایک کنٹریکٹر کی اپنے ملک کی خفیہ ایجنسیوں پر نظر نہ ہو تو اسے تو کوئی سیکیوڑٹی گارڈ بھی نہیں رکھتا، ہے نا!

عدالت میں پانچویں پیشی پر آپ بتاتے ہیں کہ پراسیکیوٹر کے بدلتے بیانات آپ کو بہت پریشان کرتے رہے۔ یہاں آپ کو پاکستان کے عدالتی نظام پر افسوس ہوتاہے کہ جج اس غلط بیانی پر وکیل کو ٹوک نہیں رہے تھے. حضور! جب آپ کو کارمیلا سمجھا کے گئیں کہ تم خود کو سفارتکار ظاہر کرنے کی کوشش کرنا، تب کیا آپ نے اس غلط بیانی پر اپنی قونصل جنرل کو ٹوکا تھا؟ نہیں نا! بڑے افسوس کی بات ہے۔ جب آپ کے صدر نے سی آئی کے کہنے پر پریس کا نفرنس کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے جھوٹ بولا کہ آپ سفارتکار ہیں، حالانکہ آپ ہی کی کتاب کے مطابق آپ سفارتکار نہیں تھے، تب کیا آپ کے متعلقہ امریکی اداروں نے صدر صاحب کو ٹوکا تھا؟ نہیں نا! بہت افسوس کی بات۔

کتاب کے مطابق آپ ایک کنٹریکٹر تھے، جب آپ پھنسے تو امریکی سفارتخانے کی طرف سے سفارتی ویزہ جاری کرنے کی کوشش کی گئی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حکومت کے اصرار کے باوجود ایسا نہ کیا اور مستعفی ہو کے پاکستان میں تاریخ ہوگئے۔ آپ کے بقول ججز جب وکیل کو نہیں ٹوکتے تو تب آپ کو وہ بےاصول لگتے ہیں، جبکہ اصولی موقف پر بےاصولی نہ کرتے ہوئے، جب پاکستانی وزیرِخارجہ مستعفی ہو جاتے ہیں، تو اسے آپ ’’سب سے زیادہ موقع پرست شخص‘‘ لکھتے ہیں، یعنی آپ کے نزدیک اصول اور انصاف ہونے کی واحد شرط کیا یہی ہے کہ وہ چیز امریکہ کے حق میں جاتی ہو؟ ایک قاری کوآپ یہی سبق دینا چاہتے ہیں نا؟

آپ لکھتے ہیں، جنرل پاشا کو جب امریکی سی آئی اے نے آپ کے سی آئی اے سے متعلق ہونے سے انکار کیا تو جنرل پاشا کو بہت غصہ چڑھا۔ ادھر صدر زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، جنرل شجاع پاشا،امریکی سفیر کیمرون منٹر، امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن، جنرل کیانی، ایڈمرل مائیک ملن اور سی آئی اے چیف لیون پینٹا سمیت امریکی صدر باراک اوبامہ آپ کے ایشو پر ایک دوسرے سے مسلسل رابطوں میں تھے، یعنی امریکیوں نے پاکستانیوں کو وخت ڈالا ہوا تھا، ہر طرف شدید تگ و دو ہو رہی تھی۔ ادھر امریکہ میں سی آئی اے کے لوگ آپ کی بیوی سے متواتر رابطے میں تھے، ویلنٹائن ڈے کے دن بھی آپ کے گھر طویل فون کرتے تھے۔ پوچھنا بس یہ تھا کہ آپ جاسوس تو نہیں تھے نا؟ ظاہر ہے ایک نجی محافظ کے لیے امریکی سرکار کو اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا، پھر جب جنرل کیانی اور مائیک ملن کی عمان ملاقات کے بعد آپ کو بتایا جاتا ہے کہ رہائی کے چانسز کم ہی ہیں تو آپ فرماتے ہیں ’’ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے، ہمارے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔‘‘ اس پر بھی مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر ایک عام محافظ نے جو بات کی، سی آئی اے کا کوئی تربیت یافتہ جاسوس بھی اس سے زیادہ کچھ نہ کہتا۔ لیکن آپ تو بس ایک کنٹریکٹر ہی تھے! شاباش میرے کنٹریکٹر! ایسے ہونہار کنٹریکٹر مل جائیں تو بھلا دنیا کو جاسوسوں کی کیا ضرورت! اسی لیے جب آپ رہا ہوئے تو آپ کا بیگ امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اصرار کر کے اٹھایا۔ جہاز میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے آپ سے فون پر بات کر کے اپنی تسلی کی۔ ظاہر ہے آپ تو بس ایک کنٹریکٹر ہی تھے۔

کتاب کے آخر میں شاید پبلشر کو اس غلطی کا احساس ہو گیا کہ وہ فہیم کی بیوی کی خود کشی کی انٹری پندرہ دن پہلے ہی ڈلوا چکا ہے، چنانچہ یہاں ریمنڈ ڈیوس کو حیرت میں ڈالوا کے کہلوا دیتا ہے کہ آخر مجھے اس کی خبر پہلے کیسے دے دی گئی؟ اس خود پیدا کردہ تضاد سے غالبا ًسی آئی اے خود کشی کو کسی کا بنایا منصوبہ باور کروانا چاہتی ہے کہ یہ کسی طے شدہ سکرپٹ کے مطابق ہوا تھا، تو گویا آئی ایس آئی نے ریمنڈ ڈیوس کے گرفتار ہوتے ہی یہ منصوبہ بنا لیا تھا کہ فلاں تاریخ کو خود کشی کا یہ واقعہ ہوگا؟ اور حضور آئی ایس آئی کیا کسی دودھ پیتے بچے کا نام ہے کہ خدانخواستہ وہ ایسا بےتکا اور غیر ضروری منصوبہ اگر بناتی بھی ہے تو وہ اسے علامہ ریمنڈ ڈیوس کے علم میں لانا بھی ضروری ہی خیال فرمائے گی؟ آپ تو آئی ایس آئی کے پرانے واقف تھے، یہ بچگانہ بات تو نہ کرتے!

آخری بات!
کیا وجہ ہے کہ ہمارے بارے میں جو بھی کتاب مغرب سے چھپتی ہے، اس کا لکھنے والا خواہ ایک عسکری زندگی گزارنے والا ریمنڈ ڈیوس ہو یا ہماری ایک بھولی بھالی سکول کی طالبہ ملالہ۔ ان کی لکھی کتابیں ایک بچے یا ایک قیدی کے احساسات پر مشتمل ہونے کے بجائے مغرب کے اعلیٰ تحقیقی معیار پر پوری اترنے والی ہوتی ہیں۔ یعنی جس وقت ریمنڈ ڈیوس اپنی موت و حیات کی کشمکش کو کتاب میں یاد کرنا چاہتا ہے، تو وہ اتنا ہسٹورین اور رومینٹک موڈ میں چلا جاتا ہے کہ لاہور کی تاریخی عمارتوں اور سکولوں کالجوں کا تذکرہ فرمانے لگتا ہے۔ جب وہ اپنی وی آئی پی شخصیت کی سکیورٹی کلیئرنس کے لیے روڈ کا جائزہ لینے کے لیے نکلتا ہے، تو اپنے کام پر توجہ دینے کے بجائے برطانوی دور کے طرزِ تعمیرات میں کھو جاتا ہے۔ ایک مشورہ ہے حضور کہ کوئی آئندہ کتاب لکھواتے وقت سی آئی اے کرداروں کے مطابق ڈائیلاگز کا ضرور خیال کر لیا کرے۔ آپ ہی کے بھلے کی بات ہے کہ ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے لازم ہے کہ ایک ریمنڈ ڈیوس کو ہمارا ہارون الرشید، عرفان صدیقی، رؤف کلاسرا یا جاوید چودھری بننے سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ کتاب مصنف ہی کی سمجھی جا سکے، ویسے تو ہم آپ کے غلام ہی ہیں، حضور! آپ جو لکھیں گے ہم مان ہی لیں گے۔ کیا خیال ہے؟ (ختم شد)

پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے
https://daleel.pk/2017/07/06/48909

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • انتہائی موضوع اور مناسب نام تجویز کیا ہے ھافط صاحب نے ، افسوس اس بات پہ ہے کہ ہماری بحیثیت قوم کا اس جذباتی غبارے سے ہوا پوری کی پوری کب نکلے گی ؟ ہم واقعی انتہائی جذباتی قوم ہیں ۔۔۔۔

    ہمارا تو اپنے رسول پاک سے محبت بھی جذباتی ہے اور اللہ سے تعلق بھی ، کہ ہمارا رمضان شروع ہوتا ہے تو مسجدوں میں صفیں کیا بھری ہوتی ہیں کہ استنجا خانے اور وضو کے لیے بھی قطار بنی ہوتی ہیں ۔ یہ ہمارا جوش محبت فی الرمضان انتہا پہ ہوتا ہے لیکن پانچ ، چھ یا زیادہ سے زیادہ پہلا عشرہ گزرنے تک جوش و خروش ایسے ہی رہتا ہے اسکے بعد عادت پڑ جانے کی وجہ سے ہماری محبت کے غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہوجاتی ہے ۔ پہلے تروایح سے غائیب ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور یوں کرتے کرتے رمضان کے احتتام پہ ہمارے غبارے کی ساری ہوا نکل چکی ہوتی ہے اور ہم وہاں آجاتے ہیں جہاں سے رمضان شروع کر چکے ہوتے ہیں۔
    اسی طرح ہم اپنے ھر معاملے پہ شروعات میں اپنا جوش انہتاء تک لے کے جاتے بس خود کو کوئی سچا تو کسی کو کھوٹا ثابت کرنے پہ اپنی سارئ توانائی پاگلوں کی طرح صرف کردیتے ہیں اور جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تب ہمارے جذبات برف کی مانند فریز ہو چکے ہوتے ہیں۔۔۔۔
    ساری دنیا بس یہی سوچ کے ہمیں خفا رکھتے ہیں
    جب ہم خفا ہوتے ہیں تو انہیں اور بھی حسین لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

    یاد رکھیں جو گرجتے ہیں ( جیسے ہم ) وہ برستے نہیں ۔۔۔۔۔
    اور جو برستے ہیں ( جیسے اہل مغرب ) وہ گرجتے ہیں ۔۔۔۔ universal law
    شیطان تعریف کرکے خوشامدی کے جال میں پھنسا کر غرق کر دیتا ہے ۔۔۔ ریمنڈ ڈیوس کے تعارف پہ خوشی یا سینہ تھاننا سمجھ سے بالا تر ہے ۔۔۔ خدارا اس پلید پراپیگنڈے کو سمجھے نہ کہ آپسمیں دست و گریبا ں ہو جاو ۔۔۔ یہاں انا پرستی کا مسلہ بنانا ۔۔۔۔۔ حماقت ہے
    یہ شیطان کے بھائی ہیں ۔۔۔ اور شیطان کھلا دشمن ہے انسان کا ۔ اسکے تعارف میں بھی مکاری اور تعصب میں بھی ۔۔۔۔۔
    ورنہ بعد میں پچھتاو گے تو اس سے بہتر ہے کہ معاملات کو اسلام کےاسلوب سے پرکھو ۔۔۔۔ ریمنڈ ڈیوس کے ترازو میں نہیں ۔۔۔۔

    شکریہ

    ذرا سوچیئے ۔۔۔۔۔۔ ! ! !