مسجد میں سیاسی گفتگو کیوں ضروری ہے؟ عاطف الیاس

ہمارے ہاں سیاست دانوں نے سیاست کو اتنی "مقدس" شے بنا دیا ہے کہ بے چارے "پڑھے لکھے" مولویوں کو مسجدوں میں لکھوانا پڑتا ہےکہ "یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے"۔ اللہ اللہ! اتنا "تقدس" کہ مسجد بھی اس سے محروم رہے۔ ویسے تو دونوں میں کوئی خاص قربت بھی نہیں کیونکہ آج مسجد کا جہاں اور ہے، سیاست کا جہاں اور۔ مسجد اللہ کو یاد کرنے کے لیے ہے اور سیاست اپنا گھر آباد کرنے کے لیے۔ مسجد پر اہل ِ دستار قابض ہیں اور سیاست پر مالدار۔ دونوں میں آج ویسی ہی جدائی ہے جیسی کہ قطب شمالی اور قطب جنوبی میں واقع ہوئی ہے۔ اور اسی لیے اقبال نے کہا تھا کہ:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

مصلحتا عرض ہے کہ چنگیزی سے مراد کوئی فرد نہیں بلکہ وہ خرابی ہے جو مسجد اور سیاست کی جدائی سے جنم لیتی ہے، اور جس کا طوطی آج پوری دنیا میں بول رہا ہے، بلکہ اظہر من الشمس ہے۔ اتنا زیادہ کہ ملکوں ملکوں ڈھونڈنے کی ضرورت بھی نہیں، اپنے گھر میں بھی وافر دستیاب ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ ایسے "بابصیرت" لوگ موجود ہیں، جنھیں سامنے پڑی چیز نظر نہیں آتی۔ انھیں نایاب لوگوں میں سے کچھ میرے دوستوں کو یہ مستقل گلہ رہتا ہے کہ میں ہمیشہ چیزوں کا منفی رخ دیکھنا پسند کرتا ہوں۔ یعنی ان کے نزدیک حکمران طبقے اور ان کے طرزِ حکمرانی پر تنقید کرنا، سیکولر اور لبرل اقدار کے فروغ پر سخت ردعمل دینا، مایوسی پھیلانے کے مترادف ہے۔ پھر کچھ "اخلاقی" دوست ایسے بھی ہیں جو اس خیال کے حامی ہیں کہ ہمیں حکمرانوں کے بجائے صرف اپنے اخلاق پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ خرابی ہمارے اپنے اعمال کا لازمی نتیجہ ہے۔ تو گذارش ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا آپ نے سمجھ رکھا ہے۔ اس کے لیے ہمیں کچھ سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں دو چیزوں کو کبھی خلط ملط نہیں کرنا چاہیے: اول مایوسی اور دوم سیاسی شعور کے ساتھ تنقید۔

مایوسی ایک منفی جذبہ ہے جو انسان کو بےعملی کی طرف لے جاتا ہے، پھر اگلےمرحلے پر کفر کی طرف اور پھر انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔ اس کیفیت میں مبتلا انسان کے پاس مسائل کے حل نام کی کوئی شے موجود نہیں ہوتی۔ اس کی محدود بصارت صرف تاریک پہلوؤں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ ہمیشہ اس خیال سے لبریز رہتا ہے کہ گلاس آدھا خالی ہے۔ جبکہ سیاسی شعور کے ساتھ تنقید ایک الگ چیز ہے۔ یہ احتسابی شعور، مسائل کے فہم اور ان کے حل کے امتزاج کا نام ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس شعور کا ہونا اور باقی رہنا ازحد ضروری ہے۔ یہ شعورحکمرانوں کو ان کے فرائض بخوبی ادا کرنے پر مجبور رکھتا ہے اور رعایا کو حکمرانوں پر مستقل نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ یوں کاروبارِ سیاست صراطِ مستقیم پر رواں دواں رہتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ اداروں کی مضبوطی، سیاسی شعور کی پختگی اور نظریہ حیات کے تحفظ کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ سید مستقیم معین

سیاست اصل میں عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کرنا۔ اسلام حکمرانوں پر لوگوں کے امور کی دیکھ بھال، قرآن و سنت کی بنیاد پر فرض قرار دیتا ہے۔ بصورت دیگر دنیا اور آخرت کی خرابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ اللہ قرآن میں حکمرانوں کے فرائض بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں (اقتدار دیں) تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوۃ دیں۔ اور اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ (بےشک) تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج:41)"

اور دوسری طرف اگر حکمران لوگوں کے امور کی دیکھ بھال صحیح طریقے سے نہ کرے یا اسلام کی بنیاد پر نہ کرے، تو اس پر سیاسی دباؤ بڑھانا اور احتساب کرنا، عوام پر فرض ہے۔ اللہ قرآن میں رعایا کو بھی ان کے فرض کی یاد دہانی کرواتے ہوئے فرماتا ہے: "تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔"
مفسرین کے نزدیک یہ آیت سیاسی جماعتوں کے وجود کا جواز بھی مہیا کرتی ہے۔ بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کم از کم "ایک جماعت" کا قرینہ اسے فرض کفایہ بناتا ہے۔ یعنی کم از کم ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیے جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرے۔ اور بے شک امربالمعروف و نہی عن المنکر کا سب سے اعلی ترین درجہ حکمرانوں کو راہِ راست پر رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ اور ایک حدیث کے مطابق، سید الشہدا یعنی شہیدوں کے سردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ شخص بھی جو ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہتا ہوا مارا جائے۔

یہ درجہ بشارت ہی اس عمل کی اہمیت کے لیے کافی ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست اور حکمرانوں کی ذمہ داری کا تعلق براہ راست لوگوں کے امور کے ساتھ ہے۔ اگر ان میں خرابی پیدا ہوگئی تو پھر وہ وہی حال ہوگا جو اس وقت مملکتِ خداداد کا ہے، یعنی لوگوں کے معاملات بگڑ جائیں گے اور معاشرہ انتشار کی لپیٹ میں آجائے گا۔ یہ سب چیزیں سیاسی شعور کا تقاضا کرتی ہیں، اور حکمرانوں کے اعمال پر تنقید اسی سیاسی شعور کا اظہار ہے۔ اگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں کر رہے یا اسلام کی بنیاد پر نہیں کر رہے تو ان کا محاسبہ ضروری ہے۔ اس لیے یہ منفیت نہیں بلکہ اسلام کے نزدیک معاشرے کی بقا کا مثبت پہلو ہے۔

مدینہ میں خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم جاری کیا کہ عورتوں کے لیے حق مہر ایک خاص حد سے زیادہ مقرر نہیں کیا جا سکتا، تو ایک بوڑھی خاتون اُٹھ کھڑی ہوئیں اور کڑک دار لہجے میں بولیں: عمر! تم کون ہوتے ہو روکنے والے، جب اللہ نے ہمیں قرآن کی فلاں آیت کے ذریعے اجازت دی ہے کہ حق مہر کی کوئی حد نہیں اور اسے واپس بھی نہیں لیا جاسکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قرآن کی آیت کا حوالہ سن کر فورا نادم ہوئے اور اپنا حکم واپس لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں تجارت کا معیار - سید محمد ثاقب شفیع

اس عورت کی تنقید مایوسی نہیں تھی بلکہ سیاسی شعور تھا جو اسلام نے اسے دیا تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ خلیفہ انجانے میں ایک ایسا حکم جاری کر رہا ہے جس کی دلیل اسلام سے نہیں تو اس نے فورا گرفت کی۔ اس گرفت میں دو چیزیں واضح ہیں: ایک تنقید کہ فیصلہ اسلام کی بنیاد پر نہیں ہے، دوسرا اس کا حل اور اس کی دلیل اسلام سے۔ یہ ہے وہ سیاسی شعور جو اسلام اپنے ماننے والوں کو دینا چاہتا ہے۔ جس کا نتیجہ بتدریج بہتر حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس ضمن میں اس طرح کے بے شمار واقعات آپ کو مل جائیں گے۔

اب ان ساری گزارشات کے بعد مدینہ کی اسلامی ریاست کے مرکز مسجد نبوی کا تصور کیجیے،
جہاں کارہائے سیاست کے تمام امور سرانجام پاتے تھے،
جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے درمیان سیاسی مسائل پر بحثیں ہوا کرتی تھیں،
جہاں مسجد اور سیاست ہم آہنگ تھے،
جہاں یہ آوازیں نہیں اُٹھتی تھیں کہ دنیا کی باتیں مسجد سے باہر جاکر کرو،
جہاں علماء آج کے عالمِ دین کی طرح نہیں تھے کہ پوچھا گیا کہ آپ سیاست پر بات کیوں نہیں کرتے؟ تو فرمانے لگے: "ہم خود کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔" سبحان اللہ!

یقین جانیے کہ مسجد نبوی کی کسی دیوار پر یہ جملہ نہیں لکھا تھا کہ "یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔" کیونکہ اسلام میں دین اور سیاست کی جدائی کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام جس سیاست کا تصور دیتا ہے، وہ دین کی بنیاد پر ہے۔ یعنی لوگوں کے امور کی دیکھ بھال قرآن و سنت کی روشنی میں۔ یہ ایک مقدس چیز ہے، یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے جس کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد فرمایا تھا کہ آج میرے اور اللہ کے درمیان کوئی دوسرا شخص حائل نہیں۔ یہ آج کی سیاست کی طرح نہیں، جس کا دوسرا نام ذاتی مفادات، کرپشن، لوٹ مار، اقربا پروری اور سفارش ہے۔

نجانے کیوں مجھے مشہور جرمن شاعر "اوگن برٹولٹ" بھی یاد آ رہا ہے۔ اس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ:
"بدترین جہالت، سیاسی جہالت ہے، کیونکہ اس کا شکار شخص کچھ نہیں دیکھتا، کچھ نہیں سنتا اور سیاسی عمل میں کوئی حصہ نہیں لیتا۔ وہ نہیں جانتا کہ روزمرہ کے اخراجات، ہر چیز کی قیمتیں، کرائے، ادویات کی قیمتیں، یہ سب سیاسی فیصلوں پر منحصر ہیں۔ وہ اپنی سیاسی جہالت پر فخر کرتا ہے اور سینہ پھُلا کر کہتا ہے کہ وہ سیاست سے نفرت کرتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی سیاست سے لاتعلقی مسائل اور جرائم کو جنم دیتی ہے، اور سب سے بدترین یہ کہ کرپٹ سرکاری افراد اور استحصال کرنے والے سرمایہ دار اداروں کے پٹھوؤں کو آگے لاتی ہے۔"

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.