دعوت دین کی ذمہ داری - واحد بشیر

اسلام انسانیت کے لیے کائنات کے خالق کی طرف سے آخری، کامل، عالمگیر اور آفاقی ہدایت نامہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اسلام کی تکمیل اور اس نعمت عظمیٰ کے اتمام کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے اسلام کو بطور دین پسند فرمایا۔ قرآن مقدس اللہ کا آخری اور دائمی پیغام ہے اور محمد عربی ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اس پیغام کو صبح قیامت تک دنیا کے ہر کونے میں اور ہر انسان تک پہنچانے کی ذمہ داری امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہے۔ دعوت دین کی ضرورت ہر دور میں رہے گی اور اس ذمہ داری سے کوئی بھی مسلمان بچ نہیں سکتا۔ اس دین کی طرف دعوت دینا دراصل امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ دعوت و تبلیغ انبیائی مشن ہے جو ابتدائے آفرینش سے کے دن تک جاری و ساری رہے گا۔ حضرت آدم ؑسے لے کر محمد عربی ﷺ تک جتنے بھی پیغمبر اور رسول اللہ کی طرف سے بھیجے گئے انہوں نے اپنے زمانے کے حالات و ضروریات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اسی مشن کی آبیاری کی۔ اختتام نبوت کے ساتھ ہی یہ ذمہ داری اب امت مسلمہ پر عائد کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح ہدایات نازل فرماکر امت کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ (سورۂ نحل، آیت 125)

ترجمہ: اے نبی، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔

اور

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (سورۂ حم السجدہ، آیت 33)

ترجمہ: اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔

نبی آخرالزماں ﷺ نے اس فریضے کی بحسن و خوبی ادائیگی کی تکمیل کرتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقعے پر صحابہ ؓ کی وساطت سے امت کو یہ ہدایت فرمائی کہ میری طرف اس پیغام کو باقی لوگوں تک پہنچاؤ۔

ان ساری الہامی ہدایات کے پیش نظر دعوت دین کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ جو چیز ہمیں اس ذمہ داری کو سمجھ بوجھ کے ساتھ انجام دینے پر آمادہ کرتی ہے وہ انسانی زندگی میں موجود فساد ہے۔ دنیا کی تمام مخلوقات میں صرف انسان ایک ایسی تخلیق ہے جس کو اس دنیا میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، انسان کا راہ راست پر قائم رہنا بہت ضروری ہے۔ انسان اگر بگاڑ کا شکار ہوجائے گا تو دنیا کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا اور فساد و بگاڑسے ہر طرف دنیا بھر جائے گی۔ اس وقت ساری دنیا کی حالت بگڑی ہوئی ہے، ایک ابتر صورتحال سے ساری دنیا دوچار ہے۔ اخلاقی پستی، بے حیائی و بے شرمی، معاشی استحصال، معاشرتی بگاڑ اور سیاسی بدامنی سے دنیا جہنم کا نظارہ پیش کررہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اگرچہ انسان نے بہت ترقی کی ہے لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ تباہی کا بہت سامان بھی فراہم کیا ہے۔ انسانی حقوق اور اقدار کی پامالی ہر طرف ہورہی ہے۔ کمزوروں کے حقوق پر دن دیہاڑے ڈاکاڈالا جاتا ہے۔ جنگ و جدل کے بوجھ تلے انسانیت سسک رہی ہے۔ سودی معیشت نے امیروں اور غریبوں میں سمندر جتنی دوری پیدا کی ہے۔ سماجی بگاڑ نے انسانوں کو بے چین و بے قرار کر دیا ہے۔ علاقائی اور طبقاتی مفادات پر قائم سیاسی نظام تلے انسانیت کچلی جارہی ہے۔ جدید نظام تعلیم نے مادی ترقی کو کامیابی کی معراج قرار دیا ہے۔ انسان انسان کا دشمن ہے، انسانیت کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انسانی معاشرے میں عدل اجتماعی اور انصاف پر مبنی نظام (Social Justice)کے قیام کادعویٰ بہت سارے نظریات نے کیا، لیکن عملاََ سب ناکام ہوئے۔ بے خدا تعلیم پر مبنی جدید نظریات سیکولرازم، کمیونزم، سوشل ازم، کیپٹل ازم، لبرل ازم، جدیدیت اور ما بعد جدیت کے نام پر انسان نے امن و سکون کی تلاش کے لیے سر توڈ کوشش کی۔ لیکن انسان کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے گئے۔

درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ان حالات میں دعوت دین کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مکمل نظام حیات (Complete Code of Conduct)ہے۔ اسلامی تعلیمات موجودہ دور کے ان سارے مسائل کا حل پیش کرنے کا پر اعتماد دعویٰ کررہی ہیں۔ جدید دنیا کے دانشور ایک ایسے نظام حیات کی تلاش میں ہیں جو انسانی مسائیل کا بہترین اور قابل عمل حل پیش کر سکتا ہو۔ اسلام ان سارے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ بلکہ دور جدید میں اسلام کو ایک نظریاتی سپر پاور (Ideological Super Power)کی حیثیت حاصل ہے۔ انسان کو جس مادی اور روحانی ترقی کی تلاش ہے وہ صرف اسلام ہی عطا کرسکتا ہے۔ مگر انسانیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ امت مسلمہ زوال و پستی کی شکار ہو کر صدیوں سے اپنے فرض منصبی سے غافل ہوچکی ہے۔ امت کے پاس درد کا درماں ہے لیکن اس قیمتی متاع سے بالکل غافل ہے۔ اور انسانیت کے سامنے اس چیز کو پیش کرنے سے عاری ہے جس سے انسانیت کے مسائل حل ہوں گے۔

تحریک اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصدانسانیت کو باالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص اللہ کی طرف بلانا اور خیر کی دعوت پیش کرنا ہے۔ دعوت اسلامی ہی دراصل ہماری راہ متعین کر دیتی ہے۔ بلکہ دعوت الی اللہ ہی وہ حقیقی ذریعہ ہے جس سے فلاح آخرت کا حصول بھی ممکن ہے اور دنیا میں نظام اسلام کا قیام اور اسلامی طرز حیات کی بقاء بھی اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اللہ کی طرف انسانیت کو دعوت دیے بغیر امت مسلمہ نہ ہی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی رضائے الٰہی کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس بنیادی اور اولین فریضے کی انجام دہی سے ہی ہر دوجہاں کی کامیابی ممکن ہے۔ آیئے اس فریضے کی انجام دہی کے لیے سرگرم عمل ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرکے آخرت کی کامیابی اپنے لئے مقدر بنائیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Comments

واحد بشیر

واحد بشیر

واحد بشیر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سرینگر میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے سابق ناظم اعلی ہیں۔ کشمیر کی صورتحال پر دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */