ذاتی اور ملکی مفادات میں فرق کون بتائے گا؟ - شیخ خالد زاہد

بارہا اس بات کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جہاں بسنے والے اپنے آپ کو پاکستانی اس وقت کہتے ہیں جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم جیت جاتی ہے، جب بھارت یا کوئی اور ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے یا پھر پاکستان کو کسی ناگہانی قدرتی آفت درپیش ہوتی ہے۔ عام حالات میں ہم پاکستان میں بسنے والے علاقائی تقسیم کو فوقیت دیتے ہیں، فرقہ واریت کو اہمیت دیتے ہیں، زبانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم اپنے اپنے مختلف مفادات کے لیے بھی تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ہم ادب کو بھی تقسیم کرلیتے ہیں، ہم فلاحی کاموں کو بھی تقسیم کرلیتے ہیں، ہم تقسیم در تقسیم ہوئے جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جتنا تقسیم ہوتے ہیں ہماری طاقت اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے اور دشمن کو ہمارے مسلسل تقسیم ہونے سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور کتنی تقویت پہنچتی ہے۔ ایک طرف ہمارا تقسیم شدہ تعلیمی نظام اور دوسری طرف یہ تعلیمی نظام اور اس میں دی جانے والی تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی۔ یہاں تعلیم یافتہ ہونا سب کچھ کرنے کا پرمٹ مل جانے کے مترادف ہے۔ جاہل آدمی تو قانون کی کچھ نہ کچھ پاسداری کر ہی لیتا ہے لیکن ایک تعلیم یافتہ فرد تو قانون کی وہ دھجیاں اڑاتا دیکھائی دیتا ہے کہ کیا کہیے۔ ہم کسی کی ترقی برداشت نہیں کر پاتے اور کسی بھی طرح سے اسے نقصان پہنچاکر ترقی کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی تدبیروں میں لگے رہتے ہیں۔ ہم کسی کے لیے سیڑھی تو بن نہیں سکتے مگر گڑہے ضرور کھودتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں جو گڑا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرتا ہے۔ ایسی بے شمار مثالیں دیکھتے اور سنتے بھی ہیں مگر کچھ اثر نہیں لیتے۔ عبادات بھی کرتے ہیں رب کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر مفادات کی خاطر سب بھول جاتے ہیں۔ غور کیجئے تو معلوم پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہیرو پیدا نہیں ہورہے، آخر کیوں؟ ہماری ساری کی ساری توانائیاں ان کاموں میں صرف ہو رہی ہیں جن کا تخلیق سے دور کا بھی کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

قائدِاعظم محمد علی جناح ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس نے ان کی جان لے لی مگر انہوں نے اس بیماری کو ذاتیات تک ہی رکھا اسے ملکی مسئلہ نہیں بنایااور اس کی تشہیر سے ڈاکٹروں کو بھی روکے رکھا۔ نوابزادہ خان لیاقت علی خان شہید نے ملک کے مفاد میں اپنی ذاتی عیش و عشرت سے آراستہ زندگی ترک کردی اور ایک عام پاکستانی کی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی۔ راشد منہاس کے نام سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے مگر کیوں؟ کیوں کہ راشد منہاس پاکستان ائیرفورس کے وہ نوجوان سپاہی تھے جنہوں نے اپنی قیمتی زندگی ملک کے مفاد پر قربان کردی اور ان کی اس قربانی کے نتیجے میں پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ ایسے ان گنت نامعلوم لوگ بھی ہیں جو پاکستان کی بقا کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرتے رہے ہیں۔ ان لوگوں میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر ایک عام آدمی کی سطح تک کے لوگ شامل ہیں۔ نامعلوم لوگ بہت اعلی سرکاری عہدوں پر فائز رہے مگر اپنا اور اپنے خاندان کو اس عہدے سے کسی قسم کا ناجائز فائدہ نہیں پہنچایا اور ایسے بھی بہت سارے ہوں گے جنہوں نے جائز فائدہ تک نہیں اٹھایا۔ مگر ایسے لوگوں کی مقدار آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں رہی۔

پاکستان میں پیشہ ورانہ ماحول کی قلت ہے جس کی ایک اہم ترین وجہ میرٹ کا ہونا ہے۔ لوگ کام تو کرتے ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جن کی بدولت نوکریاں ملتی ہیں ان لوگوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ادارے کا کیا ہوگا یا پاکستان کا کیا ہوگا؟ پاکستان ریلوے اور پاکستان بین الاقوامی ایئر لائن کی تباہی کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟ لوگ نوکریوں پر بھی آرہے ہیں، حاضریاں لگ رہی ہیں اور کام بھی ہو رہا ہے مگر ادارے نقصان بلکہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ مفادات کی تفریق کا فرق ہے لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ صرف میں اہم ہوں، نہ یہ ادارہ اہم ہے اور نہ ہی آنے والی نسلیں اور نہ ہی پاکستان کی سالمیت۔

پاکستان میں اسکول، کالج، یونیوسٹیاں، دفاتر، کھیل کے میدان کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں سیاست نے اپنے ڈیرے نا ڈالے ہوں۔ جمہوریت کے نام پر سیاست ہر ادارے میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے اور اداروں کی تباہی میں بھی کسی نا کسی طرح اپنا حصہ ڈالے ہوئے ہے۔ تعلیمی اداروں میں اب تعلیم بہت کم رہ گئی ہے اور اگر تعلیم میسر ہے توتربیت وفات پاچکی ہے۔ استاد کے احترام کا حال کیا ہے اخبارات سے یا میڈیا سے پتہ چل جائے گا۔ اسی طرح ملک میں گنے چنے ادارے چل رہے ہیں گوکہ وہاں بھی کسی نا کسی طرح یہ سیاست موجود ہے مگر اس پر پیشہ ور لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارے سنبھلے ہوئے ہیں۔

جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں عوام اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنے حکمران چنتی ہے۔ در اصل پاکستان میں جمہوریت کا مطلب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے یہاں سیاست عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ اپنی خدمت کروانے کے لیے کی جاتی ہے۔ یعنی ذاتی مفادات سب سے اہم ہوتے ہیں ملک کا بجٹ بھلے ہی خسارے میں جا رہا ہو مگرکوئی سیاست دان اپنی مراعات میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کر سکتا۔ کسی محنت کش کے بچے کو بہت اچھی پوزیشن کہیں داخلہ نہیں دلوا سکتی کیونکہ محنت سے زیادہ کسی کے مفادات آڑے آجاتے ہیں۔ ہم مفادات کی رسی سے بندھے ہیں اور ہمارے مفادات ہمیں ملک و قوم کی پروا کئے بغیر کھینچے جا رہے ہیں اور ہم نے اپنے آپ کو ان مفادات کی رسی کے حوالے کر رکھا ہے۔ ان مفادات کے حصول کے لیے ہماری روح شدیدگھائل ہوجاتی ہے مگر ہم لوگ جسموں سے محبت کرنے والے ہوچکے ہیں۔ ہم آنے والی نسلوں کو ذاتی مفادات کو ترجیح دینا سیکھا رہے ہیں

کوئی پاکستان کے مفادکی بات کرتا ہے یا ادارے کے مفاد کی بات کرتا ہے تو اسے ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اسکا راستہ بند کیا جاتاہے۔

آج کل احتساب کا عمل چل رہا ہے یہ عمل اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہر وہ پاکستانی جو پاکستان کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتا ہے دعا گو ہے کہ حقیقی اور شفاف انصاف ہو۔ یہ احتساب کسی کی جیت یا ہار کے لیے نہیں ہورہا مگر جنکا ہو رہا ہے وہ اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچتا محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان کی روش بدلنے والی ہے یہ ابتداء ہے اور یہ مفادات کا استعمال کرنے والوں کے لئے تنبیہ ہے کہ اپنے اپنے مفادات ملک کے مفادات میں ضم کردیں ورنہ اب کوئی بچنے والا نہیں ہے۔

ذاتی مفاد کی وباء دشمن کے لئے فائدے مند ہے آج پاکستان میں دہشت گردی جیسا مہلک مرض ناسور بن چکا ہے اس مرض کے پھیلنے میں بھی ذاتی مفاد نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اگر کوئی اپنی زندگی سے بیزار ہے اور وہ اسے ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے ساتھ اوروں کی زندگیا ں لینے کے لیے کوئی تو راضی کر رہا ہے وہ یقیناًکوئی نا کوئی تو لالچ دے ہی رہا ہوگا نا۔ دنیا نے ختم ہوجا نا ہے اورآپکے لئے دنیا کب ختم ہوگی جب آپ دارِ فانی سے رخصت ہو رہے ہوں گے۔ پھر وہ سارے دوسرے کے مفادات یاد آئیں گے جن پر آپنے قدغن لگائی یا خود قبضہ کرلیا مگر اس وقت کچھ بھی نہیں ہوسکے گا اور سامان تو مسافر سے پہلے جاتا ہے ہمارے عمال ہمارا سامان ہے جو ہم مرنے سے پہلے آگے بھیج رہے ہیں۔ ہمیں مفادات کا فرق سمجھ لینا چاہیے۔