بنت حوا اور موسم گرما - دُرصدف ایمان

جون کی تپتی دوپہر تھی۔ شمس مثل نار بنا نار برسا رہا تھا، ہر چیز ساکت و جامد، اس گرمی سے حیران و پریشاں سی تھی۔ سڑکیں سنسان گلیاں ویران، انسان تو انسان پرندے تک اپنے آشیانوں میں چہرہ چھپائے اس گرم موسم کی گرمی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر ایک وجود تھا جو اس گرمی سے بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا بس آگے بڑھا جا رہا تھا، چلا جارہا تھا، نہ جانے اس گرم موسم اور جھلساتی دھوپ میں وہ دو قدم کس کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ نہ رک رہے تھے نہ ٹھہر رہے تھے۔ پسینے سے شرابور لباس، دھوپ سے تمتماتا، گرم تھپیڑے کھاتا سانولا چہرہ، دوپٹہ سختی سے اپنے گرد لپیٹے، ہاتھ میں بس ایک شاپر لیے، بائیں ہاتھ سے چہرے پر لمحہ بہ لمحہ آتا پسینہ صاف کرتی وہ چلی جا رہی تھی۔ آنکھوں امید کی آس اور بےبسی کی نمی تھی۔ کالی پٹی کی چپل میں مقید ریت سے اٹے پاؤں کچھ بیان کر رہے تھے۔

یہ نارِ میل پر سفر کئی گھنٹوں سے جاری ہے۔ پوش ایریا میں ایک کے بعد ایک عمارت کو آس سے چہرہ اوپر کرتی آنکھوں پر ہاتھوں کو چھجا بناتی اور جسم جلاتی دھوپ سے بچا کر دیکھتی اور پھر آگے بڑھ جاتی، ہر طرف فلیٹ بنی عمارتیں تھی۔ شاید کسی خاص عمارت کی تلاش تھی۔ تپتی دھوپ میں خشک لب، تمتمائی ہوئی سانولی رنگت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی یہ رنگت کبھی گندم کے خوشوں سی تھی۔ چلی جارہی تھی، ایک کے بعد ایک قدم اٹھاتی وہ آگے بڑھتی جارہی تھی، اس نے تو شاید طے کر لیا کہ اس گرما کی سخت گرمی میں اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرے لیکن چلتے چلتے اچانک لڑکھڑائی اور منہ کے بل گرتے گرتے بچی، جب سیدھی ہوئی تو ٹوٹی چپل نے اس کا منہ چڑایا۔ وہ اس کالی پٹی کی ٹوٹی چپل کو دیکھتی رہی، آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور جلتی سڑک پر گر کر غائب ہوگیا، چپل اتار کر ہاتھوں میں پکڑی اور ننگے پاؤں چلنے لگی۔ پیاس سے حلق میں کانٹے آگ آئے تھے، مگر نہ جانے کون سا جذبہ تھا جو اسے ٹھہرنے ہی نہیں دے رہا تھا۔ قدم تھم ہی نہیں رہے تھے، دھوپ سے جلتی سڑک پر قدم پڑتا اور پھر اٹھ جاتا، تلوے سرخ پڑنے لگے تھے، دھوپ کی جلن قدموں میں محسوس ہورہی تھی، مگر ننگے پیروں سے جیسے سنگ میل عبور کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا. یہ شاید اس کا مضبوط حوصلہ و عزم تھا کہ اب کی بار جو سر اٹھایا، اسے جیسے اس کی منزل نظر آگئی ہو۔

بے تابانہ اس عمارت کی طرف بڑھی۔ نڈھال ہوتے وجود، اور درد سے چور پیروں میں نئی قوت دوڑ گئی ہو۔ فرط جذبات سے بےاختیار شکر نکلا اور بیس منزلہ عمارت کے بارہویں مالے پر جانے کے لیے لفٹ کی طرف بڑھی۔ سیکیورٹی گارڈ ایک گرمی سے نڈھال، عام سے لباس اور ٹوٹی چپل ہاتھ میں لیے ننگے پاؤں والی لڑکی کو دیکھ کر چوکنا سا ہوگیا۔ گمان کیا شاید کوئی چور ہے بھکارن کے لباس میں، مگر جب مدھم آواز سے لفٹ کا معلوم کیا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے نرمی سے بتا دیا گیا کہ لفٹ خراب ہے۔ یہ سن کر وہ جو جلد از جلد منزل تک پہنچنا چاہ رہی تھی، منزل کے قریب پہنچ کر اسے یہ سننا نئے سرے سے تکلیف دے گیا۔ سر اٹھا کر بارھویں منزل تک کے سفر کی طوالت کو جانچنا چاہا پر سورج جیسے آنکھوں میں ہی گھس آیا ہو، نہ جانے سورج کی تپش سے آنکھوں میں پانی آیا یا ننگے پاؤں ایک اور سفر طے کرنے کے خیال سے۔ بہرحال، وہ زینے کی طرف بڑھ گئی۔ ایک کے بعد ایک سیڑھی پار کرتے پانچویں منزل پر پہنچ کر ہمت جواب دے گئی۔ سانس لینے کو سیڑھی پر ہی رک گئی۔ اپنے پیروں پر نظر پڑی جو ننگے پاؤں چلنے سے دھوپ سے، اور اس مشقت سے سوج چکے تھے، ریت میں اٹے پڑے تھے۔ شاید ان کی قسمت میں اب یہی ہے۔

ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی چپلیں ایک نظر دیکھیں اور پھر اوپر کی جانب چل پڑی۔ چھ، سات، آٹھ، نو …… دسویں منزل پر پہنچ کر لگا جیسے کسی نے برق بھر دی ہو۔ تیزی سے زینہ طے کرنے لگی۔ بارھویں منزل…… اسے لگا بھری دھوپ میں ٹھنڈا سایہ آگیا۔ بےتابانہ آگے بڑھی، گھنٹی بجائی۔ ایک، دو، تین، امید ٹوٹنے لگی۔ دوبارہ بجائی، دروازہ ہاتھوں سے بجانے لگی پر اندر کوئی ہوتا تو آکر دروازہ کھولتا؟ دروازہ تو نہ کھلا پیچھے سے ایک دوسرا دروازہ کھلا۔ جھنجھلائی ہوئی عورت تھی اور شاید یہ ٹھک ٹھک اس کے قیلولے میں مخل ہوئی تھی، جبھی تلخی سے پر کرخت آواز آئی " او بی بی! یہ لوگ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں، چار مہینے ہوگئے ہیں۔ جاؤ کہیں اور جا کر بھیک مانگو" کھٹاک سے دروازہ بند ہوگیا، اسے لگا شاید قسمت کا دروازہ بھی بند ہوگیا۔ امید کی سب کرنیں بجھتی چلی گئیں۔ تیز جلتی دھوپ اور تیز ہو کر جلنے لگی۔ سورج کی تیز روشنی گرم، بے رحم، سیاہ اندھیرے میں بدل گئیں۔ سب کچھ ختم ہوگیا۔ وہیں زینے پر بیٹھتی چلی گئی۔ "بھیک مانگو کہیں اور جاکر، مگر کہاں؟" نہ جانے کتنی دیر وہیں بےحس و ساکت بیٹھی رہی۔ تیرھویں منزل سے کوئی اتر رہا تھا، احساسات تھوڑے بیدار ہوئے۔ احساس ہوا کہ قدموں کی آواز قریب آتی جارہی ہے۔ یہاں سے اٹھ جاؤں؟ پر امید کا کانچ کچھ اس طرح سے ٹوٹا تھا کہ اس کی کرچیاں ہمت کے اندر تک کھب گئیں تھیں۔ وجود نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔ قدموں کی دھپ دھپ قریب آتے آتے رک گئی۔

"اے! کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟ چوری کرنے آئی ہو؟"
جھٹکے سے سر اٹھایا "چوری کرنے نہیں، اپنا حق لینے آئی تھی۔"
"لیکن تمہارا حلیہ تو کچھ اور کہہ رہا ہے؟" مقابل کی آنکھوں اور چہرے پر شک ہی شک تھا۔
"یہ فلیٹ میرے انکل کا ہے، ان سے ہی ملنے آئی تھی، راستے میں چپل ٹوٹ گئی۔" نہ چاہتے ہوئے بھی آواز جیسے بھراگئی ہو۔
"اوہ……" اب اس کے لہجے میں سچائی محسوس ہوئی۔
"اچھا تم اوپر آؤ میرے فلیٹ پر میری بیوی کی چپلیں پہن لو، پانی وغیرہ پی لینا۔ نڈھال لگ رہی ہو۔"
مقابل ابن آدم تھا، بنت آدم کی مجبوری دیکھ کر کیسے مدد نہ کرتا؟

اس نے ایک نظر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا اور پھر اپنے خشک پڑتے حلق کی خشکی محسوس کی۔
"دیکھو میں بیوی بچوں والا ہوں، تم اعتبار کرسکتی ہو۔ تمہاری حالت ایسی نہیں کہ تم واپسی کا سفر کرسکو۔"
چاہتے ہوئے بھی وہ مزید انکار نہ کرسکی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے پیچھے چلتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ قدموں میں اب واقعی ایک قدم اٹھانے کی سکت نہیں رہی۔ اس شخص کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی خنک و ٹھنڈک کا پرسکون احساس ہوا۔
"آؤ، ادھر بیٹھ جاؤ۔ میں پانی لاتا ہوں" مکمل خاموشی تھی۔ کچھ لمحوں میں ہی وہ شخص اورنج جوس لے آیا۔ کانچ کے گلاس پر ابھرتے آبی ذرات اس کے یخ ہونے کا پتا دے رہے تھے۔
"یہ لو، یہ پی لو" اس نے بنا کوئی جواب دیے، گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا لیا، ایک گھونٹ لیتے ہی پیاس کی شدت میں اضافہ ہوا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر گئی۔ وجود میں جیسے جان پڑ گئی۔
"تم چاہو تو کچھ دیر آرام کرسکتی ہو۔ سامنے باتھ روم میں فریش ہونا چاہو تو وہاں ہوسکتی ہو"
یہ بات سن کر اس کی آنکھوں میں تشکر امڈ آیا، پر زبان سے کچھ کہے بنا باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ ٹھنڈے پانی کو چہرے پر مارتی رہی اور آنسو بہاتی رہی، ہاتھ پاؤں دھو کر باہر آئی تو وہ شخص وہاں نہیں تھا۔ دوپٹے سے چہرہ خشک کرتی وہیں صوفے پر بیٹھ گئی، کچھ دیر بعد آہٹ ہوئی۔ ہاتھوں میں ایک زنانہ چپل کا جوڑا اٹھائے وہ شخص تھا۔ اس کا یہ خلوص دیکھ کر شکریہ کرنے ہی والی تھی کہ اسے محسوس ہوا ماحول بدلا ہے، شاید اس شخص کی نظریں۔ جیسے ہی وہ صوفے پر بیٹھا، وہ کھڑی ہوگئی اور "اچھا میں چلتی ہوں، آپ کا بہت بہت شکریہ کافی مدد کی آپ نے" کہتے آگے بڑھی۔ لیکن ہاتھ پر گرفت محسوس ہوئی۔ دیکھا تو اس شخص نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ نہیں چھڑایا بلکہ استفہامیہ نظروں سے اس شخص کی طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لی۔ ابن آدم اپنی مدد کا صلہ طلب کر رہا تھا.

"تم ابھی مت جاؤ، شام میں چلی جانا، موسم بھی ٹھنڈا ہوجائے گا جب تک"
"ٹھنڈا موسم…… موسم ٹھنڈا ہوجائے گا؟؟؟" وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔ اس کے ہنسنے پر اس شخص کو لگا بنت آدم نے اس کی بات مان لی، جبھی ابھی تک جو ہاتھ صرف تھاما ہوا تھا، اس پر انگلیاں سرسرانے لگی اور وہ جو ہنستی جا رہی تھی ایک دم چپ ہوگئی۔
"تمہیں پتہ ہے، میرے لیے یہ موسم اب کبھی ٹھنڈا نہیں ہوگا؟ تمہیں معلوم ہے میرے لیے یہ موسم گرما کی تپش دسمبر کی ایک سرد رات سے شروع ہے۔ اس رات سے جس رات میرا باپ دل میں درد اٹھنے سے مرا تھا۔ اس سخت سرد رات سے میں تپتی دھوپ میں ہوں۔ ٹھنڈا موسم دینے والے بدلہ طلب کرتے ہیں۔ میرے لیے تو جنوری کی وہ صبح بھی جلتی دھوپ کا دن تھا، جب تم جیسے ہی ایک مدد کرنے والے سے اپنی عزت بچا کر نکلی تھی۔ دیکھو، میرے پیروں کو یہ تو اس دن سے ننگے پاؤں سنگ میل عبور کر رہے ہیں جب سے میرا باپ دفن ہوا ہے۔"
"اب کبھی ٹھنڈا موسم نہیں ہوگا میرے لیے کیونکہ میرا باپ اپنی موت کے ساتھ ہی سب ٹھنڈے موسم لے گیا تھا۔ بس یہ تپتی زمین، جلتا آسمان اور یہ موسم گرما رہ گیا ہے۔ باپ کی شہزادی تھی میں پر اب چور، بھکارن ہوں اور لوگ دھندے والی بنانا چاہتے ہیں۔ میرے لیے تو ہر موسم "موسم گرما" ہے۔ ہر دن تیز دھوپ کا دن ہے، ہر لمحہ جون کی تپتی، جلتی، جھلساتی دھوپ ہے۔ میرا سگا چچا جس نے میرے باپ کے مرنے والے دن پر سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا "میں ہوں نا تم لوگوں کا سہارا؟ وہ اس موسم گرما میں مزید آگ لگا گیا۔ میرے باپ کا سب کچھ لے گیا سوائے اس کی بیوہ اور اس کی چار بیٹیوں کے۔"

آنسو چہرے پر تھے، ایک کے بعد ایک لفظ بتاتا چلا گیا کہ وہ کون سا گرمی کا موسم جھیل رہی ہے۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے اس شخص کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور ننگے پاؤں ہی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔