اگلا الیکشن زیادہ دور نہیں - فیض اللہ خان

اس بات سے قطع نظر کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ شریف فیملی کے حق میں ہوگی یا مخالفت میں، اہم بات یہ ہے کہ ملک کے طاقتور ور ترین سیاسی خاندان احتساب کے لیے اپنے اقتدار کے دوران ہی پیش ہونے لگے ہیں۔ اس ساری مشق کا براہ راست فائدہ پاکستان کو اور یہاں کے عوام کو ہی ہوگا۔ احتساب کی اس چھلنی سے اگر شریف فیملی گزر گئی تو ان کا اعتماد مزید پختہ ہوگا اور اگلا الیکشن ان کی جھولی میں پکے ہوئی آم کی طرح آن گرے گا۔

سبق البتہ تمام سیاسی خانوادوں کو یہ ضرور مل چکا ہے کہ ماضی میں وفاقی حکومتیں جو کرپشن کرتی رہیں، وہ بہرحال اب ماضی کا ہی حصہ ہے، اور صورت حال بڑی حد تک تبدیل ہوچکی۔ ایک بات پیش نظر یہ بھی رہے کہ نیکی و بدی نے جیسے ہمیشہ رہنا ہے، کرپشن نے بھی یونہی پھلتے پھولتے اپنی جگہ بنانی ہے، البتہ فرق اب احتساب اور پکڑے جانے کا زیادہ خوف ہوگا۔

دوسری صورت ، یعنی کہ فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آتا ہے تو بھی بہت زیادہ پریشانی کی بات نہیں وہ چاہیں تو آخری سال کسی اور کو وزیر اعظم بنا سکتے ہیں یا پھر مظلومیت کا تاثر لیے نئے الیکشن میں بھی اترا ج اسکتا ہے، جس میں ویسے بھی زیادہ وقت نہیں رہا۔

یادش بخیر، کرپشن چین کا بھی بڑ مسئلہ ہے باوجود اس کے کہ وہاں اس کی سزا موت ہے لیکن اسے مکمل طور پہ ختم نہیں کیا جاسکا۔ حرص و ہوس ایک فطری جبلت ہے جس پہ قابو پانا ہی اصل آزمائش ہے۔

اگلی بار اقتدار میں نواز شریف آئیں، آصف زرادی، عمران خان یا کوئی اور، یہ طے ہے کہ ماضی جیسی کرپشن نہیں ہونے جارہی۔ البتہ جس طرح سندھ میں نیا احتساب قانون لاکر جمہوری بدمعاشی کی گئی ہے، اس کا علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سندھ میں متبادل سیاسی قوت تیار نہیں ہوجاتی، بدقسمتی سے پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے اس حوالے سنجیدہ کام نہیں کیا اور مستقبل میں بھی اس کے آثار نظر نہیں آرہے۔

عمران خان نے پانامے کے معاملے کو اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے ہی یہاں تک پہنچایا ہے، عملی طور پہ نواز شریف کے رستے میں بڑی رکاوٹ وہی ہیں۔ فیصلہ اگر عمران خان کی توقعات کے مطابق نہیں آتا تو بھی ان کی مقبولیت میں خاص کمی نہیں ہوگی کیونکہ تحریک انصاف عمران خان ہے، عمران خان تحریک انصاف ہیں۔

سیاست دانوں کے احتساب کے بعد اگلا مرحلہ پاکستان کے اصل حکمرانوں کا ہے جنہیں عدالتوں سے سزا ملی نہ کبھی کسی نے ان کو احتساب کے دائرے میں لانے کی جرات کی، لیکن انہیں بھی اندازہ ہوچلا ہے کہ فلموں، ترانوں اور گانوں کے ذریعے زیادہ دیر تک قوم کو بےوقوف نہیں بنایا جاسکتا. اللہ نے ان کے لیے ریمنڈ ڈیوس جیسے دوست تیار رکھے ہوئے ہیں جو وقتا فوقتا کام اتارتے رہے ہیں۔ ایسے میں بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنے کلف کو کچھ ڈھیلا کریں تاکہ ہر قسم کے قانون سے بالاتر بڑی گردن کو کٹھہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔

ایک اہم فیصلہ پاکستان کے عوام کو بھی کرنا ہوگا کہ ، کیا انہوں نے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں اقتدار کی خواہش میں جانے والے سرمایہ داروں یا لوٹوں کو ہی ہر بار اپنے اعتماد سے نوازنا ہوگا یا پھر ایسی قیادت لانی ہوگی جو انہی کی طرح انہی کی گلیوں بستیوں میں رھتی ہوگی، اور ان کے مسائل کو خوف خدا کی بنیاد پہ حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہوگی۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے، اگلا الیکشن زیادہ دور نہیں۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */