کس پہ اعتماد کریں : اختر علی تابش

جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو اسی دن سے پیپلز پارٹی کی بھی سیاسی قبر کشائی شروع ہو گئی. آصف علی زرداری نے مزار بهٹو پر پارٹی کا علم لہراکر خود گدی نشین ہونے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اپنے بیٹے کو اس گدی کا اگلا وارث بھی مقرر کر دیا.اس بات کو آپ یوں بھی لے سکتے ہیں کہ اجڑے ہوئے باغ کے گلہری پٹواری بن گئے(یہ ایک پنجابی زبان کی کہاوت ہے جسے میں نے اردو کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی ہے.)اس نئے گدی نشین کی بعیت بھٹو ازم کے ماننے والوں نے تو نہ کی مگر موقع پرست اورخوشامدی مستوں نےاس"پیر" کی بعیت کرنے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی.وہ پیرکی جادو گری تھی کہ اس کے ایک ایک قول پرہر مرید نے دوسرے سے بڑھ کر "رقص وفا" پیش کیا.اور پھر پانچ سال تک کرپشن کی وہ دھمال ہوئی کہ اس کی دھمک نے میرے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا. حکومت میں موجود ہر شخص نے جی بھر کے ملک کو لوٹا اور عوام کو بھٹو کے نام پر دئیے گئے ووٹ کی وہ سزا دی کہ جس کی ٹیس ابھی تک عوام محسوس کرتی ہے.اور کسی حد تک عوام اس سزا کی حقدار بھی تھی کیونکہ جب گیدڑ کو خربوزے کے کھیت کی رکھوالی کے لیے بیٹھاو گے تو کھیت کا اجڑنا تو لازم ہے.
پھر جب 2013 کا الیکشن آیا تو پیپلزپارٹی تو کونے میں لگ گئ اور مسلم لیگ (ن)اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں. تحریک انصاف نے زیادہ تر نئے لوگوں کو الیکشن میں کھڑا کیا جن پر کرپشن کا کوئی الزام نہ تھا.اس لیے عوام نے ان پر کافی ٹرسٹ کیا بالخصوص نوجوان نسل نے . لیکن دوسری طرف ایک عوامی رائے یہ بھی تھی کہ اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا تھا اسے اس منجدھار سے نکالنے کے لیے ایسی پارلیمنٹ کی ضرورت تھی جو حکومت چلانے کا تجربہ رکھتی ہو.اس لیے عوام کی اکثریت نے نواز شریف پر اعتماد کیا.اور مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی . لیکن خیبر پختون خواہ میں عوام نے کسی حد تک نئی قیادت پر ہی اعتماد کیا. ایک بار پھر نواز شریف وزیر اعظم بنے، شہباز شریف وزیر اعلیٰ اور عوام بھی بنے ایک بار پھر " بیوقوف ".الیکشن سے پہلے عوام کو ترقی کے دیکھلائے گئے خواب اس بار بھی خواب ہی رہ گئے اور اس خواب کے "خرگوش "کھا گئے میاں برادران اوران کے حواری. چونکہ یہ سب منجھے ہوئے کھلاڑی تھے اس لیے ترقی کے نام پر کبھی عوام کے پیٹ پر میٹرو چلا دی گئی اور کبھی کول پاور پلانٹ کے نام پر عوام کے مقدر پہ سیاہی مل دی گئی. ترقی تو ہوئی مگر حکمرانوں کے بنک بیلنس کی اور عوام کی تو حسب سابق تنزلی ہوئی . یعنی دھوکے کی عادی قوم کو ملا اس بار بھی بس"دھوکہ"
چونکہ عمران خان جب سے نواز شریف اقتدار میں آئے ہیں،تب سے حکومت کے حلق کی ہڈی بنے ہوئے ہیں. عمران خان کے مسلسل دھرنوں،جلسوں.،جلوسوں نے حکمرانوں کی تو جو نیند حرام کی ہے،سو کی ہےمگر عوام کے شعور کو ایک بار پھر " بیدار "کردیا ہے. اس بار عوام نے سوچ رکھا ہے کہ اب کوئی غلطی نہیں ہو گی. کوئی بھی قوم جب جاگ جائے(یہ قوم کا ذاتی خیال ہے،میری رائے نہیں ) تو اسے نہ کوئی دھوکے دے سکتا ہے اور نہ ہی صحیح انتخاب کرنے میں کوئی غلطی ہوتی ہے.اس لیے عوام نے سوچ رکھا ہے کہ اگر کوئی مسیحا ہے تو وہ عمران خان ہے.جس کا ماضی اس کی گواہی ہے.اس لیے اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کو مرکز میں حکومت ملنے کا چانس ہے. اس کے علاوہ کوئی دوسری چوائس بھی تو سامنے نہیں. چوائس ہو گی بھی کہاں سے.نون لیگ کا تو پاناما کیس اور جے ٹی آئی کے بیلنے میں ایسا رس نکلا ہے کہ بظاہر اب اس میں "رس"باقی نظر نہیں آ رہا. اور پیپلزپارٹی تو سیاست کے بستر مرگ پراپنی آخری سانسیں گن رہی ہے.اور اگر گدی نشین (زرداری ) کے اردگرد دیکھیں تو پرانے مریدوں میں سے بہت سارے نظر نہیں آ رہے. ان میں سے کچھ تو اللہ کو پیارے ہو گئے اور کافی سارے عمران خان کے "پیارے "ہو گئے.
تحریک انصاف پہلے دن سے جو نیا پاکستان کا نعرہ لے کر سیاسی اکھاڑے میں اتری ہے،وہ نعرہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے.اب عوام نیا پاکستان چاہتی بھی ہے.اب یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ پرانے پاکستان کو نیا کرنا چاہتے ہیں یا اس میں کوئی نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں. ہاں مگر ایک قدر مشترک ہے کہ عوام اب کچھ نیا چاہتے ہیں اس لئے اب عوام کی امیدوں کا مرکز تحریک انصاف ہے.کیونکہ عمران خان کا ماضی شاندار، حال ایمانداراور مستقبل جاندار نظر آتا ہے عمران خان کی باتوں اور تقریروں میں جو نظر آتا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی گاڑی جس کی ڈرائیونگ عمران خان کے ہاتھ میں ہے اگر ان کے اقوال کے ٹریک پہ چلتی رہی تو ضرور ترقی کی منزل تک پہنچے گی جہاں واقعی ایک نیا پاکستان نظر آتا ہے.
مگر رکئے! میرے پیارے وطن کی ہوشیار باش اور جاگتی عوام ذرا رکئے. ....تھوڑا دم لیجیے. ...تحریک انصاف کی اس گاڑی کو ترقی کے راستے پر دھکا لگانے سے پہلے ذرا اس گاڑی کے اندر تو جھانک لیجیے. دیکھیے اس میں کوئی قومی ڈاکو یا لٹیرا تو نہیں کسی سیٹ پر بیٹھ گیا؟.عمران خان تو ڈرائیور ہے اس کی نگاہ تو آگے کی طرف ہے. پیچھے اس کے کنڈکٹروں نے کتنے ڈاکو بٹھا لیے ہیں یہ تو آپ کو دیکھنا ہے.ایسا نہ ہو کہ آپ جس گاڑی کو آپ اپنی طاقت سے منزل تک پہنچائیں وہاں پہنچ کر دیکھیں تو اس میں 90% ڈاکو ہوں،جنہوں نے پہلے بھی آپ کو ہر منزل پہ لوٹا ہے.میں نے تو اس میں جھانک کے دیکھ لیا ہے. مجھے تو اس میں بہت سارے مزار بھٹو کے وہی دھمال ڈالنے والے مرید نظر آ رہے ہیں جو اپنے مرشد کے ایک حکم پراپنی قربانی تک دینے کو تیار رہتے تھے. اور اب جب مزار آنے والے وقت میں خسارے میں نظر آ رہا ہے تو انہوں نے اپنا مرشد ہی بدل لیا ہے. اور جن کے مونہوں سے ابھی تک عوام کے لہو کی بو آ رہی ہے. اور اس گاڑی میں مجھے مشرف کے حواری بھی نظر آ رہے ہیں کہ جن کے اقتدار کے پائے ہمیشہ عوام کے سینوں کو مسلتے رہے. رہی بات انصافین کی تو وہ تو بس پانچ فیصد ہی ہیں تحریک انصاف میں. کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ بس پارٹی بدلی ہے،لوگ وہی ہیں جن سے ہم مسلسل زخم کھا تے آ رہے ہیں. جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ہماری نسلوں کو تباہ اور میرے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے. اس لئے اب سچ میں جا گئے اور اپنے وطن عزیز کو ان لٹیروں سے نجات دلوائے تاکہ آنے والی نسل کو ایک روشن پاکستان ملے . مجھے کسی سیاسی پارٹی سے کوئی مطلب نہیں،نہ آپ کو ہونا چاہیے. ہم سب عوام کا مقصد صرف ایک ہے.اپنی اگلی نسل کو ایک خوشحال اور روشن پاکستان دینا.ہم نے آج تک پاکستان کی سب سیاسی جمہوری پارٹیاں آزما لیں.اب کس کو آزمائیں،کس پہ اعتماد کریں. ...؟یہ میرا سوال ہے آپ سے اور جواب آپ نے ڈھونڈنا ہے اپنے اندر سے، اپنے ضمیر سے. .....