خواب ہوئے راکھ - اختر علی تابش

وہ سرپٹ بھاگے جا رہی تھی. ننگے پاؤں، ننگے سر. دنیا و مافیہا سے بے خبر، وہ بس دوڑے جا رہی تھی. آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے چہرے کو دھوتے ہوئے قمیض کو بھگو رہے تھے. وہ اپنی پوری طاقت سے دوڑ رہی تھی، مگراسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کے پاؤں کو زمین نے زنجیر ڈال رکھی تھی.

وہ ایک ساعت میں اپنی جان، اپنی زندگی اپنے بلال کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی. بلال، جس میں اس کی روح تھی. وہ جب سے اس کی زندگی میں آیا تھا، اس کی دنیا میں گویا بہار آ گئی تھی. بلال کے لیے اس نہ جانے کتنی دعائیں مانگی تھیں. کتنے درباروں کے چراغوں میں تیل ڈالا تھا. کتنی راتوں میں سجدوں میں جا کر مصلے کو بھگویا تھا. پھر پتا نہیں اس کی کون سے وقت مانگی ہوئی دعا قبول ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے سجود و قیام کے انعام میں بلال کو اس کی جھولی میں ڈال دیا تھا. دنیا کا سب سے بڑا انعام پانے پر وہ خوشی سے نہال تھی. کسی بھی شادی شدہ عورت کے لیے سب سے بڑا انعام یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اولاد کی نعمت سے نوازے. اس کو تو اللہ تعالیٰ نے انعام نرینہ سے نوازا تھا. بہت ساری دعاؤں کے بعد اللہ نے بلال کی شکل میں اسے ایک خوبصورت بیٹا عطا کیا تھا. شادی کے سات سال بعد جب بلال پیدا ہوا تو زچگی میں کچھ ایسی پیچیدگیاں ہوئیں کہ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکتی. مگر بلال کو پانے کی اتنی خوشی تھی کہ وہ اس بری خبر کو بھی جیسے بھول ہی گئی تھی. بلال اس کی زندگی میں کیا آیا، خوشیوں نے جیسے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال لیے تھے.

بلال اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے سب گھر والوں کی آنکھ کا تارا تھا. بچپن سے ہی بلال کی ہر خواہش اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی پوری کردی جاتی. اس کا خاوند کاشتکار تھا. اپنی ذاتی دو مربع زمین تھی جس میں وہ کھیتی باڑی کرتا تھا. آمدن معقول ہی نہیں بلکہ ان کے لیے تو بہت زیادہ ہی تھی، اسی لیے بلال کی زندگی شہزادوں جیسی گزر رہی تھی.

یہ بھی پڑھیں:   عظیم ماں - لطیف النساء

دن گزرتے گئے. زندگی وقت کے رتھ پر سوار سالوں کا سفر کرتی رہی. زمانے کی تند و تیز ہوائیں بہت کچھ بدل گئیں. اس کے بالوں میں چاندی اترنے لگی. اس کے خاوند کی داڑھی میں سفیدی اور ناک پہ عینک آ گئی. بلال بھی اب کالج جانے لگا تھا. بہت کچھ بدلا مگر نہیں بدلا تو اس کے گھر میں خوشیوں کا وہ پڑاؤ تھا جو بلال کے پیدا ہونے کے ساتھ آیا تھا، وہ ہنوز خیمہ زن تھا. بلال نے بھی اپنے والدین کی محبت کا خوب جواب دیا تھا. وہ بہت فرمانبردار اور ذہین لڑکا تھا. پڑھائی میں وہ بہت ہوشیار تھا. میٹرک میں وہ بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو کر کالج میں داخل ہوا تھا. ماں کا خواب تھا کہ بیٹا ڈاکٹر بنے، سو وہ اس کی تکمیل کے لیے دن رات محنت کرتا. سفید کوٹ پہن کر بیمار لوگوں کا علاج کرتے ڈاکٹر بلال کو بچپن سے ہی بہت پسند تھے. مستقبل کے حسین خواب سجائے زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی.

عید آنے والی تھی اور بلال کے کپڑے ابھی تک شہر میں درزی کے پاس پڑے ہوئے تھے. اس دن وہ اپنی ماں کو یہ بتا کر شہر کو نکلا کہ وہ اپنے دوست یوسف کے ساتھ کچھ سامان لینے شہر جا رہا ہے اور واپسی پر اپنے کپڑے بھی لیتا آئے گا. ماں نے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا. اسے ابھی گھر سے نکلے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ان کی ہمسائی بھاگتی ہانپتی بلال کی ماں کے پاس آئی.
زلیخا زلیخا. ....وہ...وہ بلال.... اس عورت کا سانس پھولا ہوا تھا اور اس سے بات نہیں ہو پا رہی تھی.
کیا بات ہے فاطمہ؟ تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو...؟
زلیخا وہ ادھر سڑک پر پٹرول والا ٹرک الٹ گیا ہے.. اور سارا پٹرول کھیتوں میں پھیل گیا ہے..
تو پھر. ..؟ وہ فاطمہ کی بدحواسی کو دیکھ کر پریشان سی ہوگئی.
تو سارے گاؤں والے پٹرول اکٹھا کرنے لگے. بلال بھی وہاں کھڑا ہوا تھا، پھر ایک دم پٹرول نے آگ پکڑ لی اور سب کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا.
تو میرا بلال کہاں ہے.. اس نے چیختے ہوئے پوچھا.
وہ بھی ان کے ساتھ...
کیا کہہ رہی ہو؟ گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ ننگے سر باہر کو بھاگی. بہت سارے لوگ سڑک کی طرف بھاگ رہے تھے. وہ جب جائے حادثہ پر پہنچی تو اس نے ہر طرف آگ ہی آگ دیکھی. وہ پاگلوں کی طرح بلال کو آوازیں دینے لگی. اچانک اسے بلال کا دوست یوسف نظر آیا جو چیخ چیخ کر رو رہا تھا.
یوسف بلال کہاں ہے؟ اس نے چلاتے ہوئے پوچھا.
بلال جل گیا خالہ.. میری آنکھوں کے سامنے.. وہاں...؟ اس نے آگ کے دریا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا.
نن .... نہیں .. ایسا نہیں ہو سکتا .... میرا بلال نہیں مر سکتا ... بلال .... بلال...!
وہ بیٹے کو آوازیں دیتی آگ کے دریا کی طرف بڑھنے لگی. اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا. بس اس کو اپنے سامنے آگ میں بلال دکھائی دے رہا تھا جو اسے پکار رہا تھا. اور وہ اپنے بیٹے کو بچانے آگ کی طرف بڑھے جا رہی تھی. آخری آواز جو اس کی سماعتوں سے ٹکرائی وہ یہ تھی.
اوئے! اس عورت کو پکڑو، اس کے کپڑوں کو بھی آگ لگ گئی ہے.