پنجاب کی تاریخ سے برتا گیا تعصب - محمد عمیر

چند سال قبل پاکستانی فلم ”وار“ دیکھی جس میں فلم کے ہیرو شان کا ایک ڈائیلاگ تھا کہ ”تاریخ جب تک شکاری لکھیں گے شیروں کا ذکر نہیں آئے گا“۔

تاریخ پڑھتے ہوئے بھی اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ مغلوں پر سب سے تنقید اس وجہ سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے بھائیوں اور رشتے داورں کو اقتدار کے لیے قتل کیا۔ سکندر اعظم نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن بھی اس وجہ سے قتل کروائی، اپنے رشتے دار قتل کروائے مگر سکندر اعظم کے بارے لکھتے مؤرخ یہ بات بھول جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ سے بہت تعصب برتا گیا ہے۔ ذاتی خیال ہے کہ کوئی بھی انسان غیر جانبدار نہیں ہوسکتا، مگر اچھے تاریخ دان کی نشانی یہی ہے کہ اس میں یہ غیر جانبداری کم سے کم ہو۔

پنجاب کی تاریخ عمومی طور پر یہی بتائی جاتی ہے کہ یہ جنگجو نہیں ہیں. پنجاب نے کوئی بڑا جنگجو پیدا کیا نہ بحیثیت قوم پنجابی جنگ و جدل پسند کرتے ہیں. یہ ہر غیر ملکی آقا کے سامنے جھک جاتے ہیں، مگر تاریخ کا ادنی طالب ہونے کی حیثیت سے میں نے جو کچھ پڑھا، وہ اس کے برعکس ہے. مجھے پنجاب کی تاریخ سے جنگجو بھی اعلی نسل کے ملے، مزاحمت بھی مثالی دیکھنے کو ملی اور عزم و ہمت ہمالیہ سے بلند دکھائی دی۔ پنجاب کی تاریخ شاید سب سے زیادہ تعصب کا شکار رہی، لکھنے والے نسلی، علاقائی اور مذہبی تعصب سمیت دیگر تعصبات کا شکار تھے، جس کے باعث اپنے علاقے، مذہب اور نسل سے ہٹ کر کسی دوسرے کو ہیرو تسلیم ہی نہیں کیا گیا، کسی کے عزم و ہمت کی مثال ہی نہیں دی گئی، کسی اور کی بہادری مشعل راہ نہ بن سکی۔

سکندر اعظم کے وقت سے دیکھا جائے تو اس نے عرب کا علاقہ صرف اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ جب چاہوں گا فتح کرلوں گا. سکندر دنیا فتح کرنے نکلا تو اس کی ہیبت سے ایران کا بادشاہ دارا راہ فرار اختیار کرگیا۔ دارا بھاگتے ہوئے اپنے بیوی بچوں اور ماں کو خیمے میں ہی چھوڑ گیا۔ جب سکندر جہلم پہنچا تو اس کو روکنے اور اس سے جنگ کرنے والا پنجاب کا سپوت راجہ پورس تھا۔ راجہ پورس کا بیٹا مارا گیا مگر وہ دیوانہ وار لڑتا رہا۔ اس نے اس وقت تک ہار نہ مانی جب تک اس کا جسم زخموں سے چور ہو کر بالکل نڈھال نہیں ہو گیا۔ پورس کو گرفتار کرکے اسی روز سکندر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے پورس سے پوچھا: ”بتاؤ، تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟“ پورس نے جواب دیا: ”وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔“ پورس کے جواب اور اس کی بہادری سے متاثر ہو کر سکندر نے پورس کا علاقہ اسے واپس کر دیا۔ جہلم کے بعد ملتان میں جنگ کے دوران سکندر کو تیر لگا، اس وجہ سے ملتان میں سکندر نے بہت قتل عام کروایا، مگر ملتان کے لوگ بہادری سے لڑے. سکندر اور اس کی فوج کو سب سے زیادہ نقصان جہلم اور ملتان میں لڑتے ہوئے ہوا۔ اپنے زخموں اور فوج کے مزید نہ لڑنے کے باعث سکندر کو واپس جانا پڑا اور اسی واپسی میں ہی اس کی موت واقع ہوئی۔

رائے عبداللہ بھٹی عرف دلا بھٹی، جسے پنجاب کا بیٹا یا پنجاب کا رابن ہڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دلا بھٹی نے شہنشاہ اکبر کے دور میں مغلوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔ اس کے والد کو اکبر نے پھانسی دے دی تھی۔ دلا بھٹی کی جنگ وقت کے سرمایہ داروں کے خلاف تھی۔ وہ خواتین کے حقوق کی آواز تھا. اس نے اکبر کی فوج کو شکست دی. بعد ازاں اسے بھی پھانسی دے دی گئی، مگر آج بھی دلا بھٹی مزاحمت اور عزم و ہمت کا استعارہ ہے۔

احمد شاہ ابدالی نے 1748ء سے 1767ء تک ہندوستان پر کئی حملے کیے۔ پہلا معرکہ پنجاب کے حاکم میر معین الملک عرف میر منو کے ساتھ ہوا، جس نے بہادری اور دلیری کی داستان رقم کی، مان پور میں پنجاب کا بہادر جرنیل ڈٹا رہا، آخرکار ابدالی فوج کو شکست ہوئی۔ احمدشاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ پنجاب میں قدم جمانے سے قبل کابل، قندھار، اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا۔

انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی لڑنے والا پنجاب کا ایک اور سپوت رائے احمد خان کھرل تھا۔ رائے احمد خان کھرل بہادری، شجاعت اور عزم وہمت کی مثال تھے۔ اپنی بہادری سے انھوں نے جنگ آزادی کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ رائے احمد خان کھرل شہید کا غیرت مند کردار تاریخ میں ایک علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ نامساعد حالات اور قلیل ترین وسائل ہونے کے باوجود انھوں نے انگریز سامراج کی پالیسیوں سے 81 سال کی عمر میں بغاوت کی۔ ان کے ساتھ قید ہوئے تو جیل پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو چھڑوایا، آخری دم تک انگریز کے خلاف لڑتے رہے اور شہید ہوئے۔

بھگت سنگھ برصغیر میں انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت کی نشانی بن کر ابھرا، انگریزوں پر حملے کیے، اپنی قوم کو انگریزوں کے خلاف متحد کیا۔ آخر کاراسے بھی دلا بھٹی کی طرح لاہور میں پھانسی دی گئی۔

پنجاب کی طرف سے اجتماعی طور پر جنگ یا مزاحمت نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی نسلی، مذہبی اور علاقائی تعصب ہی تھا۔ اس تعصب کی بناء پر پنجاب کے حکمران غیر ملکیوں کے خلاف اکھٹے نہ ہوسکے اور غیر ملکی جنگجوؤں نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں حکومت کی۔ مگر مزاحمتی کردار اور غیر ملکیوں کے خلاف جنگ لڑنے والے لوگ پنجاب میں ہر دور میں موجود رہے ہیں۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جزاک اللہ، پنجاب کے مقامی ہیروز کا ذکر واقعی کم ہی پڑھنے کو ملتا ہے- ماضی میں تو ایسا جیسا کہ آپ نے فرمایا اس بنا پر تھا کہ اکثر تاریخ لکھنے والے غیرپنجابی تھے، مگر قیام پاکستان اور پھر مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد تو اب سب سے غالب صوبہ پنجاب اور سب سے بڑی لسانی اکائی پنجابی ہیں، مگر حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ ان ہیروز کا ذکر پنجاب کی درسی کتابوں میں بھی نہیں ملتا- ہماری آج کی سکولوں میں پڑھتی نسل نے دلا بھٹی، رائے احمد کھرل اور بھگت سنگھ کا شاید نام بھی نہیں سن رکھا- شاید ہم پنجابی خود بھی اپنی زبان اور تاریخ کے متعلق ایک احساس کمتری کا شکار ہیں