بلوچستان اور اس کی ثقافت - ببرک کارمل جمالی

آج سے دو ہزار سال قبل تجارتی قافلے برف پوش پہاڑوں کے سائے میں پگڈنڈیوں پر سفر کیا کرتے تھے. راستے انتہائی پر پیچ گھاٹیوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ انہی پتھروں کے راستے تاجر ریشم کی تجارت کی غرض سے دور دور تک سفر کرتے تھے. اگر میں اپنے ماضی پہ نظر ڈالوں تو یہ نہیں معلوم کہ میں کب ان پہاڑوں کی محبت میں گرفتار ہو گیا. میں نے جب پہلی مرتبہ پہاڑ دیکھا تو حیران رہ گیا کہ کیسے پیارے اللہ میاں نے ان کو روک رکھا ہے۔ اس وقت میں دسویں جماعت میں تھا۔ میری ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ میں ان پہاڑوں کو پار کر کے ان کے پیچھے آباد دنیا اور اس کے رسم و رواج اور ثقافت دیکھوں.
کیسے لوگ بستے ہیں ؟
کیسے ان کے ہاں کھانا پکائے جاتے ہیں؟
کیا چیزیں کھاتے ہیں؟

جب میں نے پہلی مرتبہ کوئٹہ دیکھا تو سب کچھ بھول گیا کہ آخر ان میں اور ہم میں کچھ فرق نہیں ہے. پہلی مرتبہ جب ان پہاڑوں کو پار کر کے ثقافت کو دیکھا تو میں دنگ رہ گیا کہ اصل بات یہ تھی کہ ہر موسم بلوچستان میں رنگیلا ہوتا ہے۔ کہیں گرمی تو کہیں سردی، کہیں بارش تو کہیں بادل اور کہیں بادل کا نام و نشان نہیں. ہر موسم میں بلوچستان کی سر زمین پر گائے بھیڑ بکریاں اور اونٹ اور گدھے ہر ملیں گے اور ساتھ ان بلند چوٹیوں پہ انھیں چراتے ہوئے چرواہے، ان کو گرمی کی فکر نہ سردی کی، اگر کچھ فکر ہے تو بس اپنے جانوروں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی۔

میرا بلوچستان ایسے ہے جیسے مسکراہٹ، محبت اور حسین نطارے سب ایک ساتھ جمع کیے ہو. بلوچستان کی ثقافت دیکھنے والا ہر شخص داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے. بلوچستان دیگر صوبوں سے مختلف ہے، زیادہ پسماندہ ضرور ہے مگر رقبے کی طرح دل کا بھی سب سے بڑا صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ انگریز سامراج کے دور میں لگائے گئے ہزاروں میٹھے شہتوت کے درخت بلوچستان کے ٹھنڈے موسم میں اپنے جوبن پر دکھائی دیتے ہیں، خوب فصل اگتی ہے جسے مقامی لوگ کم اور باہر کے لوگ زیادہ کھاتے ہیں. اسی طرح خشک فورٹ اور سیب کے باغات جگہ جگہ دھرتی کا حسن دوبالا کرتے ہیں. یہاں کے سیب پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں دنیا کا گرم ترین علاقہ سبی سخت گرمی کی وجہ سے شہرت حاصل کرچکا ہے، جبکہ بلوچستان کے علاقے زیارت کی سردی بھی معروف ہے، اور یہ اعلی صحت افزا مقام میں مقام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

بلوچ ثقافت میں سب سے زیادہ شلوار اور قمیض کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ ایک اضافی چیز پگڑی (تراب) بھی ہے جسے بلوچستان کے باسی شوق سے پہنتے ہیں. تراب بلوچ صدیوں سے پہنتے ہوئے آرہے ہیں. اس کی ابتداء بلوچوں نے کب کی، یہ گوگل بھی نہیں بتا سکتا، البتہ کچھ مقامی روایات میں ہے کہ اس خطے میں جب بلوچ ہجرت کرکے آئے تو ترابی ساتھ لائے تھے۔ بلوچ خواتین میں پشک (پورے قمیض پہ برتھ لگائی ہوئی کشیدہ کاری) پہنی جاتی ہے. اس کی جیب اتنی لمبی ہوتی ہے کہ دس کلو چینی بھی آرام سے آجائے. صرف اس جیب کو بنانے کے لیے کم از کم دو ماہ تک لگ جاتے ہیں۔ اس کشیدہ کاری میں بہت محنت کی جاتی ہے. یہ کشیدہ کاری دنیا میں سب سے مہنگی اور اور سب سے زیادہ وقت لگا کر بنائی جاتی ہے. اس کی قیمت بلوچستان میں دس ہزار ہے، دیگر کئی جگہوں پر لاکھ روپے تک بھی چلی جاتی ہے۔ آج بھی لڑکیاں اس کشیدہ کاری والی قمیض کو بہت شوق سے پہنتی ہیں، خاص کر یونیورسٹیوں کی طالبات۔ چپل بھی بہت مشہور ہے، بلوچی چپل اور نوروزی (چھبھٹ)چپل، جو چھ سے سات سال تک آرام سے نکال جاتی ہے. سنا ہے کہ ان کا چمڑا ایران سے منگوایا جاتا ہے جبکہ بلوچستان میں ہزارہ قوم کے بنائے ہوئے بوٹ ایسے ہیں کہ ختم یا پرانے ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں۔

بلوچستان کی سرزمین کھانوں کے حوالے سے بھی بہت مشہور ہے. سردیوں کے موسم بلوچستان کی سجی ایسے ہے جیسے کوئی جنت کا گوشت، اس سجی کو سجانے کے لیے ایک بڑے دائرے میں الاؤ جلتے ہیں جن کے گرد لوگ بیٹھ کر گرمی بھی حاصل کرتے ہیں اور سجی کو تیار بھی کرتے ہیں. بڑی بڑی سلاخیں گاڑ کر ان میں مصالحوں سے بھرے بکرے کے گوشت کو آگ کی شدت پر تیار کیا جاتا ہے. بنانے میں چار سے پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔ خشک گوشت کا رواج بھی صدیوں سے چلا آ رہا ہے، رمضان المبارک میں اکثر استعمال کیا جاتا ہے. گوشت کو ایک کپڑے کے ساتھ باندھ کے لٹکایا جاتا ہے، جس سے گوشت خشک ہوتا جاتا ہے، پھر تین چار ماہ بعد اس گوشت کو مختلف کھانوں کے ساتھ مکس کرکے لگایا جاتا ہے. ایک اور رواج خشک لسی ہے، اس میں لسی کو ایک کپڑے کے ساتھ باندھ کر لٹکایا جاتا ہے، اس سے سارا پانی نکل جاتا ہے، اسے خرود کا نام دیا جاتا ہے، شکل لڈو جیسی بنائی جاتی ہے، پھر اسے سالوں تک استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں-گہرام اسلم بلوچ

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان میں مختلف قومیں آباد تو ہوگئیں، مگر ان سب کے رسم و رواج اور ثقافت الگ حیثیت رکھتی ہے اور منفرد شناخت کی حامل ہے. یہ سرزمین جتنی وسیع ہے، اتنی ہی ثقافتوں نے یہاں جنم لیا ہے۔ سندھی ثقافت لسبیلہ کی طرف سے داخل ہوئی جبکہ کوئٹہ کی طرف پشتون ثقافت نے جنم لیا. بلوچستان کے اکثریتی علاقے بلوچ ثقافت کے حامل ہے اور وہی ان کی پہچان ہے۔ گوادر میں بلوچ رسم و رواج صدیوں سے چلے آ رہے ہیں. کہا جاتا ہے کہ عمان کے بلوچ گوادر کی ثقافت کے بانی تھے.