ایک بے چہرہ کہانی کا دردناک اَنت - احمد اعجاز

مجھے گل شیر کے مرنے کی خبر دی گئی۔ مجھے اُس کے جینے کی خبر کب دی گئی تھی؟ جو مرنے کی خبر پر حیرت ہوتی۔ مگر پھر بھی مَیں نے کچھ آنسو لفافے میں ڈالے، اُس کے گھر کا پتہ لکھا اور لفافہ ڈاکیا کے حوالے کر دیا۔ ہم دونوں محلے دار تھے۔ ایک ساتھ ہی بڑے ہوئے۔ وہ مجھ سے پہلے چل بسا، مَیں قطار میں لگا اپنی باری کا انتظار کھینچ رہا ہوں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم زمین کے جس حصے پر سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں، ملک الموت کا گھر قریب پڑتا ہے، یوں ہمیں مرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کھینچنا پڑتا۔

مَیں نے گل شیر کو، جب تک وہ جیا، تین حالتوں میں پایا۔ مزدوری کرتے، نماز پڑھتے اور پیپلز پارٹی کے حق میں نعرے مارتے۔ یہ تھی اُس کی پوری زندگی۔ مَیں خوش قسمتی سے چار جماعتیں پڑھ گیا اوروہ اَن پڑھ رہا کہ سکول کا راستہ اُس کے گھر کے قریب نہیں پڑتا تھا۔ ایک مُدت اُدھر، ایک شام جب وہ مغرب کی نماز پڑھنے جا رہا تھا، مَیں نے اُس سے پوچھا کہ گل شیر تمھیں نماز آتی ہے؟ کہنے لگا ’’ہاں کیوں نہیں آتی‘‘، مَیں نے کہا ’’اچھا! درودشریف تو سناؤ‘‘، اُس نے درود شریف کی جگہ، معلوم نہیں کیا کچھ سنا ڈالا، مَیں ہنسا، تو معصوم چہرہ بناتا مسجد کی اُور بڑھ گیا۔ اُس دِن وہ مجھے اَنا طول فرانس کا شعبدہ باز لگا۔ اُس کا یہ انداز میرے اندر گھر کر گیا تھا۔ (خدا کے ہاں معصومیت کا کیا درجہ ہے؟ اس کے لیے فرانسیسی افسانہ نگار اَناطول فرانس کے افسانہ ’’شعبدہ باز‘‘ کی خواندگی ازحد ضروری ہے)

وہ بھٹہ پر مزدوری کرتا تھا، ایک دِن بھٹہ مالک پر غصے کی کیفیت طاری ہوئی تو اُس نے گل شیر کو اُٹھوا کر بھٹے میں ڈلوا دیا، الزام یہ لگایا کہ قیمتی سامان چوری کرتا ہوا پایا گیا، صاف ظاہر ہے کہ الزام بعد میں غلط نکلا۔ وہ بے چارہ مکمل طور پر جل گیا تھا، کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ بچ پائے گا۔ تاہم وہ ایک عرصے بعد ٹھیک تو ہوگیا، مگر ایک بازو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہوگیا۔ اُسی محلے میں ایک اسٹام فروش رہتا تھا، جس نے بھٹہ والوں کے خلاف مزدور اتحاد بنا رکھا تھا۔ مَیں گل شیر کو بعدازاں ایک عرصہ تک مزدور اتحاد کے چھوٹے چھوٹے جلسوں میں دیکھتا رہا۔ اُنہوں نے بھٹہ والوں کے خلاف کیس بھی کر رکھا تھا۔ مزدور اتحا د کا سربراہ ہر وقت گل شیر کو اپنے دائیں بائیں رکھتا۔ اردگرد کے لوگ کہتے تھے کہ گل شیر پر ہونے والے ظلم نے بہتوں کے لیے روزی روٹی کے وسیلے پیدا کر دیے ہیں۔ شہر میں بھی ہر سال منعقد ہونے والے یومِ مئی کے جلسے میں اُس کو اگلی صف میں بٹھایا جاتا۔

گل شیر پیپلز پارٹی کا جیالا تھا۔ وہ اپنے شہر کے ایک بڑے جیالے عبدالرحمن مانی کی عقیدت میں گرفتار تھا، یقیناً وہ مانی جیسا جیالا بننا چاہتا تھا۔ عبدالرحمن مانی پیپلز پارٹی کا دیرینہ کارکن ہے، بی بی، موصوف کو بہت عزت دیتی تھی، بی بی نہ رہی تو مانی کی پارٹی میں پہلے جیسی حیثیت بھی نہ رہی۔ پچھلے دِنوں وہ میرے پاس آیا اور صحافی بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میرے جیسا بے چہرہ مزدور صحافی کسی کی کیا مدد کرسکتا ہے؟گل شیر جب بھی مانی سے مل کر آتا تو سیدھا میرے پاس آتا اور ملاقات کا احوال بتاتا۔ اگر میرے پاس وقت ہوتا تو وہ اُس وقت تک بیٹھارہتا، جب تک قریبی مسجد سے نماز کے لیے اذان نہ ہوتی۔ وہ اس بات پر خوش رہتا کہ پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت اُس کو جانتی ہے اور نعرے مارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جن دِنوں اُس کو بھٹہ کی آگ میں جھونکا گیا تھا، اُن دِنوں پارٹی نے اپنے جیالے کی خبر تک نہ لی تھی۔ یہ دُکھ کبھی کبھی اُس کو گھیرتا تھا، مگر پھر وہ دُکھ کے احساس کو جھٹک کر نعرے مارنے شروع کر دیتا۔ اُس شہر کے جن لوگوں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پارٹیاں تبدیل کی تھیں، وہ اُس کے نعروں کی شدید زَد میں رہتے تھے۔ اُس کے نزدیک وفاداری ہی اصل ایمان ہے۔

جب کوئی جلسے جلوس نہ ہوتے، تو وہ بھٹہ پر پھر سے کام شروع کر دیتا۔ بھٹہ مالک اس ڈر سے کہ کہیں پھر سے کوئی اس کو ہمارے خلاف استعمال نہ کرے، کام پر رکھ لیتا۔ مگر اب وہ ایک بازو سے اینٹیں اُٹھاتا ہوا پایا جاتا۔ اُس کا باپ نحیف تھا، مگر وہ جنوبی پنجاب کے اُس محلے میں رہتا تھا، جہاں آخری سانس تک کام کرنا پڑتا ہے۔ دونوں باپ بیٹا سارا دن کام میں جتے رہتے تو شام تک چار پیسے جوڑ پاتے۔

مَیں نے خبر دینے والے سے پوچھا کہ ’’بےچارہ کیسے مرا؟‘‘، بتایا گیا کہ کئی دِن بخار رہا، محلے کے ڈاکٹر سے دوائی لیتار ہا، آرام نہ آیا تو کسی نے ترس کھا کر شہر کے ڈاکٹر سے چیک اَپ کروایا، ٹائی فائیڈ نکلا، تھوڑی دوائیاں مہنگی تھیں، خرید نہ سکا، بس مرگیا، لیکن یہ گل شیر اور اُن جیسے ہزاروں لاکھوں کا حیران کن انجام نہیں ہے۔ یہاں ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہےگا۔

گل شیر نے اس سماج کو بہت کچھ دیا۔ وہ اپنی پارٹی کے حق میں نعرے لگاتا، کئی انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوتا اور جب کبھی مؤذن اذان دے کر اس انتظار میں بیٹھا ہوتا کہ کوئی اللہ کا نیک بندہ آئے اور جماعت کھڑی ہو سکے تو وہ عین اُن لمحوں میں پہنچ جاتا تھا۔ مگراُس کو سماج سے ملا کیا؟ ایک بے چہرہ اور اُدھوری زندگی…؟؟

مگر …مگر…گل شیر! تمہارا قصور محض یہ ہے کہ اپنی عمر کے چھتیس برس اس لیے بےچہرہ جیناپڑے کہ تمہارے سماج کا کوئی چہرہ نہیں ہے. سچ ہے کہ سماج کی بے چہرگی افراد کو مکمل زندگی نہیں دے پاتی۔

Comments

احمد اعجاز

احمد اعجاز

احمد اعجاز معروف صحافی، انٹرویوز اور افسانہ نگار ہیں۔ روزنامہ اوصاف، روزنامہ دنیا کے میگزین سیکشن سے وابستہ رہے، آج کل روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز میگزین سیکشن سے منسلک ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’کہانی مجھے تلاش کرتی ہے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ سماجی ایشوز پر وہ لکھتے رہے ہیں، شناخت کا بحران ان کی ایک اہم کتاب ہے۔ آج کل وہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کے ادارتی صفحے کے لئے ’’کہانی کی کہانی‘‘ کے نام سے روزانہ ایک مختصرکہانی لکھ رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */