درس نظامی اور غلط ترجیحات - رعایت اللہ فاروقی

اسلامی کلینڈر کے ماہ شوال کا آغاز ہوچکا۔ اس مہینے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کا مہینہ ہے۔ اس ماہ لاکھوں طلبہ اپنی سالانہ تعطیلات کے خاتمے پر مدارس کا رخ کریں گے اور ان میں ایک بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہوگی جو پہلی بار کسی مدرسے میں قدم رکھیں گے اور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ یہ ہمارے وہ بچے ہیں جو آنے والے وقت میں معاشرے کی دینی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھا لیں گے۔ ایسے میں یہ سوال دل کو افسردہ کر دیتا ہے کہ کیا یہ ان ذمہ داریوں سے نمٹنے کے لیے درکار صلاحیتوں سے آراستہ ہوں گے؟ اور کیا یہ اہم ترین فریضہ وہ بحسن و خوبی انجام دے پائیں گے؟ کاش اس کا جواب اثبات میں ممکن ہوتا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ جب یہ سوال ان علماء کرام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے جو اس وقت یہ ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں تو وہ فورا دفاعی پوزیشن اختیار کرکے ’’سب اچھا ہے‘‘ کا چلن اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ یہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے ان کی قابلیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی ایک ایسی سعی شروع ہوجاتی ہے جو بہتری کے امکان کو ہی معدوم کردیتی ہے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ ان کی قابلیت بہت قابل رشک ہے مگر یہ قابلیت برٹش ہندوستان سے قبل والے سماج کے تقاضوں کے مطابق ہے، اور یہ قابلیت آج کی تاریخ میں صرف اس صورت میں کار آمد ہو سکتی ہے کہ پچھلے دو سو سال میں ہونے والی سائنسی ترقی ہی نہیں بلکہ انگریزی تعلیم کو بھی مٹا دیا جائے اور ایک مکمل اردو خواں سماج قائم کردیا جائے۔ ارتقاء کا پہیا الٹا نہیں گھومتا، اس کی گاڑی میں ریورس گیئر بھی نہیں ہوتا۔ فطرت کا ناقابل تنسیخ اصول یہ ہے کہ ارتقاء کے قدم سے قدم ملانے کے لئے سماج کا ہر شعبہ اپنے نظام کو بھی ارتقائی مراحل سے گزارے۔ جو قومیں یا شعبے ایسا نہیں کرتے ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ہمارے دینی شعبے کا ہو چکا۔

جو اپنے سیل فون میں سکریچ کارڈ ریچارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے وابستہ شرعی مسائل کی کیا رہنمائی کریں گے؟

جب ہندوستان میں انگریزی تعلیم عوامی سطح پر عام ہو رہی تھی تو بہت ہی بروقت شیخ الہند نے اہل مدرسہ کو اس جانب متوجہ کیا تھا، ان کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی کی تقریروں میں بھی اس مسئلے کی اہمیت کی جانب اشارے ملتے ہیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد تو ہمارے ہاں انگریزی زبان کے خلاف باقاعدہ محاذ قائم کر لیا گیا، اسے نجس اور حرام تک کہا گیا۔ بھلا زبان بھی کبھی نجس اور حرام ہو سکتی ہے؟ وقت کی اہم مذہبی شخصیات کے اس مؤقف نے ہمیں ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے کیونکہ ان کے اس مؤقف کے نتیجے میں ملک کے تمام مدارس نے یہ تہیہ کر لیا کہ انگریزی زبان کے لیے ان کے دروازے بند رہیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مساجد میں وہ ائمہ کرام آ گئے جو انگریزی میں لکھا نوٹس سمجھنے کے لیے محلے کے کسی انگریزی پڑھے بچے کے محتاج ہیں۔ یہ بعینہ اس منظر کا ریورسل ہے جو تیس چالیس سال قبل ہمارے دیہات میں عام تھا کہ شہر سے کسی عزیز کا خط آجاتا تو گاؤں والے مولوی صاحب کے پاس جاتے جو وہ خط انہیں پڑھ کر سناتے۔ آج کے منظر میں شہری مولوی انگریزی کاغذ اٹھائے مقتدی کے دروازے پر نظر آتے ہیں، کیا یہ کوئی خوشگوار منظر ہے؟ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جو اپنے سیل فون میں سکریچ کارڈ ریچارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے وابستہ شرعی مسائل کی کیا رہنمائی کریں گے؟

اس کمزور استعداد کے ساتھ سماج انہیں تنخواہیں بھی وہی دے رہا ہے جو اس استعداد کی ہونی چاہییں اور ظاہر ہے کہ یہ تنخواہیں ان کی ضروریات پوری نہیں کرتیں۔

نقصان صرف یہ نہیں ہوا کہ آج کے علماء جدید چیلنجز سے نا آشنا ہیں بلکہ ہم مجموعی طور پر بھی مکمل علمی تباہی سے دوچار ہوگئے۔ ہمارا نصاب جمود کا شکار ہوکر اس حد تک بے اثر ہوگیا کہ فقط خطیب، امام اور مدرسین پیدا کر رہا ہے۔ دو چار بڑے علماء کو چھوڑ کر باقی علماء کتاب لکھنے کے لیے قلم اٹھاتے ہیں تو کسی درسی کتاب کی شرح لکھ لیتے ہیں اور وہ بھی ایسی گلابی اور مغلق اردو میں کہ پڑھنے والا ڈسپرین کی طلب محسوس نہ بھی کرے تو دودھ پتی کی تلاش میں تو ضرور دوڑتا نظر آتا ہے اور حاصل ان اردو شروحات کا یہ ہے کہ یہ نکمے پن میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب مدرسین عربی کتب کو اپنے فہم سے حل کرتے اور پڑھاتے، آج ہر مدرس اردو شروحات کا محتاج نظر آتا ہے اور ان کے بغیر وہ عربی متن تک حل نہیں کر سکتا۔ یعنی المیہ فقط یہ نہیں کہ کسی جدید روشنی سے ان کی آستیں خالی ہے بلکہ جو متون انہیں 1300 سال کے تاریخی تسلسل کے ساتھ میسر ہیں، ان پر بھی ان کی گرفت کمزور پڑ چکی۔ اس کمزور استعداد کے ساتھ سماج انہیں تنخواہیں بھی وہی دے رہا ہے جو اس استعداد کی ہونی چاہییں اور ظاہر ہے کہ یہ تنخواہیں ان کی ضروریات پوری نہیں کرتیں۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکال لیا گیا ہے کہ کہیں سے کوئی پلاٹ قابو کیا جائے اور اس پر کسی ’’الجامعۃ النامعلومیہ‘‘ کی بنیاد ڈال کر ایک تاحیات چندہ سکیم لانچ کر دی جائے اور جب وفات کا وقت آئے تو حرام ہونے کے باوجود یہ وقف ادارہ اولاد کو وراثت میں دے دیا جائے۔ یہ کسی غیر کے یا غیر کو دیے گئے طعنے نہیں، بلکہ ہمارا اپنا ماتم اور ذاتی نوحہ ہے، لیکن ہمیں ماتم و نوحے سے آگے بڑھ کر ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ باہر سے آ کر ہمارے مسائل کوئی حل نہیں کرے گا، بلکہ باہر والے تباہی کے مشورے دیں گے، یہ اصلاح احوال خود ہمیں اپنے غور و فکر اور دست و بازو سے کرنا ہوگا جس کے لئی سب سے پہلی ضرورت احساس کی ہے۔ تباہی کا ادراک ہوگا تو اصلاح کی صورتیں پیدا ہوں گی۔ ہم کب تک تاریخی واقعات سنا کر اپنی عظمت کا بھرم قائم کرنے کی مصنوعی کوششیں کرتے رہیں گے؟ پدر من سلطان بود نالائقوں کا منتر ہوا کرتا ہے اور یہ منتر اب بے اثر ہو گیا ہے کیونکہ اب وہ نسل کھڑی ہوگئی ہے جو کہتی ہے، اپنے آباء کی داستانیں کب تک سناؤ گے؟ کوئی اپنا کارنامہ بھی تو دکھاؤ! علم و عرفان کی جو وادیاں تم نے بذات خود فتح کی ہیں، ذرا ان کے درشن بھی تو کراؤ! ہے کوئی وادی جو فتح کی گئی ہو؟

کتنا زبردست معاشرہ ہے ہمارا کہ ہم سے شاکی بھی ہے اور سالانہ اربوں روپے کا چندہ ملک بھر کے مدارس کو آج بھی مہیا کر رہا ہے۔

کتنا زبردست معاشرہ ہے ہمارا کہ ہم سے شاکی بھی ہے اور سالانہ اربوں روپے کا چندہ ملک بھر کے مدارس کو آج بھی مہیا کر رہا ہے۔ اگر آپ اپنے نظام کو بہتر کرلیں اور ایسے علماء تیار کرنے شروع کر دیں جو اس عہد کے ہر چیلنج کو چٹکی میں اڑا سکیں، تو سوچیے یہ معاشرہ تب آپ کو کتنے فنڈز مہیا کرے گا؟ شاید کھربوں روپے! خرابی کی جڑ نصاب ہے۔ جس نصاب کی حالت یہ ہے کہ یہ عہد جدید سے ہم آہنگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس خرابی سے بھی دوچار ہو چکا کہ اس میں ترجیح نحو، صرف اور منطق جیسے معاون علوم کو حاصل ہے، اور علماء کے حلقوں میں عزت اس عالم کی ہے جو ان تین علوم پر زبردست گرفت رکھتا ہو، جبکہ قرآن، حدیث اور فقہ جیسے مطلوبِ اصلی دوسرے درجے کے علوم بن چکے، اور حالت یہ ہو کہ ان میں بھی ترجیحی درجہ بندی قرآن، حدیث اور فقہ نہیں بلکہ فقہ، حدیث اور قرآن ہو تو پھر تباہی تو ہونی ہے۔ شارٹ کورسز کی برکت سے مفتیوں کی تو ایسی بھرمار ہے کہ فتوے اب برسٹ کی صورت آتے ہیں، شیخ الحدیث عزت کا سب سے بلند مقام بن چکا جبکہ شیخ القرآن ڈھونڈنے نکلو تو پورے صوبے کی سطح پر بھی ایک دستیاب نہیں۔ یہ ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ قرآن مجید ’’کتاب ہدایت‘‘ ہے، اگر کتاب ہدایت ہی نظر انداز ہوجائے تو پھر فرقہ واریت کا جن ہی نکلے گا جو ہمارے ہاں ظاہر ہو کر تباہی مچا چکا۔ قرآن مجید کی یہ اہمیت بھی دیکھیے کہ یہی وہ کتاب ہے جس کا درس ہر مسجد میں عوام کے لیے ہوتا ہے اور اس کے درس کے ذریعے ہی معاشرے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے مگر وہ درس انقلابی تو ہو، انقلابی وہ تب بنے گا جب اس کا فہم ترجیح حاصل کرے گا۔ اپنے نصاب کو از سر نو مرتب کیجیے اور درست ترجیحات کے ساتھ مرتب کیجیے۔ غلط ترجیحات کے ساتھ تو بہتر نصاب بھی مطلوبہ نتائج مہیا نہیں کر سکتا !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • اوپر کئے گئے تبصروں سے ایک بار پھر واضح ہو رہا ہے کہ کیسے ہمارا مذہبی طبقہ جائز اور دردمندانہ تنقید سن کر بھی فورا" دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتا ہے- رعایت اللہ فاروقی صاحب کے مضمون کی ایک ایک سطر گواہی دے رہی ہے کہ یہ بغضِ معاویہ نہیں بلکہ حبِ علی میں لکھی گئی گذارشات ہیں جن پر عمل کرنے میں علماء ہی کا بھلا ہے- یقیناً اب کئی مدارس اپنے روایتی نصاب کے علاوہ عصری علوم پر بھی توجہ دے رہے ہیں مگر فاروقی صاحب نے بجا طور پر روایتی نصاب میں جدید علوم کی روشنی میں تبدیلیوں کی بات کی ہے-
    ایک بہت اہم اور دردمندانہ تحریر جو اہل علم کے میں نہ مانوں رویے کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے-

    • بالکل..فاروقی صاحب نے "حب علی"پر گزارشات تحریر فرمائی ہیں مگر ساتھ ساتھ "بغض معاویہ" کا تڑکا اتنا لگادیا کہ حقیقت کو سات پردوں میں ملفوف کردیا....پوری تحریر پڑھنے کے بعد مجھے صرف اور صرف یہ لگ رہا ہے کہ شاید مضمون نگار کو لکھنے کے لئے کوئی موضوع میسر نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ چلو مدارس اور علماء پر ہی طبع آزمائی کی جائے...
      کسی بھی صاحب عقل و دانش کا اگر آج کے دور کے علماء اور مفتی صاحبان سے واسطہ پڑا ہے تو وہ قطعا قطعا انکی شان میں ایسے الفاظ تحریر نہ کرتا...
      میں خود مدارس میں جدید علوم کی تدریس کی حامی ہوں..اور الحمدللہ بڑے بڑے مدارس میں کافی سالوں سے یہ سلسلہ شروع بھی ہوچکا ہے...
      لیکن جن مدارس میں یہ سلسلہ نہیں ہے وہاں بھی علماء کی"جہالت" کی یہ کیفیت نہیں ہے...میں خود ایسے مدرسے کی فارغہ ہوں مگر میں نے اپنے مدرسے میں ہی انتہائی تعلیم یافتہ معلمین اور معلمات کو دیکھا ہے اور ایسے طلباء و طالبات جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے انکی بھی کثیر تعداد دیکھی....

      • آپ درست فرما رہی ہیں بہن، آپ کا ذاتی تجربہ بھی ہے لہٰذا آپ یقیناً مدارس کے ماحول کو مجھ سے کہیں بہتر جانتی ہیں- قطع نظر اس کے کہ فاروقی صاحب کی تحریر میں کتنے اعتراضات مدلل اور کتنے کھوکھلے ہیں، آپ یہ دیکھ لیجئے کہ اوپر کئے گئےتبصروں میں آدھے سے زائد میں اردو کے روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کے ہجے تک غلط ہیں- جہاں کئی برس مدارس میں لگا کر اپنی قومی زبان بھی صحیح طور لکھنا نہ آئے، وہا ں یقیناً معیار میں کچھ نا کچھ کمی تو ہے-
        دوسرا مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہم دن رات اپنے روایتی نظام تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں- ابھی تین دن سے پاکستانی یونیورسٹیوں کے پست معیار تعلیم پر بحث جاری ہے- ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے انتہائی سخت مضمون لکھا اور کل کے ڈان میں ایک اور صاحب نے ان کی تائید میں ایک اور طویل مضمون میں ہماری یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کے پرخچے اڑا ڈالے، مگر وہاں تنقید کو اس طرح منفی نہیں لیا جاتا جیسا کہ اوپر مدارس کے فضلاء کا رویہ ہے- یہ ہر تنقید میں سازش یا دشمنی کا عنصر ڈھونڈ لینا- جائز بات کو بھی تسلیم نہ کرنا، اور جوابی الزامات لگانا شروع کر دینا- یہی وہ خامیاں ہیں جن کی بنا پر اہل مدارس سوشل میڈیا پر بدنام ہیں- افسوس کہ ان میں سے بہت سوں کا رویہ اس منفی تاثر کو تقویت پہنچانے ہی کا باعث بنتا ہے

        • السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
          محترم بھائی ، محمد اشفاق صاحب،
          اِس میڈیا پر کتابت (ٹائپنگ) کی غلطیوں کو کسی کی کم علمی پر محمول کرنا کچھ دُرُست نہیں ،
          اِس قسم کی غلطیاں صِرف ایک مخصوص قِسم کے مدارس کے طلبا کی طرف سے ہی ظاھر نہیں ہوتِیں ، بلکہ اچھے خاصے "پڑھے لِکھوں" سے بھی ظاھر ہوتی ہیں ،
          محترم بھائی، تقریباً ہم سب ہی جانتے ہیں ، کہ دینی مدارس اور دُنیاوی مدارس دونوں پر تنقید کے محرکات مختلف ہیں ، بالخصوص پچھلے کچھ سالوں میں دِین ، دِینی تعلیمات ، دِینی مدارس اور دِین داروں کے بارے میں جن خیالات و افکار کی ترویج کی گئی ہے اُن کی موجودگی میں یہ فرق بہت واضح ہو چکا ہے ،
          فاروقی صاحب کی تحریر میں (بزعم مصنف) مذکورہ خامیوں کا وجود تو بہت قدیم ہے ، ہمارے یہ محترم ہمدرد مفکران اتنے طویل سالوں تک اِن خامیوں پر خاموش کیوں رہے ؟
          میں آپ کی اِس بات سے مکمل اتفاق کرتاہوں کہ اگر واقعتا کہیں کوئی خامی موجود ہو تو اُس کے وجود کو مان کر اُس کی اِصلاح کی کوشش کی ہی جانی چاہیے ، خوامخواہ عذر بازی نہیں کی جانی چاہیے ، اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی میری اِس بات سے اتفاق فرمائیں گے کہ محض سُنی سُنائی باتوں یا اپنے خیالات کی بِناء پر کِسی خامی کے وجود کا ذِکر کر کے لوگوں کو کِسی مخصوص طبقے سے متنفر بھی نہیں کرنا چاہیے ،
          رہا معاملہ کِسی بات کو جائز یا ناجائز قرار دینے کا ، تو میرے محترم بھائی، اگر ایسا انفرادی افکار کی کسوٹیوں پر پرکھ کر کیا جائے تو ہر کسی کے ہاں کچھ بھی جائز ہو سکتا ہے اور کچھ بھی ناجائز ،
          ایسے فیصلوں کے لیے متفق علیھا کسوٹیاں مقرر کرنا لازمی امر ہے ، اور ہم مُسلمانوں کے لیے خصوصاً اور بنی نوع اِنسان کے لیے عموماً جائز اور نا جائز کی پرکھ کی کسوٹیاں ہمارے رب اللہ عزّ و جلّ نے مقرر کر رکھی ہیں ، کیا ہم اُن کسوٹیوں کو اِستعمال کر رہے ہیں ؟
          کچھ ایسا ہی معاملہ خود ساختہ تاثرات کا بھی ہے ، میرے محترم بھائی، کِسی معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے صِرف کِسی ایک پہلو سے نظر کرنا ناکافی ہوتا ہے، دِین داری پر تنقید کا معاملہ بھی عموماً کچھ ایسی ہی یک طرفہ ، یک چشمی نظر بازی کا شاخسانہ ہے،
          اللہ جلّ و عُلا ہم سب کو یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم کسی بھی معاملے کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اور اُس کےبارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے اُس سے متعلق تمام پہلوؤں کو بغور دیکھیں ، سمجھیں اور جانیں کہ کہاں سے کیا داخل کیا گیا اور کیا جا رہا ہے ۔والسلام علیکم۔

  • جناب رعایت اللہ فاروقی صاحب
    جناب محترم مدرسے کا طالبعلم ہوں
    پوچھنا چاہتا ہوں پاکستان میں تعلیمی خسارے کی وجہ مدارس ہیں؟
    مدارس حکومتی خزانے پر کہیں بوجھ تونہیں؟
    محترم
    اگر مدارس کے طلباء سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ڈاکٹر ‛انجینئر کیوں نہیں بنتے اور انگریزی کے کاغذات پکڑے اپنے مقتدی کے در پر نظر آتے ہیں جو سکریچ کارڈ ریچارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو جناب اعلی انصاف کے ترازو کو ہمہ وقت پاس رکھیں
    اور کالج اور یونیورسٹی کے طلباء سے بھی شکوہ کیجیئے کہ وہاں سے کوئی عالم دین کیوں پیدا نہیں ہورہا۔
    محترم اگر مدارس پر آقاؤں کو خوش کرنے کے لیئے پھبتی کسی جاتی ہے تو پھر چالیس پاروں والے سابقہ وزیر تعلیم کی دینی استعداد پر بات کیجیئے محترم۔

    جناب فاروقی صاحب
    غیروں کی جفاکاری بھی پورے جوبن پر ہے اور اپنوں کی بے اعتنائی بھی

    حضرت
    ان بوریہ نشیں ملاؤں کو نیم خواندہ اس لیئے کہا جاتا ہے کہ انکی اسناد گوروں کے دستخطوں سے پاک ہیں
    کم علمی کا طعنہ ان پر لگارہے ہیں آپ جو اپنا بچپن اور لڑکپن چار دیواری میں گزا رہے ہیں

    مدارس کے نصاب تعلیم پر کرتے ہیں
    پہلے انکے نصاب تعلیم پر بات کریں جو لارڈ میکالے کے زہر اگلتے دماغ سے خیرات مانگتے ہیں