دولما باشے سرائے، ڈھائی ارب ڈالر سے بنا محل - سعود عثمانی

بہت بڑا، بہت ہی بڑا دربار۔ دیواروں پر بیش قیمت روغنی تصویریں۔ چھت سونے کے بیل بوٹوں سے لشکارے مارتی ہوئی۔ جگمگ فرش اور اس پر ہاتھ کا بنا ہوا خالص ریشم کا قالین۔ چھت سے آتا اور ایک مناسب اونچائی پر ٹھہرا ہوا بہت بڑا بلّوری روشن فانوس۔ زرّیں پردے، بلّور (crystal) کی نہایت قیمتی آرائشی اشیاء۔ ہاتھی دانت، سنگ ِیشب اور یاقوت و زمّرد جڑی تلواریں اور خنجر۔ یہ شاہی محل کا محض ایک دربار ایوانِ تقاریب (ceremonial hall) ہے۔ میں نے جتنے شاہی محل آج تک دیکھے، یہ ان میں منفرد اور جدید ترین ہے۔ لاہور کا شاہی قلعہ اور شیش محل۔ دہلی کا لال قلعہ۔ آگرہ کا شاہی محل اور قلعہ۔ جے پور کا پہاڑی پر بنایا گیا امبر فورٹ۔ یہ قلعہ اور وہ قلعہ۔ سب اس جدید ترین اور محفوظ شدہ محل کی شان و شوکت کے سامنے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سونے کے چمچے اور کانٹے، پیالیاں، ظروف، کتابیں، دبیز پردے، مسندیں، چھپر کھٹ، کرسیاں۔ ہر چیز اسی طرح موجود اور منجمد ہوئی پڑی ہے۔ بس سلطان، وزیر، درباری، لشکری، بیگمات اور غلام کہیں چلے گئے ہیں۔ ٹھہر جانے والی چیز صرف وقت ہے جو یہاں گھڑی کی سوئیوں کی صورت ہاتھ جوڑ کر ٹھہر گیا ہے۔

یہ استنبول میں آخری ترک سلطانوں کا محل ”دولما باشے سرائے“ (DolmaBahce Sarayi) ہے۔ دولما یعنی بھر کر بنایا گیا، باشے، یعنی باغیچے، سرائے یعنی محل۔ مطلب یہ کہ بھر کر بنایا گیا باغ اور محل۔ سات پہاڑیوں پر آباد استنبول کے جادو اور سحر انگیز تاریخ کو کم ہی شہر پہنچ سکتے ہیں۔ تین پانیوں میں گھرا ہوا۔ ایک طرف بحر مارمرہ، ایک طرف آبنائے باسفورس اور باسفورس سے ہلال کی شکل میں پھوٹتی ہوئی شاخ زرّیں جسے انگریزی میں گولڈن ہارن (Golden horn) یعنی سنہرا سینگ کہتے ہیں۔ باسفورس ایشیا اور یورپ کے درمیان حد ِفاصل ہے اور استنبول اس کے دونوں طرف آباد ہے. زیادہ تاریخی مقامات یورپی ساحل پر ہیں۔ جس جگہ اب دولما باشے سرائے ہے، یہ باسفورس میں ایک کھاڑی ہوا کرتی تھی، جہاں سے کشتیوں کی آمد و رفت تھی۔ اس جگہ باسفورس کو پاٹ کر خشکی بنائی گئی۔ باغیچے پھیلائے گئے اور محل تعمیر کیا گیا۔ پس یہ بھر کر بنایا گیا باغ اور محل قرار پایا۔ اگر آپ کبھی باسفورس کے گہرے نیلے پانیوں سے گزر کر ایشیائی ساحل یعنی اسکیودار (Uskudar) پر اتریں اور وہاِں ادھیڑ عمر بھاری بھر کم ترک اپنی مزید بھاری آواز میں ”بغلار باشے، بغلار باشے“ کی آوازیں لگا رہے ہوں تو جان لیں کہ یہ اپنی ویگن بھرنے کے لیے سواریوں کو متوجہ کر رہے ہیں، جو ایسے محلے میں جائے گی جس کے آخر میں باشے یعنی باغیچے آتا ہے۔

دولما باشے سرائے استنبول کے شاہی محلات میں جدید ترین تھا۔ اس سے پہلے سلاطین ترکی ”توپ کاپے سرائے“ (Topkapi sarayi) میں رہائش رکھتے چلے آئے تھے، جو بذات خود قابل ِدید محل اور عجائب گھر ہے۔ پھر توپ کاپے میں نئے سلطانوں کا قافیہ تنگ ہونے لگا۔ انھیں جدید مرصّع اور یورپی انداز کا کشادہ نیا محل چاہیے تھا، جہاں وہ اپنے تیزی سے سکڑتے ہوئے عروج، زوال پذیر دبدبے اور چھائی ہوئی مالی تنگی کو شان و شوکت، چکا چوند اور آرائش سے چھپا سکیں۔ یورپ کے تیزی سے بلند ہوتے اقتدار اور تسلط سے اپنے مرعوب شدہ ذہن کو بھی عارضی تسلی دے سکیں اور انہیں بھی بتا سکیں کہ ہم تم سے کسی لحاظ سے کم نہیں ۔

میں استنبول میں تاریخی عمارتوں آیا صوفیہ، نیلی مسجد، توپ کاپے اور رومن باسلیکا (Basilica cistern) کے جھرمٹ میں سلطان احمد کے ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ دولما باشے سرائے جانے کے لیے باہر نکلا اور استاد سلیم کوفتے والے (Usta saleem koftije) کے مشہور زمانہ ریسٹورنٹ کے قریب سے ٹرام میں بیٹھا جو مجھے لہراتی سڑکوں اور بل کھاتے پہاڑی راستوں اور بازاروں سے اتارتی ہوئی بیسکٹاس (Besiktas) پر باسفورس کے ساحل پر لے آئی۔ یہ ٹرام کا آخری سٹیشن ہے اور یہاں سے چند سو گز پر دولما باشے ہے۔ خلیفہ سلطان عبدالمجید اول نے جب بیسکسٹاس کے مقام پر باسفورس کے کنارے 1843ء میں یہ محل بنانا شروع کیا تو اس سے 13سال پہلے نظیر اکبر آبادی نام کا بنجارہ یہ کہہ کر دنیا سے لاد چلا تھا
کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل، زمرّد، سیم و زر
جب پُونجی بات میں بکھرے گی، پھر آن بنے گی جان اوپر
نقّارے، نوبت، بان، نشاں، دولت، حشمت، فوجیں، لشکر
کیا مسند، تکیہ، مِلک، مکاں، کیا چوکی، کرسی،تخت، چھپر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے، ان گُونوں بھاری بھاری کے
جب موت کا ڈیرا آن پڑا، پھر دُونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز، جڑاؤ، زر، زیور، کیا گوٹے دھان کناری کے
کیا گھوڑے زین سنہری کے، کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

لیکن اکبر آباد بہت دور ہندوستان میں تھا۔ سلطان عبدالمجید تک یہ آواز کیا پہنچتی اور ایسی آوازیں بادشاہوں تک کب پہنچتی ہیں۔ ویسے بھی کوئی غریب اپنے لیے کٹیا بنائے، کوئی آسودہ حال اپنے رہنے کے لیے مناسب سہولتوں والا گھر بنائے یا کوئی بادشاہ مرصّع محل تیار کرے، انجام سب کا ایک ہے۔ نقشِ کہن ہو کہ نو، منزلِ آخر فنا۔

محل کے داخلے پر پتہ چلا کہ محل کے دونوں حصوں کے ٹکٹ کے علیحدہ علیحدہ پیسے ہیں اور غیر ملکیوں کے لیے خاص طور پر مہنگا۔ اصل محل سے قبل ایک حسین باغ کے اندر دروازہ کھلا جس کے بعد ایک حسین تر باغ تھا۔ کشادہ ہرا بھرا لان، درخت، پودے بیچوں بیچ ایک حوض جس میں آبی پرندوں اور سارسوں کی لمبی گردنیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، اور ان کی چونچوں سے دودھیا پانی کے فوارے بلند ہو رہے ہیں۔ محل میں داخل ہوتے ہی خصوصی غلاف جوتوں پر چڑھانے کے لیے دیے گئے۔ پچیس پچیس سیاحوں کی ٹولیاں بنائی جاتی ہیں اور ہر ٹولی کو ایک گائیڈ لے کر چلتا ہے۔ ایک شاہانہ زینہ جو دہرے نعل کی شکل کا ہے، بلند ہوتا ہوا پہلی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اس شاہی زینے کے بیچ فرانسیسی بلّور کا ایک فانوس معلق ہے جو بذات خود دیکھنے کی چیز ہے، یہ مشہور زینہ فرانسیسی بلّور، تانبے اور مہاگنی لکڑی سے بنایا گیا ہے۔ اوپر پہنچتے ہی دائیں بائیں بڑے بڑے آرائشی ہاتھی دانت اپنی طرف توجہ کھنیچ لیتے ہیں۔ سرخ رنگ کا پتلا سا راستہ نما قالین پورے محل میں آپ کو آگے سے آگے لے جاتا ہے۔ نہ قالینی راستے سے ادھر ادھر ہوا جاسکتا ہے، نہ تصویر کشی کی جاسکتی ہے۔

1856ء میں تیار ہونے پر یہ محل ترکی کا سب سے بڑا محل تھا، لیکن مکمل یورپی طرز ِتعمیر کا نمونہ۔ ترکی یا اسلامی طرزِ تعمیر کی رمق بھی یہاں نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ روایتی طرزِ تعمیر کے بہت سے محل پہلے ہی موجود تھے۔ 45000 مربع میٹر (11.1 ایکڑ) پر پھیلے ہوئے اس محل میں بڑے بڑے درباروں سمیت 285 کمرے، اور 46 ایوان تھے۔ ایوان تقاریب، ایوان سفراء، گلابی ایوان، نیلاایوان، سحری افطاری کے ایوان، محض چند نام ہیں۔ ضروری عمارتیں جن میں مسجد، مطبخ عامری یعنی شاہی باورچی، خانہ افسروں اور ملازموں کی رہائش گاہیں، اصطبل، قالین بافی کا شاہی کارخانہ، کلاک ٹاور وغیرہ، اس مرکزی عمارت سے الگ لیکن اسی محل کے احاطے میں موجود ہیں۔

چودہ ٹن خالص سونے سے محل کی چھتیں مطّلا کی گئیں اور ان کے نقش و نگار پر سونے کے ورق چڑھائے گئے. دنیا کا سب سے بڑا آسٹرین بلور crystal کا فانوس ایوان تقاریب میں معلق کیا گیا جس کے ساٹھ بازو ہیں، جس میں سات سو پچاس قمقمے جگمگ کرتے ہیں اور جس کا وزن ساڑھے چار ہزار کلو گرام ہے۔ دولما باشے میں بوہیمین اورفرانسیسی بکاراٹ کرسٹل کے جھاڑ فانوسوں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ مارمرا سنگ مرمر، مصری سفید سنگ مرمر سمیت نہایت قیمتی پتھر جابجا استعمال کیے گئے۔ محل میں شاہی قالین باف کارخانے کے خالص ریشم کے 206 قالین موجود ہیں۔ لیکن خاص چیز روس کے زار نکولس اول کی طرف سے دیے گئے 150 سالہ ریچھ کی کھال سے بنائے گئے غالیچے ہیں۔ عہد کے ماہر ترین مصوروں کی 202 روغنی تصاویر بھی محل کی دیواروں کی زینت ہیں۔ محل کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا جس میں گیس کے بلب وغیرہ شامل تھے۔ بعد ازاں بجلی اور سنٹرل ہیٹنگ سسٹم بھی شامل کردیا گیا۔ یہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی تھی جس سے یورپ کے اکثر محلّات بھی اس وقت تک محروم تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

محل کے دو حصے ہیں جنوبی بازو ”مبایین ِہمایوں“ جو بادشاہ وزراء افسران کے درباری اور دفتری معاملات کے لیے مخصوص تھا.شمالی بازو ”حرم ِہمایوں“ جو سلطان، اس کی والدہ مادر ملکہ، بیگمات اور کنیزوں کی رہائش گاہ تھا۔ دونوں بازوؤں کو ایوان تقاریب جدا کرتا ہے۔ حرم کا راستہ الگ ہے اور مادر ملکہ کے بڑے اپارٹمنٹ سمیت آٹھ بٍڑے بڑے باہم مربوط اپارٹمنٹ بیگمات اور خادماؤں کی رہائش کے لیے موجود ہیں۔ تاہم یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ رہائشی کمرے کافی سادہ اور چھوٹے ہیں۔ سلطان اور مادر ملکہ کی خواب گاہیں قدرے بڑی ہیں لیکن غیر معمولی بڑی نہیں، اور کافی سادہ محسوس ہوتی ہیں۔

اس محل میں 1856ء تا 1924ء آخری چھ ترک سلاطین نے وقت گزارا۔ آخری سلطان عبد المجید آفندی سے کمال اتا ترک نے اقتدار چھینا، خلافت کا سلسلہ ختم کیا، محل سے بےدخل کیا اور خود اس میں مقیم ہوگیا۔ ویسے یہ تو سارا محل ہی عبرت سرا ہے لیکن وہ کمرہ جس میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے 10 نومبر 1938ء کو صبح 9:05 پر آخری سانسیں لیں، خاص طور پر انسان سے زیادہ سنگ و خشت بلکہ کپڑوں اور پردوں تک کی پائیداری کا چشم دید گواہ ہے۔

محل مکمل ہوا تو اس کی لاگت پچاس لاکھ عثمانی طلائی لیرا تھی۔ یعنی 35 ٹن سونے کی قیمت۔ موجودہ دور کے حساب سے تقریبا، ڈھائی ارب ڈالرز۔ یہ رقم کاغذی کرنسی چھاپ کر، غیر ملکی قرضے لے کر، ٹیکس لگا کراکٹھی کی گئی۔ یورپ کے مرد ِبیمار ترکی کی حالت پہلے ہی پتلی تھی۔ اب اس کے خزانے پر اس غیر معمولی اسراف نے اتنے برے اثرات مرتب کیے کہ عثمانی سلطنت اکتوبر 1875ء میں دیوالیہ ہوگئی اور اس کے مالی وسائل پر یوروپی طاقتوں نے کنٹرول حاصل کرلیا۔ یہ تھا انجام اس تمام شان و شوکت کا۔ اور کوئی تعجب خیز بھی نہیں تھا۔

اکتوبر کی اس شام جب میں ڈھلتے سورج کی ترچھی کرنوں میں محل کے گلابی ایوان سے مشرقی سمت میں باسفورس کے نیلے پانیوں اور ان پر بنتے بگڑتے دائروں کو دیکھ رہا تھا تو یہی سوچ رہا تھا کہ بادشاہ ہر دور اور ہر ملک میں نظیر اکبر آبادیوں کی آواز سننے سے قاصر کیوں رہتے ہیں۔
مغرور نہ ہو تلواروں پر ، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پٹّا توڑ کے بھاگیں گے، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈبّے موتی ہیروں کے، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیا بقچے تاش مشجّرکے ، کیا تختے شال مشالوں کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.