عمرہ اور حج، عبادت یا فیشن - بشارت حمید

عمرہ یا حج ایک دینی عبادت اور فریضہ ہے۔ جس کسی کو بھی اللہ توفیق دے وہ اس کا قصد ضرور کرتا ہے لیکن معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ اب یہ دکھاوا اور فیشن بنتا جا رہا ہے۔ لوگ اکثر اس لئے جاتے ہیں کہ دوسرے رشتہ دار کیا کہیں گے اتنا پیسہ ہونے کے باوجود ابھی تک عمرہ یا حج بھی نہیں کیا اور پھر اس سفر پر جاتے ہوئے بھرپور پبلسٹی کی جاتی ہے۔

لیکن کیا اسلام میں کسی عبادت کا ڈھنڈھورا پیٹنے کا کوئی حکم ہے۔۔۔۔۔؟

عمرے یا حج پر روانہ ہونے سے قبل تمام رشتہ داروں اور دوست احباب کو جمع کرکے جو دعوتیں کھلانے کا رواج ہے اس کا کیا مقصد ہے۔۔۔۔؟
اگر تو مقصد اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کا ہے تو کیا کسی مستحق کو یہ رقم خاموشی سے نہیں دی جا سکتی ۔۔۔۔؟ یا پھر اس سب کا مقصد دوسروں کو بتانا ہے کہ ہم واقعی اب جا رہے ہیں لہذا ریکارڈ اپ ڈیٹ کر لیا جائے۔

کیا کوئی مسلمان اگر باقاعدگی سے نماز پڑھنا شروع کرے تو اس سے پہلے دوست احباب کو جمع کرکے اسکا اعلان کرتا ہے اور دیگیں پکا کر دعوتیں کرتا ہے۔۔۔۔؟
کیا رمضان کے روزے شروع کرتے وقت کوئی دعوت طعام دیئے جانے کا حکم ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص اس رمضان سے روزے رکھنا شروع کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟
یقینی طور پر ایسا ہرگز نہیں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ عمرہ یا حج پر جاتے ہوئے لوگوں کو اکٹھے کرنا، دعوت کا اہتمام کرنا، پھولوں اور پیسوں کے ہار ڈالنا اور تحفے تحائف لینا یہ سب دکھاوا نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
کیا اس مبارک سفر کو خاموشی سے اور لوگوں کو بتائے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔؟
دین میں ریاکاری یعنی دکھاوے کی عبادات سے سخت منع کیا گیا ہے۔ اگر یہ سب ریاکاری کے زمرے میں آگیا تو آخرت میں کیا اجر ملے گا۔
پھر جو لوگ وہاں جاتے ہیں انکو اتنا شعور ضرور ہونا چاہیے کہ وہ کس مالک اور بادشاہ کے دربار میں حاضری کے لئے آئے ہیں اور اس دربار کے ادب و احترام کے تقاضے کیا ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وہاں طواف کرتے ہوئے بھی لوگوں کا دھیان کعبہ کو پیچھے رکھتے ہوئے سیلفیاں بنانے اور ویڈیو کال کرکے پاکستان میں گھر والوں کو دکھانے میں ہی رہتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ سعودی ٹی وی چینل کے ذریعے نہیں دیکھا جا سکتا جو ہر گھر میں کیبل پر میسر ہے۔

مناسک سے فارغ ہونے کے بعد اپنے سفر کی یادگار کے لئے تصویریں یا ویڈیوز بنانا اور بات ہے لیکن طواف کو لائیو نشر کرنا سراسر دکھاوا ہے اور اس عبادت کی بے حرمتی اور اسکا اجر ضائع کرنے والی بات ہے۔ کیا کبھی ہم نماز پڑھتے ہوئے اپنی سیلفیاں بناتے ہیں۔۔۔۔؟

طواف بھی تو اسی رب کے دربار میں اپنی حاضری لگوانے کی عبادت ہے تو اس کے دوران بجائے سب کچھ چھوڑ کر رب کی طرف توجہ کرنے کے ہم کن فضول چیزوں میں مگن رہتے ہیں۔

اسی طرح حج کے دنوں میں وقوف عرفہ کے روز میدان عرفات میں حاضری ہوتی ہے۔ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر کے مغرب تک اللہ کے حضور اپنی دعائیں اور التجائیں کرنے کا وقت ہوتا ہے جو بمشکل 5 سے 6 گھنٹے کا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے حج پر جانے والے حضرات اس قیمتی وقت کو وہاں تقسیم ہونے والے فری کھانوں اور ڈرنکس کے کارٹن جمع کرنے میں ضائع کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اپنی وقتی ضرورت کے مطابق تو چلیں کوئی چیز لے بھی لی جائے لیکن لوگ وہاں اس سامان کے ڈھیر جمع کر کے ان کی گٹھڑیاں باندھ کر منی کے خیموں میں ساتھ لے آتے ہیں۔ اب اس رویئے کو کیا نام دیا جائے۔

یعنی وہاں ہر شے کے مالک سے مانگنے کی بجائے لوگوں سے مانگنے میں ہی لگے رہنا اور کوئی کارٹن مل جائے تو فاتحانہ انداز سے خیموں میں واپس آنا اور اسے رکھ کر مزید کے لئے پھر چکر لگانا یہ سب کیا ہے۔ یہ وہی ہماری نیتوں کی بھوک ہے جو رب کے دربار میں جا کر بھی اپنے جیسے انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر اکساتی ہے اور ہم میں سے اکثر اسی گھٹیا پن میں مصروف رہ کر وہ قیمتی وقت جو اللہ جانے دوبارہ نصیب بھی ہو گا یا نہیں، ضائع کر لیتے ہیں۔

پھر وہاں رہتے ہوئے لوگ نماز پنجگانہ باجماعت ادا کرتے ہیں لیکن اپنے وطن واپس پہنچتے ہی نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ اب عمرہ اور حج کر لیا ہے اب تو ہم بخشے ہی گئے ہیں اس لئے نماز چھوٹ بھی جائے تو خیر ہے۔ یاد رہے کہ نماز مرتے دم تک فرض ہے اور اس کا متبادل نہ عمرہ ہے نہ حج اور نہ ہی کوئی اور عمل۔ نماز کے بغیر اللہ کے ہاں باقی اعمال کی صحت اور قبولیت بھی مشکوک ہے۔

اگراللہ تعالٰی وہاں جانے کی توفیق دے تو جانے سے پہلے اس عبادت کے مناسک کے بارے پوری معلومات حاصل کی جائیں اور فضول رسوم و رواج سے جان چھڑواتے ہوئے اس کی اصل روح تک پہنچنے کی کوشش کی جانی چاہیے تو اس سفر کا اور اس پر کئے جانے والے اخراجات کا کچھ فائدہ ہوگا ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ہماری یہ سعی ریا کاری اور دکھاوے میں شمار کی جائے اور اس کا اجر ملنے کی بجائے الٹا ہمارے لیے وبال کا سبب بن جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com