رات، دن اور چاند کا گردشی قفل - مجیب الحق حقی

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ دن اور رات زمین کی گردش سے آتے ہیں لیکن اس کے پیچھے کیا نظام ہے؟ اور کائناتی نظم میں استحکام اور روانی کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا علم عام نہیں۔ اسی طرح چاند کی پیدائش اور بڑھنا گھٹنا بھی ایک عام سی بات ہے جبکہ اس میں بھی بہت اسرار ہیں۔ اسی بارے میں ذرا دیکھتے ہیں کہ زمین اور چاند کے بیچ کون سا اچھوتا اور انوکھا رشتہ ہے، جس کا ہم میں سے بہت سوں کو علم نہیں۔ اس ضمن میں قرآن کے حوالے سے بات لے کر آگے بڑھتے ہیں۔

قرآن: سورۃ 10 آیت5
”وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی، اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں، تاکہ تم اْس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو، اللہ نے یہ سب کچھ با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اْن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں.“
قرآن سورۃ 13 آیت2
”وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اْس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے، وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو.“

انسان کی زندگی دن اور رات کے چکّر میں گھومتی ہے اور وقت کی پیمائش بھی دن اور رات کی روانی میں ہی مضمر ہے۔ لیکن یہاں قرآن مزید کہتا ہے کہ آسمانی نظام نظر نہ آنے والے سہاروں سے قائم ہے۔ چودہ سو سال پہلے ثقل کے بارے میں انسان کچھ نہیں جانتا تھا، لیکن قرآن نے اس کا اشارہ دیکر یہ بھی واضح کیا کہ اس کا تعلّق حصول ِ علم سے ہے۔ یعنی اس میں عام لوگوں کے لیئے نہیں بلکہ علم والوں کے لیئے نشانی کا اشارہ ہے۔

قرآن میں مذکور نہ نظر آنیوالے سہارے کیا ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ کائنات کی سب سے زیادہ پر اسرار قوّت کشش ثقل GRAVITY ہے۔ اسی نے تمام کائنات کے اجرام کو تھام رکھا ہے۔ اسی کو کائنات کی تخلیق کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ اس کا جواب انسان کے پاس نہیں۔ کائنات میں کار فرما چار قوّتیں (ثقل، مقناطیسی، طاقتور ایٹمی اور کمزور ایٹمی) ہی اس نظام کو چلا رہی ہیں جن کو غالباً قرآن نے نہ نظر آنے والے سہارے قرار دیا کیونکہ انسان کو ان کا علم اس وقت نہیں تھا۔

دن، رات اور چاند کی منزلیں دراصل اللہ کی عظیم اور عام فہم نشانیوں میں سے بھی ہیں۔ قرآن میں انسانوں کو بار بار چاند کی منازل کی طرف متوجّہ کیا جا رہا ہے کہ دیکھو کیسے پورا چاند گھٹتے گھٹتے باریک ہوجاتا ہے۔ حالانکہ یہ مظہر اپنی کارکردگی یا سائنس میں بہت پیچیدہ ہے، لیکن کیونکہ ہم اسے ہوش سنبھالتے ہی دیکھتے چلے آتے ہیں، لہٰذا ہم اسے ایک معمول سمجھ کر نظر انداز کیے رہتے اور بے شمار عطیات ِفطرت میں سے اسے بھی ایک سمجھتے ہیں۔ چاند کی گردش میں ایک حیرت انگیز بات اور بھی پنہاں ہے، فلکیاتی علوم کی ترقّی سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ چاند کی اپنے محور پرگردش میں ایک انتہائی منفرد پہلو یہ ہے کہ چاند کی زمین کے گردگردش اور اپنے محور پر گردش یکساں وقت میں مکمل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے چاند کا زمین کی طرف چہرہ ساکت رہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم چاند کا پچھلا حصّہ نہیں دیکھ سکتے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ بڑھتا گھٹتا چاند دراصل، چاند کی زمین کے گرد گردش اور سورج کی روشنی کے انعکاس کی وجہ سے ہے، ورنہ چاند کا نصف کرّہ ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ یعنی آدھا چمکتا چاند بھی دراصل پورا ہی ہوتا ہے لیکن اس کے نصف پر سورج کی کرن نہیں پڑتی لہٰذا وہ حصّہ آسمان پر تاریک رہتا ہے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل بھی۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی جان لیں کہ یہ نیلی آسمانی چھت چاند کے نیچے ہوتی ہے اوپر نہیں، اسی لیے ہمیں چاند کا چمکتا حصّہ بڑھتا اور گھٹتا نظر آتا ہے۔ اگر یہ نیلی چھت چاند سے اوپر ہوتی تو غروب آفتاب کے وقت چاند کے روشن ہوتے حصّے کے ساتھ ساتھ تاریک حصّہ بھی ہمیں سرِ شام سیاہ نظر آتا کیونکہ اس کا کرّہ اوپر نیلے آسمان کو چھپاتا۔ یہ نیلا آسمان بھی زمین کے اطراف فضاء میں موجود مولیکیول کے نیلے رنگ کو منعکس کرنے سے نیلا نظر آتا ہے۔

آئیے اب چاند کی گردش پر ایک نظر ڈالیں۔
”چاند زمین کے گرد اپنے مدار پر ایک مکمّل چکر ستّائیس اعشاریہ تین 27.3 دن میں پورا کرتا ہے، جیسا کہ زمین سے مشاہدہ ہوتا ہے، جسے سائڈیریل sidereal مہینہ کہتے ہیں۔ چاند زمین کی سورج کے گرد گردش کی وجہ سے خلاء میں اپنے مقام پر واپس 29.5 دن میں آتا ہے۔ چاند اپنے محور پر گردش معمولی فرق کے ساتھ 27.3 دن میں مکمّل کرتا ہے جو کہ زمین کے گرد مداری گردش کے با لکل مساوی ہوتی ہے۔ مگر یہ اتّفاق نہیں ہے بلکہ زمین اور چاند کے درمیان مدّوجزر کا ایک جوڑ coupling یا قفل tidal-lock ہے۔ اس قفل کی وجہ سے چاند کی محوری اور مداری گردشی برابر رہتی ہے جس کی وجہ سے لازمی طور پر چاند کا ایک ہی چہرہ ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ اس مذکورہ معمولی فرق کی وجہ سے چاند کا زیادہ سے زیادہ 55 فیصد حصّہ زمین کے سامنے رہتا ہے۔“
http://csep10.phys.utk.edu/astr161/lect/time/moonorbit.html

اس کو سمجھنے کی عام مثال سرکس میں گھومتا گھوڑے سواری کا چکر ہے، جس میں بیچ میں کھڑے انسان کو گھومتے گھوڑے اور اس پر بیٹھے بچّے کا ایک ہی رخ نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکڑی کا گھوڑا اپنے مدار یعنی لوہے کے گول ڈھانچے سے جڑا ہوتا ہے جس کی وجہ ہے اس کا محوری گردش کا نقطہ گردشی مدار کے مرکز سے جڑ جاتا ہے۔ سرکس کے کھیل کی گردش کے دوران اس سے منسلک ہر کھلونا گھوڑا اپنے محور پر بھی گھومتا ہے، لیکن اندر کھڑے انسان کو محسوس نہیں ہوتا، جبکہ باہر کھڑا شخص اسے دیکھ سکتا ہے۔ اب اگر اسی گھوڑے کو ایک بیرنگ یا ڈھیلا کنڈہ لگا کر لٹکا دیں تو یہ اپنےگردشی مدار کے نقطۂ ثقل سے آزاد ہوجائے گا اور کھیل کے چکّر میں اس کی محوری گردش مختلف اور تیز ہوگی جس کی وجہ سے یہ کھلونا گھوڑا اندر کھڑے انسان کو بھی گھومتا نظر آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ پہلی صورت میں اس کھلونا گھوڑے کی محوری گردش پر ایک قدغن لگا دی گئی تھی جس سے وہ اپنے مدار کی گردش سے ہم آہنگ ہوگیا تھا جبکہ دوسری صورت میں یہ قدغن ہٹا دی گئی۔ یہاں سمجھنے کا نکتہ صرف یہ ہے کہ ایک مخصوص گردش کے لیے ہمیں ایک قفل کا سسٹم بنانا پڑا، جس نے گھوڑے کی مداری اور محوری گردش کو ایک دوسرے کے ساتھ منطبق کر دیا۔ یہیں یہ سوال اٹھتا ہے کہ چاند اور زمین کی گردش میں یہ سسٹم کیسے بن گیا۔ چاند پر نہ نظر آنے والی کمند کیا ہے جس سے چاند زمین کی گردش سے ہم آہنگ ہوا؟ ماہر فلکیات اور سائنسدان اسے کشش ثقل کا موجی تالا tidal-lock کہتے ہیں، لیکن یہ کیوں ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ یعنی ثقل کی اس پراپرٹی یا خاصیت کا منبع کیا ہے؟ کیا ثقل ایک خود مختار قوّت ہے جو اپنا فیصلہ خود کرتی ہے یا کچھ اور ہے؟ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ ایک فطری مظہر ہے، ایک غیر سائنسی اور غیر عقلی جواب ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ بڑے اجسام کے گرد گھومتے چھوٹے اجسام بڑے جسم کی طاقتور کشش کی وجہ سے اپنی سطح پر اس کے طبعی اثرات کی وجہ سے محوری گردش کی تیزی کھوتے جاتے ہیں۔ محوری رفتار کم ہوتے ہوتے جیسے ہی مداری گردش سے ہم آہنگ ہوتی ہے، اس پر ایک قفل لگ جاتا ہے اور ان کی مداری اور محوری گردش یکساں ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے بہت سے بڑے سیّاروں کے چاند اس قفل سے بندھے ہیں۔ لیکن یہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ عطارد mercury سورج کے قریب ہوتے ہوئے بھی اس سے قفل زدہ نہیں۔ اسی طرح ہر چاند اپنے سیّارے کے ساتھ کشش کے قفل میں نہیں بندھا ہوتا۔ گویا محوری اور مداری گردشوں کے مختلف نظام ہمارے اطراف کارفرما ہیں۔

کائنات کی اچانک خودکار تخلیق Spontaneous-Creation کی سائنسی تشریح کی طرف توجہ فرمائیں کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ کائنات اچانک ہی پھوٹ پڑی اور مختلف قوّتوں کی کارفرمائی سے بے شمار نظام ہائے شمسی بھی خود بن گئے۔ مزید یہ کہ ان میں بے شمار اجرام فلکی کے کئی کئی چاند بھی بن گئے، لیکن جو بات اتفاقات کے اس کے اژدہام میں بھی اتفاق نہیں لگتی، وہ یہ ہے کہ ثقل Gravity کی وجہ سے اجرام کی مداری گردش کا دورانیہ اپنے محوری گردش کے برابر ہوجائے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ ہماری زمین کی اپنے محور پر گردش اور سورج کے گرد گردش میں زمین آسمان کا فرق ہے، یعنی زمین اپنے محور پر چوبیس گھنٹے میں چکر لگاتی ہے تو سورج کے گرد ایک سال میں! اب اگر یہ ہمارے نظام شمسی کا ایک قدرتی یا فطری قانون ہوا کہ کسی مدار پر گردش کرتا سیّارہ، جیسے زمین اپنے محور پر ایک جداگانہ وقت میں گردش پوری کرے گا تو زمین کے چاند میں استثنیٰ کیوں آئی؟ پھر زمین بھی ایک طرح سورج کا چاند ہے تو پھر ان دونوں میں موجی یا گردشی قفل کیوں نہیں؟ مزید یہ کہ کشش کی قوّت بھی بہت سی جہتیں رکھتی ہے۔ جیسا کہ بہت سی جگہ کائنات میں دو دو اجرام فلکی ایک دوسرے سے اس طرح ہم آہنگ ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں۔ کہیں ایک سیّارہ دو سورجوں کے گرد انگریزی کے نمبر 8 کی طرح گردش کرتا ہے۔ کیا یہ سب خود ہی ہورہا ہے؟ ہماری عام فہمی بھی یہی کہتی ہے کہ مدّوجزر کا یہ قفل tidal-lock ایک باریک بینی سے بنایا ہوا نظام ہے۔

مذکورہ بالا مظاہر کی سائنسی تشریحات یقیناً ہوں گی لیکن یہاں کسی سائنسی تشریح سے واسطہ نہیں بلکہ ایک عمومی مظہر کے حوالے سے یہ نکتہ واضح کرنا ہے کہ مختلف سسٹم صرف مربوط اور مرکزی کنٹرولڈ centrally-controlled نظام میں ہی ممکن ہیں۔ اتفاقات سے بن جانے والے نظام کبھی بھی اپنے اندر پیچیدہ اور پیچیدہ تر مظاہر نہیں رکھ سکتا کیونکہ یہ عقل کے خلاف ہے۔ کائنات میں موجود چار طرح کی قوّتیں ہیں، ان میں توازن کے لیے ایک مرکزی آپریشن روم ہونا تو سائنسی ضرورت ہے۔ یہ واضح ہے کہ دو مختلف طرح کی گردش یعنی محوری اور مداری گردش کے یکساں وقت کے لیے نہ صرف اجرام ِفلکی کا وزن اور کششِ ثقل کی درست ترین پیمائش بلکہ انتہائی درست علم کی اعلیٰ ترین گرفت کی ضرورت ہے! کیا کوئی خلائی گردشی نظام اپنے آپ انجینئرنگ کا ایسا منفرد اور باریک بیں نظام بھی بنا سکتا ہے؟ اتنی عظیم کمیّت والے اجسام کی گردش پر قفل خودکار فطری تماشا ہی ہے یا کچھ اور؟

سائنسدان موجی قفل کو فطری طاقتوں natural-forces کی کارگزاری ہی کہیں گے مگریہ جدید انسان کی ناکامی ہے کہ وہ ایک برتر قوّت کے اسرار سمجھنے کی صلاحیت ابھی حاصل نہیں کر پایا۔ اپنی اسی خامی پر پردہ ڈالنے کے لیے انسان نئے نئے نظریے گھڑتا ہے، لیکن پھر بھی بےشمار لاینحل معمّوں میں الجھا ہی رہتا ہے۔ لیکن یہ سوال موجود ہے کہ: کیا جدید انسان اپنے علم کے بموجب کسی لا محدود اور برتر علم اور اس کی گرفت کو ماننے کی سمت پیش قدمی کر رہا ہے؟

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.