سیاہ جھنڈے اور امام مہدی کی آمد - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

علم آخر الزمان کو انگریزی میں Eschatology کہا جاتا ہے۔ دنیا کے اختتام کی علامات سے متعلق سامی مذاہب میں کافی تفصیلات ملتی ہیں۔ اسلام کے علاوہ بالخصوص یہودیت اور مسیحیت کے مذہبی ادب میں عصر حاضر میں لڑی جانے والی جنگوں اور مستقبل کے حالات کو اس علم کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ علم آخر الزمان، اشراط الساعۃ، فتن، علامات الساعۃ، یہ تمام اسی علم کے دوسرے نام ہیں جن پر سب سے زیادہ قرآن مجید اور احادیث طیبہ میں بحث کی گئی ہے۔ قیامت کی علامات کبری ہوں یا صغریٰ ان کی سب سے زیادہ تفصیلات محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، تاکہ مسلمان ان کی روشنی میں اپنی دفاعی اور اقدامی پالیسی کو طے کر سکیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تو یہاں تک بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، وہ سب بیان فرما دیا۔ ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہ ہے جو سب سے زیادہ حضور ﷺ کی ان باتوں کو یاد رکھنے والا ہے۔

ان علامات میں ایک بہت بڑا حصہ وہ ہے جس میں قرب قیامت میں لڑی جانے والی جنگوں کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔ الملحمۃ الکبریٰ جو قیامت کی علامات کبری کا باب ہے، اس سے قبل اور اس عظیم ترین جنگ کے ساتھ شروع ہونے والی جنگوں کے تسلسل کو احادیث میں کافی تفصیلات سے بیان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دیگر محدثین کی کتب حدیث کے علاوہ خاص طور پر امام نعیم بن حماد کی الفتن، امام ابو عمرو دانی کی السنن الواردۃ فی الفتن و الملاحم، امام ابن کثیر کی النھایۃ فی الفتن و الملاحم، امام قرطبی کیالتذکرۃ، اور امام برزنجی کی الاشاعۃ لاشراط الساعۃ کا مطالعہ ضروری ہے۔ جنگوں کے اس سلسلہ میں ہندوستان، ترکی، بیت المقدس، عراق، افغانستان، یمن، شام اور دیگر خطوں میں ہونے والی جنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات میں مسلمان مجاہدین کی ایک ایسی فوج کا ذکر ملتا ہے جو قیامت تک حق کی خاطر قتال کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انھیں خوف میں مبتلانہ کر سکے گی۔ بعض احادیث میں ایسے ہی ایک گروہ کے خراسان سے اٹھنے کا ذکر ملتا ہے جو رایات سود یعنی سیاہ جھنڈے والے ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ کا مبارک جھنڈا عقاب بھی سیاہ رنگ کا تھا۔ مجاہدین کا یہ گروہ اللہ کی راہ میں قتال کرتا رہے گا یہاں تک کہ اس کا آخری حصہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی فوج سے مل جائے گا۔ سیاہ جھنڈوں سے متعلق نظریہ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ، افغانستان اور دیگر خطوں میں لڑنے والے افراد اپنی جنگوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ بعض یہ گمان بھی رکھتے ہیں کہ امام مہدی عنقریب تشریف لانے والے ہیں۔ سیاہ جھنڈوں سے متعلق روایات کو انھی کتب میں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

تاریخ میں تقریبا 40 سے زائد لوگ حضرت امام مہدی و مسیح علیہما السلام ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر چکے ہیں۔ حال ہی میں 5 سے زیادہ افراد تو صرف پاک و ہند میں ہی اپنا مہدی ہونا بتا چکے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ان کی ولادت ہو چکی ہے اور بعض کے نزدیک وہ آنے کو ہیں، البتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی ان کی آمد میں سینکڑوں سال باقی ہیں، اور شاید ان کی آمد تیسرے ہزار سال میں ہوگی۔ اللہ و رسولہ اعلم!ﷺ

دشمنان اسلام نبی کریم ﷺ کی ان احادیث کا اچھا مطالعہ رکھتے ہیں اور وہ غزوہ ہند، فتح قسطنطینہ اور سیاہ جھنڈے جیسے روحانی نظریات کو بخوبی جانتے ہیں۔ اسی لیے گذشتہ چند سالوں سے ایسے ”سیاہ جھنڈے“ جن پر کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ﷺ لکھا ہوا ہے، تمام دنیا کے میڈیا میں مختلف گروہوں کے ہاتھ میں دکھایا جاتا ہے اور انہیں دہشت گرد بتایا جاتا ہے۔ ان کی اسی کلمہ طیبہ کے ساتھ سیاہ جھنڈوں میں ایسی ویڈیوز وائرل کی جاتی ہیں جن کو دیکھنے کے بعد انسان کا انسان پر سے اعتبار اٹھ جا ئے، اور نعوذ باللہ کلمہ طیبہ، اسلام و خلافت جیسے ناموں سے لوگوں کو نفرت ہو جائے ۔

سیاہ جھنڈوں کے بارے میں مختلف گروہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ احادیث میں سیاہ جھنڈے والوں سے متعلق جو جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس سے مراد ہمارا ہی گروہ ہے، لہذا ہمارا ساتھ دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔ بعض اشخاص تو ان روایات کی تعبیر میں یوں بھی گویا ہوئے کہ من قبل خراسان کا مطلب یہ ہے کہ خراسان کے پیچھے یعنی پاکستان سے ان کا ظہور ہوگا اور ان سیاہ جھنڈوں سے مراد پاکستان کے جھنڈے ہیں۔

سیاہ جھنڈوں سے متعلق نظریے کو سمجھنے کے لیے ان احادیث کو جاننا ضروری ہے جو اس باب میں کتب حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ لَا يَرُدُّھَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِايلِيَاءَ (سنن ترمذی/ مسند امام احمد بن حنبل/ المعجم الکبیر/ المعجم الاوسط للطبرانی/ دلائل النبوۃ للبيہقي) ”خراسان سے سیاہ جھندے نکلیں گے، انھیں کوئی چیز رد نہیں کر سکے گی، یہاں تک کہ ان سیاہ جھنڈوں کو ایلیا (بیت المقدس) پر نصب کر دیا جائے گا۔“
اس حدیث کو متعدد محدثین نے مختلف الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں روایت کیا ہے۔
امام احمد بن حنبل نے ایک اور مقام پر نقل کیا : إِذَا رَاَيْتُمْ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ خُرَاسَانَ فَاتُوھَا فَانَّ فِيھَا خَلِيفَۃُ اللہ الْمَھدِيَّ (مسند امام احمد بن حنبل)
”جب تم سیاہ جھنڈوں کو دیکھو کہ وہ خراسان کی طرف سے آئے ہیں تو ان کے پاس جاؤ کیونکہ ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔“
مستدرک اور ابن ماجہ میں اسی بات کو من قبل خراسان یعنی خراسان کی جانب سے کہہ کر بیان کیا گیا۔

یاقوت حموی نے خراسان کا جغرافیہ اس طرح بیان کیا کہ خراسان میں وسیع علاقہ شامل ہے۔ اس کی اول حدود وہ ہیں جو عراق ازاذوار جوین اور بیہق (موجودہ ایران) کے قصبے سے شروع ہوتی ہیں، اور اس کی آخری حدود ہند میں طخارستان، غزنہ، سجستان اور کرمان سے ملتی ہیں، البتہ یہ علاقے خراسان میں شامل نہیں، اس کی حدود کے کنارے ہیں اور خراسان کے امہات البلاد میں نیشاپور، ہرات، مرو، بلخ، طالقان، نسا، ابیورد اور سرخس شامل ہیں۔ بعض علما کے نزدیک اس میں ماوراء النہر کے علاقے بھی شامل ہیں۔گویا کہ قدیم خراسان میں افغانستان کا قلب اور ایران کا حصہ شامل ہے۔ امام مہدی ہونے کے دعویٰ کی طرح سیاہ جھنڈے والے بھی کئی بار نکل چکے ہیں۔ امام ابن کثیر نے اس تناظر میں ابو مسلم خراسانی کے سیاہ جھنڈوں کی ان احادیث کی طرف نسبت کی نفی کی ہے۔ بنوعباس کی جانب سے بھی جنگوں میں ان سیاہ جھنڈوں کو استعمال کیا گیا۔ اس لیے یہ بات ذہن میں رہے کہ احادیث میں سیاہ جھنڈوں سے متعلق جن مسلمان مجاہدین کے لیے بشارت ہے، وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ جا کر ملیں گے اور ان کا قتال فتنہ،گمراہی یا نعوذباللہ کفر نہیں ہوگا، اور نہ ہی وہ مسلمانوں کا قتل عام کریں گے بلکہ دشمنان اسلام سے لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ امام مہدی علیہ السلام سے جا ملے گا۔ حضرت امام نعیم بن حماد علیہ الرحمۃ نے کتاب الفتن میں ایسے گمراہ سیاہ جھنڈوں کا بھی ذکر احادیث کی روشنی میں کیا ہے، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اذا خرجت الرايات السود فان اولھا فتنۃ واوسطھا ضلالۃ وآخرھا كفر (کتاب الفتن) یعنی جب سیاہ جھنڈے نکلیں گے تو ان کا اول فتنہ دور ہوگا، دوسرا گمراہی اور تیسرا دور کفر ہوگا۔

ایک روایت میں یوں بھی لکھا ہے کہ مشرق سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے، ان کی قیادت بڑے بڑے اونٹوں کی مانند مردوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ بال والے ہوں گے۔ ان کے نسب علاقوں کی طرف منسوب ہوں گے۔ ان کے نام کنیتوں پر ہوں گے۔ وہ دمشق کو فتح کریں گے، اور تین ساعات کے لیے ان سے رحمت کو اٹھا لیا جائے گا۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں اس بات کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے یوں بیان فرمایا: قال اذا رايتم الرايات السود فالزموا الارض فلا تحركوا ايديكم ولا ارجلكم ثم يظھر قوم ضعفاء لا يؤبھ لھم قلوبھم كزبر الحديد ھم اصحاب الدولۃ لا يفون بعھد ولا ميثاق يدعون الى الحق وليسوا من أھلہ أسماؤھم الكنى ونسبتھم القرى وشعورھم مرخاۃ كشعور النساء حتى يختلفوا فيما بينھم ثم يؤتي اللہ الحق من يشاء. (الفتن)یعنی جب تم سیاہ جھنڈوں کو دیکھو تو زمین کو لازم پکڑ لو، نہ ہی اپنے ہاتھ اور پیروں کو ہلاؤ (یعنی ان کی طرف سفر نہ کرو اور نہ ہی اس فتنے میں مبتلا ہو)، پھر ایک کمزور قوم ظاہر ہوگی، ان کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی۔ ان کے دل لوہے کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔ وہ اصحاب الدولہ ہوں گے۔ اپنے وعدے اور معاہدے کی پاسداری نہیں کریں گے۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہ ہوں گے۔ ان کے نام کنیتوں پر ہوں گے اور ان کی نسبتیں علاقوں کے نام پر ہوں گی۔ ان کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں اختلاف ہوگا، پھر اللہ جس کے ہاتھ میں چاہے گا حق دے گا۔

اس تمام بحث سے یہ معلوم ہوا کہ قرب قیامت میں برپا ہونے والی ان جنگوں میں ہر سیاہ جھنڈوں سے مراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے رایات سود مراد نہیں بلکہ ان میں بعض ایسے بھی ہوں گے جو فتنوں،گمراہی اور کفر میں مبتلا ہوں گے۔ اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ ان رایات سود میں اہل باطل کو پہچاننے میں خطا نہ کریں.

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ظہور مہدی ،خروج دجال اور نز ول عیسی ٰ علیہ السلام سے متعلق جتنی بھی احادیث ہیں ان میں سے بیشترضعیف بلکہ موضوع ہیں۔ہمارامذہبی طبقہ ان روایات کے بارے میں عجیب سی خوش فہمی میں مبتلا ہے ۔ان روایتوں کے سندی اوردرایتی مطالعہ کی شدیدضرورت ہے جوبالعموم نہیں کی جاتی کیونکہ ماضی میں علما نے غلطی سے ان کوعقائدکے تحت اوراجماعی مسائل میں داخل کردیاتھا۔یہ ساری روایات قرآن پاک کی صریح تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں اوران کے ناقدانہ مطالعہ کی شدید ضرورت ہے ۔
    محمدغطریف شہبازندوی نئی دہلی

    • تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ لَا يَرُدُّھَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِايلِيَاءَ ......
      رُوي هذا الحديث من رواية أبي هريرة وعبد الله بن عمرو وعمر بن الخطاب وثوبان وعبد الله بن مسعود:
      ـ فأما حديث أبي هريرة فرواه نعيم بن حماد في الفتن من طريق داود بن عبد الجبار الكوفي عن سلمة بن المجنون عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : "إذا خرجت الرايات السود فإن أولها فتنة وأوسطها ضلالة وآخرها كفر". [داود بن عبد الجبار متروك الحديث واتهم بالكذب. سلمة بن المجنون ذكره ابن حبان في الثقات]. فهذا إسناد تالف.
      ـ وأما حديث عبد الله بن عمرو فرواه نعيم بن حماد عن عبد الله بن مروان عن أبيه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لا تذهب الأيام حتى تخرج لبني العباس رايات سود من قبل المشرق". [عبد الله بن مروان شيخ نعيم بن حماد كنيته أبو سفيان ولم أجد له ترجمة، ولا لأبيه من باب أولى]. فهذا إسناد تالف.
      ـ وأما حديث عمر فرواه ابن الجوزي في الموضوعات من طريق عمرو بن واقد عن زيد بن واقد عن مكحول عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إذا أقبلت رايات ولد العباس من عِقاب خراسان وجاؤوا ببغي الإسلام فمن سار تحت لوائهم لم تنله شفاعتي يوم القيامة". [عمرو بن واقد متروك الحديث]. فهذا إسناد تالف، وزيادة على ذلك ففيه علة الإرسال، فتزيده وهنا على وهن.
      فقد رُوي حديث عمر هذا من مرسل سعيد بن المسيب ، رواه نعيم بن حماد عن محمد بن عبد الله التاهرتي عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن مسلم بن يسار عن سعيد بن المسيب أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "تخرج من المشرق رايات سود لبني العباس، ثم تمكث ما شاء الله ، ثم تخرج رايات سود صغار على رجل من ولد أبي سفيان وأصحابه من قبل المشرق". [محمد بن عبد الله التاهرتي لم أجد له ترجمة. عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعيف. مسلم بن يسار مصري ذكره ابن حبان في الثقات]. وهذا الطريق فضلا عن كونه مرسلا فهو شديد الضعف.
      ـ وأما حديث ثوبان فرواه ابن ماجه والبزار والحاكم والداني في كتاب السنن الواردة في الفتن وابن عساكر من طرق عن عبد الرزاق عن سفيان الثوري عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يقتتل عند كنزكم ثلاثة، كلهم ابن خليفة، ثم لا يصير إلى واحد منهم، ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق، فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم". ثم ذكر شيئا لا أحفظه، وقال: "فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج، فإنه خليفة الله المهدي".
      ورواه نعيم بن حماد عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن ثوبان أنه قال: إذا رأيتم الرايات السود خرجت من قبل خراسان فائتوها ولو حبوا على الثلج، فإن فيها خليفة الله المهدي. موقوفا. وهذا الحديث لا يصح لا مرفوعا ولا موقوفا.
      [خالد بن مهران الحذاء بصري ثقة تغير حفظه بعدما قدم من الشام ومات سنة 142. أبو قلابة عبد الله بن زيد بصري ثقة مات سنة 104 وقيل بعدها بالشام. أبو أسماء الرحبي عمرو بن مرثد دمشقي وثقه العجلي وذكره ابن حبان في الثقات. ثوبان صحابي مات سنة 54 بحمص].
      حديث ثوبان ظاهره أنه لا بأس به، فمن كان ظاهريا قبله واحتج به، وأما من كان من أهل الفهم والدراية ـ كابن حنبل وبعض كبار شيوخه ـ فإنه يدرك ما فيه من شذوذ ونكارة، فيرده ولا يلتفت إليه، خاصة بعدما شعروا به من تغير حفظ خالد بعد عودته من الشام.
      هذا ما كان عليه الإمام أحمد رحمه الله وبعض أكابر أهل العلم الذين تقدموا عليه ، فقد أخبر أحمدُ عن شيخه الإمام الحافظ إسماعيل بن إبراهيم المتوفى سنة 193 والمعروفِ بابن عُلية أن شيخه ابن علية أخبرهم بأن الذين سمعوا هذا الحديث من راويه لم يلتفتوا إليه، ولعله يريد أهل الإتقان منهم.
      ويبدو أن خالدا الحذاء سمع هذا الحديث من رجل ما بالشام ثم ألصقه ـ من باب الوهَم ـ بأحد ثقات شيوخه، وهذا ما يفسر لنا ما نقله ابن عُلية من عدم التفات الأثبات إلى هذا الحديث.
      قال عبد الله بن أحمد ـ كما في كتاب العلل وكتاب المنتخب من علل الخلال ـ: حدثني أبي قال : قيل لابن علية في هذا الحديث فقال : كان خالد يرويه فلم يُلتفت إليه . ضعَّف ابن علية أمره . يعني حديثَ خالد عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرايات.
      ورواه ابن حنبل وابن الجوزي في العلل المتناهية عن وكيع عن شريك عن علي بن زيد عن أبي قلابة عن ثوبان أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا رأيتم الرايات السود قد جاءت من خراسان فائـْتـُوها ، فإن فيها خليفة الله المهدي". [علي بن زيد بصري ضعيف مات سنة 131]. وربما كان علي بن زيد قد سمعه من خالد الحذاء.
      ـ وأما حديث عبد الله بن مسعود فرواه البزار من طريق عبد الله بن داهر الرازي عن أبيه عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن الحكم بن عتيبة عن إبراهيم النخعي عن علقمة عن ابن مسعود، أن النبي صلى الله عليه وسلم ذكر فتية من بني هاشم فاغرورقت عيناه ، وذكر الرايات السود فقال : "فمن أدركها فليأتها ولو حبوا على الثلج". [عبد الله بن داهر الرازي متهم ليس بشيء]. فهذا الطريق تالف.
      ورواه الحاكم في المستدرك من طريق يزيد بن محمد الثقفي عن حنان بن سدير عن عمرو بن قيس الملائي عن الحكم بن عتيبة عن إبراهيم عن علقمة بن قيس وعَبيدة السلماني عن ابن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: إنا أهل بيت اختار الله لنا الآخرة على الدنيا ، وإنه سيلقى أهلُ بيتي من بعدي تطريدا وتشريدا في البلاد ، حتى ترتفع رايات سود من المشرق ، فيسألون الحق فلا يُعطـَونه ، فيقاتِلون ، فيُنصرون ، فمن أدركه منكم أو من أعقابكم فليأتِ إمام أهل بيتي ولو حبوا على الثلج ، فإنها رايات هدى ، يدفعونها إلى رجل من أهل بيتي ، يواطئ اسمُه اسمي واسمُ أبيه اسمَ أبي ، فيملك الأرض ، فيملؤها قسطا وعدلا كما مُلئت جورا وظلما". [يزيد بن محمد الثقفي لم أجد له ترجمة. حنان بن سدير كوفي من شيوخ الشيعة ذكره ابن حبان في الثقات. عمرو بن قيس الملائي كوفي ثقة مات سنة 146]. فهذا الطريق تالف، لأن فيه مجهولا وجاء على وَفق الروايات التالفة. وقد أحسن الإمام الذهبي رحمه الله إذ قال عنه في تلخيص المستدرك: هذا موضوع.
      ورواه ابن الجوزي في الموضوعات من طريق أبي الفتح الأزدي قال حدثنا العباس بن إبراهيم قال حدثنا محمد بن ثواب قال حدثنا حنان بن سدير عن عمرو بن قيس عن الحسن عن عَبيدة عن ابن مسعود أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أقبلت الرايات السود من خراسان فائتوها، فإن فيها خليفة الله المهدي".
      [أبو الفتح الأزدي محمد بن الحسين بن أحمد الموصلي البغدادي من حفاظ الحديث مات سنة 374 وقيل سنة 369، قال فيه الخطيب البغدادي: في حديثه غرائب ومناكير. العباس بن إبراهيم : يبدو أنه العباس بن إبراهيم بن صالح البزاز الشيعي ، ترجم له الخطيب البغدادي ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا، وذكر أنه كان حيا في سنة خمس وعشرين وثلاثمئة، فهو مجهول. هذا وقد ذكر الخطيب في شيوخ أبي الفتح الأزديِّ العباسَ بنَ إبراهيم القراطيسيَّ البغداديَّ الثقة المتوفى سنة 304، ولعله قد وهِم في ذلك، ولعل بعض تلك الغرائب والمناكير التي أشار إليها كانت بسبب مثل هذا الاشتباه. محمد بن ثـَواب كوفي صدوق فيه لين مات سنة 260].
      فهذا الطريق تالف، لأن فيه مجهولا وجاء على وَفق الروايات التالفة.
      ورواه العُقيلي وابن عدي، وأبو الشيخ في الفتن ـ كما في اللآلئ المصنوعة ـ، من طرق عن يزيد بن أبي زياد عن إبراهيم النخعي عن علقمة عن ابن مسعود بنحو رواية مستدرك الحاكم المتقدمة، وفيه: "... حتى يجيء قوم من ههنا وأصحاب رايات سود ، ... حتى يدفعوها إلى رجل من أهل بيتي يملؤها عدلا كما ملئت ظلما وجورا ، فمن أدرك ذلك منكم فليأتها ولو حبوا على الثلج".
      وسقط ذكر علقمة عند العقيلي وابن عدي. [يزيد بن أبي زياد كوفي ضعيف، وقال فيه ابن حبان : كان صدوقا ، إلا أنه لما كبر ساء حفظه وتغير وكان يُلقن ما لقن ، فوقعت المناكير فى حديثه ، فسماع من سمع منه قبل التغير صحيح ، ولد سنة سبع و أربعين ، وتوفي سنة ست وثلاثين ومئة]. فهذا الطريق ضعيف. وقال وكيع وأحمد: يزيد بن أبى زياد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله حديث الرايات ليس بشيء . وقال أبو أسامة : لو حلف لي خمسين يمينا قسامة ما صدقته . يعني في هذا الحديث .
      ـ والخلاصة أن هذا حديث ضعيف، لا يصح الاحتجاج به. والله أعلم.
      وكتبه صلاح الدين بن أحمد الإدلبي ، وفرغ منه في 7/ 9/ 1434، والحمد لله رب العالمين.