مغربی جمہوریت کا بھیانک ہندوستانی چہرہ - واحد بشیر

تاریخی اعتبار سے انسانی ترقی کی منزلیں مختلف پیمانوں کے ذریعے معلوم کی جاتی ہے۔ دور جدید میں اس ترقی کا سب سے بڑا مظہر اس سیاسی بالغ نظری کو گردانا جاتا ہے جس کے مؤجد ہونے کا سہرا مغربی دنیا نے اپنے سر باندھ لیا ہے۔ شہری ریاستوں سے ترقی کرتے ہوئے بڑی بڑی سلطنتوں میں تبدیل ہونا اور بعد میں مقتدر اور با رسوخ جدید ریاستوں کی صورت اختیار کرنے میں بہت وقت صرف ہوا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی سے جہاں انسانی زندگی میں بہت سہولتیں میسر آگئیں وہی مادّیت نے انسانی زندگی کے غالب حصے پر مضبوطی کے ساتھ پنجے گاڑ لیے ہیں۔ جدید مادّی ریاستوں میں جمہوری اقدار کی پاسداری کو ساری دنیا کے لیے مشعل راہ کی صورت میں نہ صرف پیش کیا جاتا ہے بلکہ جمہوریت کی اشاعت و ترویج کے لیے بڑے بڑے منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ حکومتوں کو بنایا اور گرایا جاتا ہے، تاج و تخت الٹ دیے جاتے ہیں، بغاوتیں ترتیب دے کر بنی بنائی وزارتیں اور منتخب ایوان معطل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف جمہوری اقدار کی ساری دنیا میں بحالی کے لیے کیا جاتا ہے۔

سامراجی طاقتوں کے دور زوال میں اس مغربی جمہوریت کا طوطی بول رہا تھا۔ اس زمانے کی تیسری دنیا میں ’جمہوریت‘ سب سے زیادہ بکنی والی چیز سمجھی جاتی تھی۔ عوام اور عوامی رائے کے احترام سے دنیا کے نقشے میں کئی نئے جمہوری ملک وجود میں آئے۔ کمیونسٹ روس کی شکست و ریخت کے بعد تو ان کے بقول دنیا میں اس لبرل جمہوریت کے سارے متبادل سرنگوں ہو کر میدان ہار بیٹھے تھے۔ مغربی مفکرین نے End of History جیسی کتابیں لکھ کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مغربی لبرل جمہوریت ہی دراصل انسانیت کی آخری جائے پناہ ہے۔ تجربے نے لیکن اس بات کو ثابت کر دیا کہ مغربی جمہوریت کا چہرہ روشن ہونے کے باوجود اس کا اندرون چنگیز سے تاریک تر ہے۔ ہر خطے کے لیے اس کے اصول و اقدار آئے روز تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اور اس کی بنیادوں تک کو بھی ثبات حاصل نہیں ہے۔ ایک اہم بات یہ کہ دنیا میں جس جس جگہ اس جمہوریت کی شاخیں پھیلیں، اس کا رنگ و سایہ ہر جگہ مختلف ہی رہا۔ اصل روح کے ساتھ قائم ہونے کے لیے اس کے ماننے والوں نے ماحول کی فراہمی میں انتہائی بخل سے کام لیا ہے۔ دنیا میں اس تجربے کی کامیابی کی سب سے بڑی مثال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی پیش کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں گوکہ جمہوریت کا وہ طبع شدہ ایڈیشن کبھی بھی دستیاب نہ ہو سکا جو مغرب کا شائع و پیش کردہ ہے، تاہم جمہوریت پسندی کے لیے یہ ملک ساری دنیا میں مشہور ہے۔ اقلیتوں کی حالت قابل رحم ہی نہیں بلکہ قابل ترس بھی ہے۔ سماجی سطح پر تفریق اس ملک کا خاصہ ہے۔ اونچی اور نچلی ذاتوں کا تصور معدوم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ رہا ہے۔ جہاں جمہوریت میں عوامی رائے کی اہمیت کا غلغلہ ہے وہی اس ملک میں عوام کی آوازوں کا دبانا جمہوریت کی عین خدمت سمجھا جاتا ہے۔

ہندوستان کی اس چھوت چھات والی جمہوریت کا سب سے بڑا تجربہ جموں و کشمیر کی عوام کو حاصل ہے۔ پچھلے ستر سالوں سے جاری عوامی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے جتنے غیر جمہوری طریقے اور نسخے یہاں آزمائے گئے ہیں، ان کی مثال ساری دنیا میں ملنی مشکل ہے۔ ایک جائز اور مبنی برحقیقت عوامی مطالبے کو نہ صرف طاقت کے بل بوتے پر مسترد کیا جاتا ہے بلکہ اس حق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کا گلا گھونٹ کر دبانا بھارتی جمہوریت کا معمول ہے۔ ماورائے عدالت قتل کرنا، جھوٹے الزامات کے تحت سالہا سال تک پس زنداں ڈال دینا، عقوبت خانوں میں ناگفتہ بہ صورتحال اور انسانیت کو شرما دینے والی صعوبتوں سے گزارنا، جوانیوں کو ناکارہ بنا دینا، عصمتوں کا لوٹنا، جبری گمشدگیاں، اور ظلم و ستم کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رکھ کر لاکھوں کی آبادی کو مسلسل عذاب سے گزارنا اس کے کریہ چہرے سے پردہ اٹھانے کے لیے ناکافی ہے۔

اگرچہ عالمی سطح پر اس وقت سب سے بڑھ کر انسانی حقوق کا رونا رویا جارہا ہے اور اس ضمن میں بہت بڑی مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس وقت کا سب سے بڑا المیہ ہی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کو ملکی اقتدار اور سالمیت سے بڑھ کرمقدم سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہر ماہ جائزے اور تبصرے پیش کیے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں ہو رہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، اور اقدامات کرنے کے لیے پلان تشکیل دیے جاتے ہیں۔ ان پامالیوں میں جہاں دنیا کی ساری جمہوریتیں شامل ہیں، وہاں دنیا کی سب سے بڑی مشہور نام نہاد جمہوریت کا گراف سب سے اوپر ہے۔ ہندوتوا کے نرغے میں بیچاری جمہوریت ایک بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔

اس وقت ہندوستان میں سب سے زیادہ غیر محفوظ اپنے آپ کو وہاں کی عوام سمجھتی ہے۔ جموں و کشمیر میں یہ حالت اور بھی دگرگوں ہے۔ اگرچہ دنیا کے بہت سارے ممالک کو ہندوستان یہ طعنہ دیتا ہے کہ ان ملکوں کے فوجی ادارے وہاں کے جمہوری اداروں سے زیادہ مضبوط ہیں اور ایک طرح کی غلبگی بھی ان کو حاصل ہے۔ تاہم زمینی حقائق اس بات کی کھلی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستان کی باضابطہ فوج جمہوری روایات کو مسخ کرنے اور عوامی رائے کو دبانے کے لیے ریاست کے پاس موجود ہتھیاروں میں سب سے زیادہ مؤثر پرزے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جموں و کشمیر میں اس ہندوستانی ادارے کی اعتباریت انتہائی زیادہ مشکوک ہوگئی ہے۔ فوج کو ریاست میں افسپا اور دیگر حفاظتی قوانین کے اندر ہر جنگی جرم کرنے کے لیے آزاد چھوڈ دیا گیا ہے۔ اجتماعی عصمت ریزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، کھلی زیادتیوں کے جو بھی واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں، ان میں ملوث افراد ماخوذ ہونے کے بجائے تحفظ اور انعامات سے نوازے جاتے ہیں۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں ریاستی باشندوں کو ہیومن شیلڈ کے بطور استعمال کرنے پر اگرچہ ساری دنیا نے افسوس کا اظہار کیا، تاہم میجر گوگوئی کو انعام سے نوازنا دراصل ایک طرح کی اخلاقی پسماندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک نئے ٹرینڈ کے تحت اب اس بات کو بالکل یقینی بنایا جاتا ہے کہ انکاؤنٹر سائٹس کے نزدیک کسی نہ کسی عام شہری، خصوصا نوجوانوں کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا جائے۔ نوجوانوں کے اس قتل عام کو کسی غلط فہمی پر محمول نہ کیا جائے بلکہ اگر فوجی سربراہ کے حالیہ بیانات کا سرسری جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے کا اخذ ہونا بالکل یقینی ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی رائے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت یہ کاروائیاں منصوبہ بند جنگی جرائم اور نسل کشی ہیں۔ ان جرائم کی طرف سے نہ صرف ہندوستان کی سیاسی قیادت نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں بلکہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر جس بات پر افسوس ہے، وہ ریاست میں موجود مین اسٹریم سیاسی تنظیموں کے رویے پر ہے، اقتدار کے نشے میں مست اس عاقبت نااندیش گروہ اور ابن الوقتی سیاست پر یقین رکھنے والے خاندانی سوداگروں نے بھی اپنی حکومت کے عوض جیسے کشمیری قوم کی قیمتی جانوں کا سودا کیا ہے۔ یہ لوگ مگرمچھ کے آنسو بہا کر ایک طرف فرضی غم کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے اقتدار کو دوام بخش دینے کی غرض سے ہر اس سازش کا حصہ ہوتے ہیں جس سے ریاستی عوام کو نقصان پہچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عالمی برادری، مسلم اتحادی تنظیموں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ریاست کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور عوام دشمن حکومتی اور فوجی کاروائیوں کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں۔ انکاؤنٹر سائٹس کے نزدیک شہید کیے جانے والے عام نوجوانوں اور شہری ہلاکتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نسل کشی کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل کیا جارہا ہے۔ یہ نسل کشی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اس لیے عالمی فورموں کو اس کے تدارک کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہییں۔

سب سے بڑھ کر جس عالمی فورم کی ذمہ داری بنتی ہے، وہ اقوام متحدہ کا ادارہ ہے، جہاں حقوق انسانی کی نگرانی کے لیے الگ سے آرگنائزیشنز موجود ہیں۔ اقوام متحدہ ہی وہ واحد عالمی ادارہ ہے جہاں اس مسئلے کے حوالے سے کئی ایک قرادادیں پاس ہوچکی ہیں۔ لہٰذا اس ادارے پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کشی کا سنجیدہ نوٹس لے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں انسانی حقوق کی آئے روز ہونے والی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے باضابطہ طور پر ایک کمیشن قائم کرے، تاکہ اس بڑھتی ہوئی تشوشناک صورت حال پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔

Comments

واحد بشیر

واحد بشیر

واحد بشیر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سرینگر میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے سابق ناظم اعلی ہیں۔ کشمیر کی صورتحال پر دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • لہو میں ڈوبی سر زمین کشمیر ہر لمحہ کسی معصوم کی جان کی جان چلی جاتی ہے یا کسی معصوم کو معذور یا نابینا بنایاجاتا ہے ۔ معتدد نوجوانوں کو پولیس تھانوں میں عتاب کا شکار بنایا جاتا ہے ۔ ہر بستی میں ہر لمحہ کوئی نئی مصیبت کھڑی کی جاتی ہے ۔ بھارتی فوج اور پولیس ہر وقت انسانی حقوق پامال کرنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ مجاہدین کے علاوہ اب عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ نلسن منڈیلا ایک جگہ کہتے ہیں کہ جب کوئی دیش مصلح افراد کے بجائے اپنے عام لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کرے تو وہ یہ جنگ ہار چکے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح بھارت یہ جنگ ہار چکا ہے اور اب وہ اس بوکھلاہٹ سے معصوم لوگوں کو شکار بناتے ہیں ۔ اس چیز سے کشمیری لوگ اور زیادہ مستحکم ہوتےہیں اور ان کے دلوں میں بھارت کی اور زیادہ نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ نفرت کی آگ بڑھتی جاتی ہے اور ایک دن سارے بھارت کو جلا کے راکھ کر دے گی ۔کہتے ہیں کہ جب ظلم بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ اب تو بھارت نے بھی بہت زیادہ مظالم کشمیری لوگوں پر ڈھائے ہیں اب تو لازمی طور پر اس ظلم کو ختم ہونا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com