تعلیم کے تاجر - پروفیسر محمد عمران ملک

روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ صحت، ٹرانسپورٹ اور تعلیم یہ بنیادی ضرورت ہے جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حکومت تو خیر کیا کرتی 1857ء کے بعد جس طرح تعلیم کو نجی شعبہ کے حوالے کیا گیا تب سے تعلیم پر زوال ہے۔ کوئی ایک سائنسدان، کوئی ایک لیڈر اس نجکاری کی تحریک کے بعد برصغیر میں پیدا نہیں ہو سکا سوائے گنے چنے ناموں کے۔ لیکن جس طرح ہم نے اپنی زبان کے ساتھ حشر کیا ویسا ہی تعلیم کے ساتھ کیا۔ اور تعلیم کی تجارت جب شروع کی تو علم کے بجائے تجارت ہی اصول ٹھہرا۔ اس نے تخلیق کی صلاحیت ہم سے چھین لی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی.

نجی شعبے میں تعلیم کی تجارت اگرچہ تجارت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے پہلے ادوار میں شروع ہوگئی تھی، لیکن پرویز مشرف کے دور میں لوگوں نے انڈسٹریز کے بجائے تعلیمی کاروبار کو منافع بخش سمجھا۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو ختم کر کے ایچ ای سی بنائی گئی، تاکہ تعلیمی میدان کے اندر معیارات کو پرکھا جا سکے۔ بدقسمتی سے ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کو رینکنگ کی دوڑ میں ڈال دیا جس نے ریسرچ کلچر کے بجائے اول دوم آنے کو ہی معیار بنا ڈالا۔

بات ہو رہی تھی تعلیم کی تجارت کی، اس پر پورا ریسرچ پیپر لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن میرا موضوع آج میرے شہر لیہ میں تعلیم کی تجارت پر ہے۔ نجی کاروباری تعلیمی اداروں کے بعد گورنمنٹ یونیورسٹیز نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا تو سرگودھا یونیورسٹی نے سب سے پہلے اپنی یونیورسٹی کے کیمپس پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت دینا شروع کیے، اور یہ دیکھنے کے لیے رسمی کارروائی بھی ضروری نہ سمجھی کہ نجی کاروباری لوگ ان کیپمس کو چلانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں کہ نہیں۔ سرگودھا یونیورسٹی کے بعد فیصل آباد کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے بھی اپنے کیمپس دھڑا دھڑ نجی کاروباری لوگوں کو دینا شروع کیے تو چیک ایند بیلنس نہ رکھ پائی اور اپنا شئیر وصول کر کے مطمئن ہوگئی۔ اب جب معاملات بگڑنا شروع ہوئے تو ایچ ای سی نے ایکشن لیا اور امتحانات کے قوانین ذرا سخت کیے۔

قصہ یوں ہے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لیہ کیمپس آغاز سے خود ہی امتحانات لے کر خود ہی رزلٹ کا اعلان کر کے طلبہ کو پروموٹ کر دیتا تھا۔ اس بار ایچ ای سی کی سختی پر فیصل آباد سے ایک لیٹر جاری ہوا جس میں لیہ کیمپس کی انتظامیہ کو کہا گیا کہ امتحانات فیصل آباد کا شعبہ امتحانات لے گا۔ لیہ کیمپس کی انتظامیہ نے اس سرکلر کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے اس ڈر سے خود امتحانات لے لیے کہ کہیں ان کے تعلیمی معیار کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے، جس پر فیصل آباد انتطامیہ نے اس امتحان کو کالعدم قرار دے کر نئے امتحانات کا شیڈول جاری کر دیا۔ اس پر اب طلبہ سراپا احتجاج ہیں کہ وہ دوبارہ امتحان کیوں دیں؟ لیہ کیمپس انتظامیہ بجائے اپنے طلبہ کا ساتھ دینے کے ان کے خلاف انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کو دھمکایا جا رہا ہے، اور ان کو یونیورسٹی سے نکالنے اور ڈگری جاری نہ کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ تین طلبہ راشد محمود بھٹہ، اویس قرنی اور مجاہد کھوسہ کا اخراج کر دیا گیا ہے۔ طلبہ آج بھی دھرنا دیے بیٹھے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں بلکہ طلبہ کے لیے آواز بلند کرنے پر لیہ کیمپس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے مجھے بھی ایک دھمکی آمیز میسج کیا۔ اپنے طلبہ اور قوم کے مستقبل کے ساتھ بھی کوئی ایسے کرتا ہے کیا؟

یہ بھی پڑھیں:   جناب وزیراعظم،ایک شعبہ تعلیم بھی ہے - پروفیسر جمیل چودھری

گورنمنٹ کالج لیہ میں تعلیم حاصل کرتے وقت میں اسلامی جمعیت طلبہ لیہ کا ناظم تھا۔ وہاں گورنمنٹ کالجز ایک ہی روڈ پر ہیں اور ساتھ ساتھ ہیں. ٹیکنیکل کالج کی نجکاری کے خلاف طلبہ نے جلوس نکالا تو ہمارے کالج میں بھی گھس آئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ پولیس نے لاٹحی چارج کیا، میں نے بکھرتے طلبہ کو اکٹھا کرکے جلوس کو منظم کیا اور کالج سے پرامن طور پر باہر لے آیا۔ لیکن اس پرامن جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ہمیں گرفتار کر لیا۔ مجسٹریٹ ہمارے کالج کے پرنسپل محترم غلام محمد خان مرحوم کے پاس گیا اور ہمارے خلاف مدعی بننے کا کہا۔ اللہ خان صاحب کے درجات بلند کرے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہی شہر کے طلبہ کے خلاف مدعی نہیں بن سکتا، اور ہمارے خلاف کیس خارج ہو گیا۔ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب آپ بڑے ہوں تو آپ کو بڑا پن دکھانا پڑتا ہے۔ پھر جب مسائل آپ کے کھڑے کیے ہوں تو اس کی سزا طلبہ کو کیوں دی جا رہی ہے؟ آپ کاروبار کیجیے لیکن کاروبار کے بھی اصول ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں لاہور کی ایک یونیورسٹی کے ڈگری کے ایشو پر اپنی ہی طالبات کو تھپڑ مارے گئے۔ یہ اپنے بچوں کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ وہ کاروباری اور شاہانہ سوچ ہے کہ ہمارے کاروبار میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، ہماری بات کو من و عن تسلیم کیا جائے۔ خوشامد کلچر ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسا آیا ہے کہ ان بزنس مین تعلیم فروشوں کو کسی اخلاقیات کا کوئی خیال نہیں۔ ایک بار پھر اپنے لیہ کالج کا ہی حوالہ اور غلام محمد خان مرحوم کا ہی تذکرہ کروں گا۔ ہمارا ایک مضمون بہت ڈسٹرب تھا اور ٹیچر اکثر کلاس میں نہیں آتے تھے۔ ایک دن ہم کچھ طلبہ استاد محترم کے پاس گئے کہ سر آپ پرنسپل ہیں اور ہماری پڑھائی میں حرج ہو رہا ہے۔ محترم خان صاحب پرنسپل آفس سے اٹھے اور خود ہمیں کلاس پڑھانے لگ گئے۔ ہم آج بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں، ان کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ یونویرسٹی انتظامیہ سے بس اتنی گزارش ہے کہ ان بچوں کو اپنا بچہ سمجھیے. یہ بچے آپ کے مستقبل پر مثبت یا منفی طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ دور وہ نہیں کہ صدا دبا لی جائےگی یا طلبہ کو نکال کر مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔ کیونکہ صدا دبے گی تو حشر ہوگا، دیا بجھا تو سحر ہوگی.

یہ بھی پڑھیں:   ایک عرب مسلمان لڑکی

فیصل آباد انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس بد انتظامی کا بدلہ طلبہ سے لینے کے بجائے لیہ کیمپس کی انتظامیہ کو جرمانہ کریں اور طلبہ کے مستقبل سے یوں نہ کھیلیں۔

لیہ کے عزیز طلبہ سے بھی گزارش ہے کہ ڈٹے رہنا، ظلم کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ظالم کبھی ڈٹ نہیں سکتا۔ آپ کھڑے نہ ہوئے تو باقی طلبہ کا مستقبل اندھیرے میں چلا جائے گا، اور آپ ڈٹے رہے تو باقی طلبہ کے لیے صدقہ جاریہ ہوں گے.