نیکی کر فیس بک پر ڈال - صہیب الرحمن

ابلاغ کی دنیا میں جدید ترین انقلاب سوشل میڈیا کی ایجاد ہے۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو سب سے پہلے دل اور دماغ پر اثر انداز ہورہا ہے۔ یہ سوچ کے زاویوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے کیونکہ یہ ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ “نیکی کر دریا میں ڈال” اب اس انقلاب کے بعد ہم یوں کہہ سکتے ہیں “کچھ بھی کرفیس بک پر ڈال۔”

دکھاوا، جو انسان کی فطرت کا منفی پہلو ہے اس کو سوشل میڈیا نے خوب ہوا دی ہے۔ مسئلہ یہ ہے آپ شیئرنگ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ضرورت سے زیادہ ہی، جی ہاں آپ کو سکھلایا گیا تھا کہ شیئر کرنا اچھی بات ہے لیکن وہ شیئرنگ تھی “بانٹنا” کہ سب کچھ اپنے آپ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو دوسروں تک بھی پہنچائیں لیکن اب اس نسل نے اس خوبصورت لفظ کو سوشل میڈیا تک محدود کر لیا۔ یہ بات بلامبالغہ درست ہے کہ ایک ہی جگہ رہنے والے لوگوں کو شاید آپس کی باتیں، معاملات خوشی، غمی کے مواقع میں ایک دوسرے سے بات چیت کے بجائے فیس بک پر پتہ چلتے ہوں گے۔

آج کچھ لوگوں نے فیس بک کو اپنی نیکیوں سے بھرنے کی کوشش کر دی ہے۔ وہ اعمال جو ہمارے اسلاف چھپ کر کرنے کی کوشش کرتے تھے، ان کو اس بات کا ڈر رہتا تھا کہ کہیں ریا کاری نہ ہو جائے، لیکن آج کل لوگ نیکی تب تک کرتے نہیں، جب تک اسے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ نہ کر لیں۔

ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ماں کی محبت میں قصیدے پہ قصیدہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن ماں شاید اس وقت گھر کی سبزی لینے خود بازار گئی ہو اور ماں سے محبت رکھنے والے اے سی روم میں بیٹھ کر جھوٹی محبت کے کھوکھلے دعوے فیس بک کی زینت بنا رہے ہوں۔

پچھلے ماہ شب برأت گزری۔ یہ فیس بک کا ہی کمال ہے جس نے اس دن کو معافی کا دن بنا دیا۔ معافیاں دھڑا دھڑ مانگی اور بانٹی جا رہی ہیں اور معاف کرنے والی ذات سے تعلق کا یہ حال ہے کہ شاید ہی کبھی اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوں۔ ہاں، اگر پھیلائے بھی ہوں گے تو وہ بھی کوشش ہوگی اس کی بھی ایک دو تصاویر لے کر فیس بک پر دے دی جائیں تاکہ فیس بکی دوستوں کو پتہ ہو کہ موصوف کو بس عشقیہ شعر و شاعری، فضول تنقید و تشنیع اور کسی کے بچھڑ جانے کی پوسٹیں ہی نہیں کرنی آتیں بلکہ صاحب تو عبادت میں بھی مصروف رہتے ہیں تاہم اس عبادت کا دورانیہ اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وقت ایک کیمرہ تصویر لینے میں لگاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

محلے، علاقے کا وہ خود دار انسان جو غریب و مسکین ہے لیکن وہ کسی کو بتانا پسند نہیں کرتا، گھر میں فاقوں سے یہ حال ہے کہ وہ بھوکا رہ لیتا ہے لیکن کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے۔ صاحب کو اس کی غربت کا پتہ چلتا ہے تو ایک ہزار روپے صدقہ دیتے ہوئے اس غریب اور خود دار انسان کی تصویر لے کر اس کی عزت نفس ایسے مجروح کرتے ہیں کہ اپنی نیکی تو فیس بک کی زینت بنا دی اور اس کو معاشرے کے سامنے بے بس کر دیا جبکہ دین سکھاتا ہے کہ صدقہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔

فیس بک پر ایک پوسٹ نظر آتی ہے “فجر کی نماز باجماعت، الحمد اللہ” یقینا موصوف کو بہت خوشی تھی صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کی کیونکہ بہت عرصے بعد یہ توفیق ملی لیکن ملاقات کرنے پر اس حقیقت کا پتہ چلا کہ وہ فجر کی نماز سے پہلے ساری رات فلم دیکھتے رہے اور جب سونے لگے تو فجر کی اذان ہو رہی تھی اور روم فیلو زبردستی نماز پڑھنے ساتھ لے گیا تاہم عرصے بعد کی گئی یہ نیکی شاید پچھلے گناہوں کا کفارہ تو نہ بن پاتی لیکن فیس بک کی زینت ضرور بن گئی۔

اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، لمبا سفر طے کر کے بیت اللہ حج و عمرے کے لیے گئے۔ اپنی پڑھائی، کاروبار اور ملازمت کی مصروفیات سے وقت نکالا، بہت مشکل سے میرے ادارے نے مجھے چھٹی دی، کافی روپیہ خرچ کر دیا اس سفر میں، وہاں پہنچ کر نیوز چینل کی طرح لمحہ بہ لمحہ اپنی عبادت سے لوگوں کو باخبر کرتے رہے، کبھی ایک ہاتھ بیت اللہ کو تو دوسرے سے اپنی سیلفی، کبھی حجر اسود کو چومتے ہوئے، کبھی ہاتھ اٹھائے دعا کرتے ہوئے گویا کراماً کاتبین کا درجہ فیس بک کو دے دیا ہے۔

خود نمائی کا یہ وائرس عام لوگوں میں ہی نہیں، باعلم و عمل لوگوں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ کبھی اپنے دروس کی تصاویر تو کبھی اپنے جمعے کے اشتہارات کی تشہیر، کبھی معروف دینی شخصیات کے ساتھ ملاقات تو کبھی جلسے کے سٹیج پر ہاتھوں میں ہاتھ، کبھی کھانے کی میز پر خوش طبعی کے حالات۔ خشیت الٰہی، للہیت اور خلوص کا وہ عنصر جو مالک ارض و سما کو مطلوب ہے، وہ ناپید مگر سبحان اللہ، ماشاء اللہ کی ایسی طویل فہرست کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

ابھی رمضان کا مہینہ گزرا ہے تو یقینا فیس بک کا رنگ بھی بدل چکا تھا۔ بے ہودہ اور لغو باتیں، جھوٹی کہانیاں، اور فضول شعر و شاعری بہت کم دیکھنے کو ملتی تھی لیکن اس کی جگہ جس چیز نے لی وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ٹھہری۔ ہر پوسٹ وہ جو اعمال پر مشتمل ہے، کبھی سحری کے اوقات میں پوسٹ، کبھی دعا کے لیے اٹھے ہاتھ والی تصویر، کبھی تلاوت قرآن کرتے ہوئے لی گئی تصویر، پھر افطاری کے دوران لی گئی تصویر، اس کے بعد نماز تراویح کے لیے کسی معروف مسجد میں "چیک ان"۔ اور تو اور کوشش کر کے کسی طرح تراویح پڑھانے والے قاری صاحب کے ساتھ سیلفی لے کر اس بات کی دلیل دینا کہ واقعی آج نماز تراویح وہاں پڑھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

شاید آپ کہیں کہ ایسی پوسٹیں کرنے کا مقصد لوگوں کو نیکی کی ترغیب دینا ہوتا ہے اور معاشرے میں دعوت دین کو عام کرنا ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھیے! کہ ہم خود کو یا دیگر لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کر سکتے ہیں مگر اپنے رب کو نہیں کیونکہ نیتوں کا حل وہی بہتر جانتا ہے کہ کس شخص کے دل میں کیا ہے۔

نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اخلاص لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ انسان کے دل اور نیت پر ہوتی ہے اس کی زبان پر نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے طالبانِ نمود و نمائش اپنے مقام سے اللہ تعالیٰ کے ہاں گر جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس وقت نظریات کی جنگ جاری ہے۔ آپ بلاجھجک کسی بھی نظریے کا پرچار پورے زور و شور سے کریں لیکن خدا، شخصیات اور ذاتیات کا پرچار ہر گز نہ کریں۔ اگر آپ کوئی اخلاقی، اصلاحی اور تنظیمی پوسٹ شیئر کر رہے ہیں تو کوشش کریں کہ اس میں واقعی اخلاص شامل ہو، نیت نیک ہو۔ اگر ہمارا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے تو ہمارا عمل ہمارے لیے باعث اجر بن جائے گا۔ اگر معاملہ اس کے الٹ ہوا تو وہ ریاکاری کے زمرے میں آ جائے گا جس کے بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کر ے گا اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا” (طبرانیی:199/20)

اس حدیث میں ہمارے لیے واضح کر دیا گیا کہ نیکی کا معیار شہرت اور ناموری نہیں ہے بلکہ اللہ رب العزت کی خوشنودی ہے۔ اگر ہم محنت کر کے نیکی والے راستے پر آتے ہیں تو اس کو خود لوگوں کے سامنے رکھ کر ضائع مت کریں۔ ہمیں عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر پہرہ بھی دینا چاہیے تاکہ نیکی ہمیشہ قائم رہے۔