کیرئیر کا انتخاب: کامیابی کے لیے رہنما تجاویز - روبینہ شاہین

بچوں کے لیے کیرئیر کا انتخاب ایک مشکل اور دشوار مرحلہ ہوتا ہے۔ فی زمانہ یہ اور بھی گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ علوم کی تیز رفتاری نے مختلف میدانوں میں خاطر خواہ اضافے کیے ہیں۔ اس سے نوکری اور خدمات کے میدان میں گوناگوں اضافے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں والدین کے لیے بھی کسی مخصوص شعبے کا انتخاب مشکل ثابت ہوتا ہے۔

عام طور پر فیلڈ کا انتخاب کرتے ہوئے دو چیزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ فی زمانہ رجحان کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ والدین کی خواہش کیا ہے؟ اس انتخاب میں ایک تیسرا فیکٹر بھی ہوتا ہے جسے بری طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ ہے بچہ یا نوجوان کا رجحان، جس نے آگے چل کر اس فیلڈ کو لے کر چلنا ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اپنے بچے کے سامنے سے تمام شعبوں کے اچھے ماہرین گزارتے چلے جائیں، بچے کا رجحان جس طرف ہوگا وہ لاشعوری طور پر وہاں ٹک جائے گا۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کے سامنے یہ کردار اور ان کے درمیان تفریق رکھی ہی نہیں جاتی اور اسی لیے انہیں یہ طے کرنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے۔

بچوں کا نصاب مرتب کرتے وقت پرائمری کے بعد سے ہی اس موضوع کو پڑھایا جانا چاہیے کہ آپ نے کیرئیر کا انتخاب کس بنیاد پر کرنا ہے؟ تاکہ یہ بچہ اپنے لیے بہتر راستے کا انتخاب کر سکے۔ اس سلسلے میں درج ذیل ضروری نکات ہیں جن پر والدین اور اساتذہ کو توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

بچے کو خواب دیکھنا سکھائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ بڑے بڑے خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں۔ خوابوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ مثالوں سے سمجھایا جائے کہ خوابوں کی تکمیل کیسے ممکن ہے۔ خصوصاً اکیسویں صدی کے تین بڑے خوابوں کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوئے۔ علامہ اقبال کا خواب پاکستان کی صورت میں، نیلسن منڈیلا کا خواب سیاہ فاموں کے حقوق کی آزادی کی صورت میں اور رائٹ برادران (جنہوں نے جہاز بنایا) کا خواب فضا میں اڑنے کی صورت میں۔ یہ سب خواب ایک سوچ سے شروع ہوئے اور پھر عملی صورت میں دنیا کے سامنے ظہور پذیر ہوئے۔ بچوں کو بتایا جائے کہ انسانی ذہن جو سوچ سکتا ہے، وہ عملی طور پر ممکن بن سکتا ہے۔

بچوں کو خودشناسی سکھائیں۔ ہمارے اندر سے اٹھنے والی آواز اصل میں قدرت کی صدا ہے جو کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔ قدرت انسان کو لمحہ بہ لمحہ گائیڈ کرتی رہتی ہے کہ تم نے کیا، کب اور کیسے کرنا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے پاؤلو کوئلو کا الکیمسٹ پڑھیئے جو اسی موضوع کا احاطہ کر رہا ہے۔ مولانا رومی کہتے ہیں کہ ایک دنیا باہر کی دنیا ہے اور ایک دنیا تمہارے اندر ہے، اس کو جاننا اور کھوجنا ہی اصل کام ہے۔ آئزک نیوٹن، وارث شاہ، ولیم شکیسپیئر جیسے لوگ جان گئے تھے کہ ان کو کیا کرنا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے اندر کی آواز کو سننا سیکھ لیا تھا۔ پاؤلو کوئلو کہتا ہے کہ جو آپ بننا چاہتے ہیں، بن سکتے ہیں کیونکہ کائنات کی ہر چیز اس کے حصول میں آپ کی معاون ہوگی۔

جب بچہ خودشناس ہو جائے تو اگلا مرحلہ ہے بچوں کو پر اعتماد بنانے کا۔ بقول اسٹیو جابز، آپ میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ آپ نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر چل سکیں۔ یہی چیز فیصلہ کرے گی کہ آپ نے بننا کیا ہے؟ خودشناسی کا عمل ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس حقیقت سے روشناس ہوں کہ ہم اس سے کہیں آگے جا سکتے ہیں جو ہماری سوچ ہے۔

اس کے بعد اپنے بچوں کو ان لوگوں سے ملوائیں جن کی طرح انہیں بنانا چاہتے ہیں۔ THINK AND GROW RICH بڑی مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب میں دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کے حالات زندگی پہ تحقیق پیش کی گئی ہے کہ ان کی کامیابی کا راز کیا تھا۔ ان میں آئن سٹائن اور آئزک نیوٹن جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس میں ایک نکتہ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ سال میں کچھ مخصوص دن اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ رہتے اور تبادلہ خیال میں گزارتے تھے۔ اس لیے بچوں کے اردگرد اوائل عمر سے ہی ایسے لوگوں کا حلقہ بنائیے جیسا آپ ان کو بنانا چاہتے ہیں۔

بچوں کو وہ تمام مہارتیں اور فن سکھائیں جن سے وہ اپنا وہ بن سکیں کہ جو وہ بننا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ کام یعنی ہنر بھی آنا چاہیے۔ ان کو اپنے کام میں مہارت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ یہی چیز تعین کرے گا کہ ان کی اوقات کیا ہے، یہ کتنے پانی میں ہیں۔ اس کام کے بارے میں ان کو یقین ہونا چاہیے کہ دنیا میں اس سے اچھا کام ان کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔

بچہ کسی فن میں ماہر ہوجائے لیکن محنت سے جی چرائے تو وہ فن بے موت مار اجائے گا۔ بچوں کو بچپن ہی سے سخت محنت کی عادت ڈلوائیں۔ آپ نے اپنے اردگرد کے لوگوں پر غور کیا ہوگا کہ جن لوگوں کو محنت کی عادت ہوتی ہے وہ کہیں آگے نکل جاتے ہیں ان لوگوں کی نسبت جن کے پاس صرف ڈگری ہوتی ہے۔

کہتے ہیں زندگی دشوار ہے مگر ان لوگوں کے لیے اور بھی دشوار ہوتی ہے جو اپنی پسند کے راستوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ جب ہم حالات کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کا فن سیکھیں گے تو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پر چلتے رہنے کے لیے صبر اور حوصلہ درکار ہوگا۔ اس کے بغیر آپ منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ لہذا بچوں کے اندر صبر، برداشت اور حوصلہ پیدا کیجیے۔

بڑے خوابوں کے حصول کے لیے بڑی توانائی درکار ہوتی ہے۔ توانائی وہ فیول ہے جس کے بغیر آپ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے۔ یہ توانائی آپ کی جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت سے حاصل ہو گی۔ صحت جتنی اچھی ہوگی اتنا ہی آپ اپنے کام پہ توجہ کر سکیں گے۔ لہذا اچھی اور متوازن غذا، مناسب نیند اور ورزش سے اپنے دماغ کو تندرست و توانا رکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں روحانی طور پر مضبوط ہونا بہت اہم ہے۔ رب سے رشتہ جتنا مضبوط ہوگا، اتنا ہی مثبت اثر پڑے گے۔ اپنے بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیے ان کی جسمانی، روحانی اور جذباتی صحت پر توجہ دیجیے کیونکہ صحت مند افراد ہی صحت مند معاشرے کو تشکیل دے سکتے ہیں۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.