محمد بن سلمان کی ولی عہدی اور سعودی امریکی تعلقات کا تاریخی پس منظر - تزئین حسن

اس کی شادی 13 سال کی عمر میں اپنے فرسٹ کزن سے ہوئی۔ وہ اپنے شوہر کی آٹھویں بیوی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ یہ ظلم کی کسی داستان کا آغاز ہے نہ کسی ناکام شادی کا قصہ۔ یہ دنیا کی کامیاب ترین شادیوں میں سے ایک شادی تھی جس نے بلاشبہ مسلم دنیا کے اہم ترین ملک کو دو بادشاہ، چار ولی عہد، ان گنت گورنرز اور وزراء دیے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پہلی شادی کے سات سال بعد 1920ء میں اس نے اپنے دوسرے شوہر سے طلاق لے کر اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کر لی۔

اس شادی نے سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کو ایک نہ دو پورے سات بیٹے دیے۔ 1920ء میں اپنی دوسری شادی کے بعد سے 1953ء میں عبدالعزیز کی موت تک وہ ان کی منکوحہ رہیں۔ جی ہاں! یہ شاہ فہد اور شاہ سلمان کی والدہ اور شاہ عبدالعزیز ابن سعود کی منکوحہ حصہ بنت احمد السدیری کی بات ہو رہی ہے جن کے ایک پوتے 57 سالہ شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے عہدے سے سبکدوش کر کے دوسرے پوتے 31 سالہ محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کیا گیا تو عالمی میڈیا میں ہلچل مچ گئی۔ سعودی میڈیا کے مطابق سعودی شہزادے محمد بن نائف کو ولی عہدی سے فارغ کر کے 31 سالہ ڈپٹی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد مقرر کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ پچھلے سوا دو سال میں دوسری مرتبہ ہے کہ سعودی تخت کی جانشینی میں تبدیلی کی گئی ہے۔

یہ بھی ایک غیر معمولی امر رہا ہے کہ اس سے قبل ولی عہدی، شاہی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں تک ہی محدود رہی تھی، مگر 2015ء میں شاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنے کے دو مہینے بعد ہی ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہدی سے فارغ کر کے سلمان نے اپنے سگے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد اور محمد بن سلمان کو ڈپٹی ولی عہدنامزد کر دیا تھا جنھیں ’ایم بی ایس‘( MBS) بھی کہا جاتا ہے۔ اور اب ایک بار پھر مملکت کی جانشینی میں تبدیلی اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ٹرمپ ایم بی ایس کی سربراہی میں ایک مسلم نیٹو تشکیل دے رہے ہیں، اور سعودیہ نے مختلف ملکوں کے ساتھ مل کر خلیجی ملک قطر کا معاشی مقاطعہ کا اعلان کر دیا ہے۔ مملکت کے یہ حالیہ اقدامات عالمی میڈیا میں چہ مگوئیوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ 2015ء سے سعودی شاہی خاندان کے اندرونی معاملات میں غیر معمولی امریکی اثر و رسوخ کا اشارہ دے رہے ہیں جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ
جانشینی کی ان پے درپے تبدیلیوں کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں اور یہ مملکت جزیرۃ العرب اور دنیا کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
شاہی خاندان کے اندر کس نوعیت کی سیاسی کشمکش برپا ہے اور دنیا کی بڑی طاقتیں عالمی منظرنامے میں اس خاندانی سیاست کو کس طرح استعمال کر سکتی ہیں؟
اور مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر یہ تبدیلی کیسے اثر انداز ہوسکتی ہے؟
مارچ 2015 ء میں جانشینی کی تبدیلی سے قبل یمن کی جنگ کا آغاز ہوا اور جون2017ء کی تبدیلی سے قبل قطر کا معاشی اور سفارتی مقاطعہ۔ خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے ان دو اہم ترین واقعات کا سعودی جانشینی سے کیا تعلق بنتا ہے؟
اس سے زیادہ اہم یہ سوال کہ کیا جانشینی کی ان تبدیلیوں میں امریکی اثر و رسوخ بھی شامل ہے اور اگر ہے تو اس کے کیا ثبوت ہیں؟

کسی بھی سیاسی تجزیہ سے پہلے اس جغرافیائی خطے کا تاریخی پس منظر، شاہی خاندان کی سیاست اور امریکا سے مملکت کے روابط کا جائزہ باریک بینی سے لینا بہت ضروری ہے۔ حصہ السدیری نامی اس خوش قسمت خاتون کے یہ سات بیٹے جو سدیری برادران بھی کہلاتے ہیں، میں سے اب دو بقیدحیات ہیں۔ اپنی تعداد، سیاسی بصیرت اور ملکی معاملات کو سنبھالنے کی اہلیت و تربیت کی وجہ سے شاہی خاندان کا بااثر اور طاقتور ترین جتھا مانے جاتے تھے اور اب ان کے متعدد پوتے بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔The Binladens: An Arabian Family in The American Century نامی کتاب کے مصنف اسٹیو کول کے مطابق تمام سدیری برادران اپنی لبرل سوچ، پر تعیش لائف سٹائل اور امریکا کی طرف جھکاؤ کے باعث جانے جاتے ہیں۔ اسٹیوکول یہ بھی لکھتا ہے کہ اپنے پیشرو شاہ فیصل اور شاہ خالد کے مقابلے میں شاہ فہد (جو سدیری برادران میں سب سے بڑے تھے) کا رویہ شروع ہی سے امریکا کے لیے بہت لچکدار تھا اور امریکا نے بھی مستقبل کے دیرینہ پارٹنر کے طور پر (ان کی بادشاہت سے بہت پہلے) ان سے تعلقات کو مضبوط کیا۔ اس سلسلے میں 1969ء میں امریکا کے ایک خصوصی دورے میں صدر نکسن سے ان کی ذاتی ملاقات کرائی گئی، پینٹاگون نے انہیں نیشنل ایروناٹکس اور اسپیس ایڈمنسٹریشن کا خصوصی پرائیویٹ دورہ کروایا۔ یاد رہے کہ یہ شاہ فیصل کا دور تھا اور شاہ خالد اس وقت ولی عہد تھے۔ سرکاری پروٹوکول کے مطابق امریکی صدر کسی’’ممکنہ‘‘ سربراہ مملکت سے نہیں ملتا، چاہے وہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو۔ خلیج کی پہلی جنگ کے دوران جب امریکی فوجیں عراق کے خلاف کارروائیاں کرنے میں مصروف تھیں، سدیری خاندان سے تعلق رکھنے والے پہلے بادشاہ شاہ فہد کی لیڈی ڈیانا کے ساتھ تصویر بہت سے قارئین کو یاد ہوگی، جس میں وہ برطانوی ولی عہد کی شریک حیات کو ہیروں کا سیٹ پیش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے حالیہ سعودی وزٹ میں ان کی بیٹی اوانکا کی خواتین کے حقوق کی تنظیم کے لیے سو ملین ڈالر کا تحفہ بھی سدیری برادران کی لبرل اور ترقی پسند سوچ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بیٹوں سے قبل حصہ السدیری کے متعدد بھائی مملکت کے مختلف صوبوں کے گورنر رہے۔ اس طرح انہیں مملکت کی طاقتور ترین خاتون گردانا جاتا ہے۔

آج حصہ السدیری کی تیسری نسل مملکت کے سیاہ اور سفید کی مالک ہے۔ خاندانی روایات کے مطابق انہوں نے بذات خود اپنے بیٹوں کی سیاسی تربیت میں دلچسپی لی اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی تاکید کی۔ ان کے بیٹوں میں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز جو شاہ عبدللہ کے ولی عہد رہے، وزیر دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہے، معزول ہونے والے ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے والد، شہزادہ نائف بھی ولی عہد، اور 37 سال وزیر داخلہ رہے، 1979ء کے حج کے بعد حرم مکّی پر بنیاد پرستوں کے قبضے کے وقت نائف ہی وزیر داخلہ تھے۔ ان کے دور میں کویت پر عراقی قبضے اور پہلی خلیجی جنگ کے بعد القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے بھی بہت سختی سے نمٹا گیا۔ 2012ء میں ان کی وفات کے بعد سے سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف وزیر داخلہ تھے جنھیں اس عہدے سے بھی سبکدوش کر دیا گیا۔ ان کے ایک بھائی2011ء کی عرب بہار کے دوران شرقیہ صوبے کے گورنر کے طور پر احتجاج کرنے والی شیعہ آبادی سے سختی سے نمٹے۔ گزشتہ سال ان احتجاجی لوگوں میں سے کچھ کو موت کی سزائیں بھی دی گئیں جن کے خلاف مغربی میڈیا میں سافٹ رد عمل سامنے آیا حالانکہ بہ حیثیت مجموعی سعودیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مغرب چپ ہی سادھے رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

2015ء میں شہزادہ محمد بن نائف کی ولی عہدی بھی غیر متوقع تھی مگر مغربی ذرائع ابلاغ بہت پہلے اس کی پیش گوئی کر چکے تھے۔ یاد رہے کہ محمد بن سلمان جو مغرب میں ’ایم بی ایس‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سے پہلے محمد بن نائف بھی امریکا کے چہیتے تھے۔ انھوں نے وزارت داخلہ جوائن کرنے سے پہلے باقاعدہ امریکی خفیہ ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور اسکاٹ لینڈ یارڈسے تربیت حاصل کی تھی۔ ’ایم بی ایس‘ بھی اپنے پیش رو کی طرح مارچ میں ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو عالمی تجزیہ نگار قطر کے مقاطعہ سے جوڑ رہے ہیں۔ جرمن وزیرخارجہ نے قطر کے مقاطعہ کو ٹرمپفیکیشن (TRUMPIFICATION) کا نام دیا ہے، اور برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق یہ ٹرمپ ہی کے ہی اشارے پر ہو رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 2015ء میں شاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وائٹ ہاؤس کا عمل دخل شاہی خاندان کے اندرونی معاملات میں بہت بڑھ گیا ہے۔

نئے ولی عہد محمد بن سلمان دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع ہونے کے ساتھ ساتھ اکانومک اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، یمن کے خلاف operation decisive storm کی قیادت بھی اور ’ویژن 2030‘ کے خالق بھی مانے جاتے ہیں جس کے مطابق سعودی معیشت تیل پر اپنا انحصار ختم کر دے گی۔ اس کے علاوہ بھی سلطنت کے متعدد اہم اداروں کی سربراہی اور اب ولی عہد کے طور پر جانشینی سے وہ بلا شبہ مملکت کے طاقتور ترین فرد گردانے جا رہے ہیں۔ ایک ہی شخصیت میں طاقت کا یہ ارتکاز مملکت میں پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے ورنہ مملکت کے قیام سے لے کر شاہ عبدالعزیز کے مختلف بیٹے مل کر ملک کا انتظام سنبھالتے رہی تھے۔

نئے ولی عہد کے حامی ان کو تبدیلی کے ایک چیمپئن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم بی ایس بڑے پیمانے پر سعودیہ کی روایتی معیشت کو لبرلائز کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کی روایتی مذہبی پالیسیوں کے حوالے سے بھی ان کی سوچ اپنے پیش روؤں سے بہت مختلف ہے۔ رواں سال واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد بن سلمان مملکت کی روایتی مذہبی پالیسی پر افسوس کرتے ہوئے نظر آئے۔ توقع ہے کہ وہ مملکت کی ثقافتی منظرنامے کو بھی لبرلائز کریں گے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے یہ تبدیلی غیر متوقع نہیں تھی لیکن یہ شاہ عبدالعزیز کے بعد مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ باپ نے بیٹے کو ولی عہد نامزد کیا ہو۔ اس سے قبل عبدالعزیز ہی کے بنائی ہوئے اصولوں کے مطابق جانشینی باپ سے بیٹوں کو نہیں، بڑے بھائی سے چھوٹے بھائی کو منتقل ہوتی تھی۔

مغربی میڈیا میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب سے شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو نائب ولی عہد نامزد کیا تھا، خطے میں سعودیہ کا کردار غیرمعمولی طور پر جارحانہ ہوگیا ہے۔ ایم بی ایس کو یمن میں سعودی مداخلت کا آرکیٹیکٹ بھی کہا جاتا ہے اور ایران کے معاملے پر بھی ان کا رویہ بہت غیر لچکدار اور سخت ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی بات چیت اور افہام و تفہیم کے خلاف ہیں۔ قطر کے مقاطعہ کے بھی سب سے بڑے حامی ہیں۔ بروکنگ انسٹی ٹیوٹ اور مڈل ایسٹ آئی نامی تھنک ٹینکس کے مطابق شاہ عبدللہ کی وفات کے بعد توقع یہ تھی کہ باپ بیٹے کا یہ گٹھ جوڑ سنی مسلم اتحاد کو مضبوط کرے گا لیکن سعودی حکومت کے موجودہ اقدامات مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب محمد بن سلمان کی قیادت میں قطر کے خلاف متعدد ملکوں کا اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن ترکی اور ایران کھل کر قطر کا ساتھ دے رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور عمان نے غیر جانبداری کا اعلان کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

مملکت سعودیہ کے مغرب سے روابط کا تاریخی پس منظر
سعودی مملکت کو مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے مضبوط عرب اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مملکت سعودیہ کی امریکا سے پارٹنرشپ کب شروع ہوئی؟ اور وہ پچھلے سو سال میں کس طرح آگے بڑھی؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

سن 1902ء میں ابن سعود کے نام سے معروف مملکت کے بانی نے ریاض شہر پر قبضے سے اپنی تیس سالہ فتوحات کا آغاز کیا جس میں 52 قبائلی جنگوں کے دوران یمن، اومان، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کو چھوڑ کر پورے جزیرہ نما عرب میں سعودی مملکت قائم کی۔ آج ہم سب سعودی امریکی پارٹنرشپ سے واقف ہیں لیکن ریاض پر قبضے کے آٹھ سال بعد تک ابن سعود کو کسی مغربی فرد سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ’سعودی آرامکو ورلڈ‘ نامی جریدے کے مضمون The Captain and the King کے مطابق انڈیا آفس کا ولیم ہنری شکسپئیر وہ پہلا شخص تھا جس نے مارچ 1910ء میں ابن سعود سے ملاقات کی۔ اردو، فارسی، عربی اور پشتو روانی سے بولنے والا یہ مہم جو برٹش فارن آفس کا ملازم تھا جسے 1909ء میں کویت کا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا گیا۔ خلیج فارس کے بہت سے علاقے اُس وقت خلافت عثمانیہ کے زیر حکومت تھے اور برطانوی حکومت ان کے عملی تعاون کی خواہشمند تھی۔ دوسری طرف آل سعود طویل عرصے کی جلاوطنی کے بعد ریاض کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور عرب کے دوسرے خطوں میں قدم جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ بحر ایڈریاٹک سے لے کر بحر کیسپین تک پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ اب کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ برطانیہ، فرانس، روس اور جرمنی مستقبل کے کسی سیاسی خلاء کو پر کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مضمون کے مطابق شکسپئیر وہ پہلا فرد تھا جس نے 1914ء میں ابن سعود کی تصویربنائی۔ اس سے قبل ابن سعود نے کیمرہ نہیں دیکھا تھا۔

اسی دوران میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو برٹش فارن آفس نے ولیم شکسپئیر کو عراق کے محاذ کے لیے آل سعود کی حمایت حاصل کرنے کا کام سونپا۔ آل سعود اس وقت موجودہ سعودی صوبے حائل کے راشدین سے جنگ میں مصروف تھے جو خلافت عثمانیہ کے اتحادی تھے۔ اپنے عروج کے ادوار میں راشدین موجودہ ریاض، قسیم، حائل اور شمالی صوبوں عرعر، جوف اور تبوک پرتسلط رکھتے تھے۔ ماضی قریب میں دو مرتبہ (سن 1865ء اور1890ء) میں راشدین نے آل سعود کو ریاض سے نکال باہر کیا تھا۔ آل سعود کو کویت میں پناہ لینی پر تھی، لیکن 1902ء میں آل سعود نے ریاض دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔ ولیم شکسپئیر اپنے کیمرے کے ذریعہ اس جنگ کی تصویر کشی کرتے ہوئے 1915ء میں مارا گیا اور اسے اس برطانوی مشن کو پورا کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

تین سعودی ادوار کی مختصر تاریخ
1922ء میں آل سعود نجد کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، 1923ء میں راشدین کو شکست دی اور 1926ء میں شریف مکّہ کو شکست دے کر مکّہ اور مدینہ سمیت حجاز کا کنٹرول حاصل کر کے 1932ء میں سعودی مملکت کا قیام عمل میں لائے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ہم یہ بھی بتا دیں کہ یہ تیسری سعودی مملکت تھی۔ پہلی سعودی اسٹیٹ 1744ء میں محمد ابن سعود اور سنی اسکالر محمد بن عبد الوہاب کے اتحاد کے نتیجے میں وجود میں آئی جنھوں نے ساٹھ سال کے قلیل عرصے میں 1803ء میں مکّہ مدینہ تک کنٹرول حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں 1810ء میں عثمانوی فوجوں نے مصر سے حملہ کر کے انہیں اقتدار سے باہر کیا۔ 1890ء میں دوسری سعودی اسٹیٹ کو بھی راشدین جنھیں عثمانوی حمایت حاصل تھی، نے ختم کر دیا جس کے بعد آل سعود نے پہلے قطر اور پھر کویت میں پناہ لی۔

سر جان فلبی اور پہلی سعودی امریکی ڈیل
شاہ عبدالعزیز کا ایک برطانوی دوست کیمبرج کا پڑھا ہوا جان فلبی تھا جو شکسپئیر ہی کی طرح ایک مہم جو اور برطانوی انڈیا آفس کا ملازم تھا، وہ عراق میں تعینات تھا مگر پہلی جنگ عظیم کے بعد 1920ء کے عشرے میں اسلام قبول کرنے کے بعد عبدالعزیز کا مشیر بن گیا اور 30ء کے عشرے میں پہلے برطانیہ اور پھر امریکا سے تیل کے معاہدوں میں براہ راست شریک رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ میں سر ونسٹن چرچل برطانوی نیوی کے جہازوں کو کوئلے سے پیٹرول پر منتقل کر چکے تھے، یوں برطانوی اور امریکی مشرق وسطیٰ میں تیل سونگھتے پھر رہے تھے۔ فلبی نے ہی تیل کی تلاش کا کنسیشن امریکا کی سوکول SOCOL نامی کمپنی کو دلایا جس سے ابن سعود کو پچاس ہزار برطانوی پاؤنڈ کے مساوی سونا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فلبی کو بھی SOCOL سے کثیر رقم حاصل ہوئی۔ یہ پہلی سعودی امریکی ڈیل تھی جو 1933ء میں فائنل ہوئی اورArabian American Oil Company قائم ہوئی جو بعدازاں ’آرامکو‘ کہلائی، جسے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پرائیویٹائز کرنے جا رہے ہیں۔ 1938ء میں ابن سعود نے مملکت میں تیل کے ذخائر کا سرکاری طور پر افتتاح کیا، اگرچہ عملی طور پر تیل دوسری جنگ عظیم کے بعد نکلنا شروع ہوا اور شاہی خاندان پھر سونے میں کھیلنے لگا۔

روزویلٹ ابن سعود ملاقات
امریکی ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ریکارڈ کے مطابق 1944ء میں ایک ٹاپ سیکرٹ کیبل پیغام کے ذریعہ صدر روزویلٹ کو بریف کیا گیا کہ تیل کا کنٹرول امریکی ہاتھوں میں آنے کے بعد مملکت کو سیف گارڈ کرنے کے لیے امریکی ایئر فیلڈز کا قیام ضروری ہوگیا ہے۔ فروری 1945ء میں روزویلٹ نے بحر احمر میں موجود امریکی جنگی جہاز USS Quincy کے عرشے پر ابن سعود سے ملاقات کی۔ 1982ء میں میکملمین پبلشرز کی چھپی ہوئی کتاب ’ہاؤس آف سعود‘ (House of Saud) جسے انگریزی زبان میں مملکت کی تاریخ پر پہلی تفصیلی کتاب کہا جاتا ہے، کے مطابق امریکی سفارت خانہ ابن سعود کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں طاقت بڑھنے کی دوائیں تک فراہم کرتا تھا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے سعود بن عبدالعزیز نے ولی عہد کے طور پر1947ء میں امریکا کا دورہ کیا اور صدر ہنری ٹرومین سے ملاقات میں ابن سعود کا پیغام پہنچایا کہ فلسطینیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے اس امریکی دورے کے بعد ہی سعودی کرنسی کو امریکی ڈالر سے لنک کیا گیا اور امریکی حکومت کے مشورے سے 1952ء میں سعودی عربین مانیٹری ایجنسی (SAMA) کے نام سے ایک سنٹرل بینک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس اہم ڈویلپمنٹ سے سعودی معیشت پر امریکی اثر و رسوخ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

شاہ سعود کی بادشاہی اور معزولی کا قصہ
عرب کے قبائلی نظام کے مطابق بڑا بیٹا پنے والد کا جانشین اور قبیلے کا متوقع سربراہ ہوتا ہے۔ اس طرح 1953ء میں طائف شہر میں ابن سعود کی وفات کے بعد ان کے سب سے بڑے بقید حیات بیٹے سعود بن عبدالعزیز کو ابن سعود کی انگوٹھی مستقبل کے شاہ فیصل نے اپنے ہاتھوں سے پہنائی، حالانکہ اس وقت بھی عمومی رائے کے مطابق شاہ فیصل قیادت کے زیادہ اہل تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب جانشینی ابن سعود کے بیٹوں کو منتقل ہوئی۔ یہ اصول بھی ابن سعود ہی مقرر کر کے گئے تھے کہ بادشاہت بڑے بھائی سے چھوٹے بھائی کو منتقل ہوگی نہ کہ باپ سے بیٹے کو۔ اس اصول کے تحت ان کے دوسرے بقید حیات بیٹے فیصل اپنے بھائی کے جانشین تھے۔ نئے بادشاہ سعود بن عبدالعزیز بلا نوش تھے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 1952ء تک سعودی مملکت میں شراب پر پابندی نہیں لگی تھی اور آل سعود کی ایک معقول تعداد شراب نوشی کرتی تھی۔ کتاب ’ہاؤس آف سعود‘ کے مطابق شراب پر پابندی ایک برٹش ڈپلومیٹ کے قتل کے بعد لگائی گئی جس کو ابن سعود کے ایک بیٹے نے شراب کے نشے میں گولی مار دی تھی۔ شاہ سعود اپنی شاہ خرچی اور عیاش فطرت کے باعث بہت جلد علماء میں غیر مقبول ہوگئے ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ مملکت کے پاس شاہی ملازمین کی تنخواہ ادا کرنے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ تب اسامہ بن لادن کے والد محمد بن لادن نے 1964ء میں ملازمین کو تنخواہ دی تھی۔ یہی وہ سال تھا جب شاہ سعود کو علماء کی کونسل اور چند شہزادوں پر مشتمل ایک شوریٰ نے معزول کر کے ان کی جگہ ولی عہد اور وزیر اعظم شاہ فیصل کو تخت پر بٹھا دیا۔

شاہ فیصل کی پالیسیاں اور ان کا قتل
شاہ فیصل امریکا سے کاروباری تعلقات کے باوجود پان اسلامزم کے پر جوش حمایتی تھے۔ وہی اسلامی ممالک کی تنظیم ( اوآئی سی) کا قیام عمل میں لائے جس کے اہم ترین مقاصد میں فلسطینیوں کی حمایت شامل تھا. اس کے ساتھ ساتھ وہ ماڈرنائزشن اور ترقی کے بھی حامی تھی اور اینٹی کمیونسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی صیہونی ریاست کے بھی خلاف تھے۔ ان کے دور میں مملکت میں متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے علاوہ ٹی وی سٹیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اگرچہ سعودی عرب کبھی اسرائیل کے خلاف کسی جنگ میں شریک نہ ہوا مگر 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران انھوں نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور اس کی فروخت پر پابندی لگا دی۔ ان کے اس اقدام سے تیل کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں آسمان کو چھونے لگیں۔ عرب دنیا آج بھی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مغرب نے انھیں ایک سازش کے تحت ان کے امریکا پلٹ بھتیجے کے ہاتھوں قتل کرایا تاکہ آئندہ تیل کو اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔