سالگرہ مبارک دلیل! ممتاز شیریں

منیر نیازی نے کہا تھا کہ

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

شاید کہ میں نے بھی لکھنے میں بہت دیر کر دی۔ "دلیل" کی سالگرہ آئی اور گزر بھی گئی۔ مبارک باد دینے والوں نے مبارک بادی، تحاریر لکھیں اور ہم ارادہ ہی کرتے رہ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی کم مائیگی کا احساس تھا۔ کئی دفعہ ہمت کی، قلم و کاغذ اٹھایا کہ "دلیل" کی "سالگرہ" ہے تو کچھ لکھ ہی دوں۔ دل بہت چاہتا رہا لیکن یہ سوچ کر ہر دفعہ پیچھے ہٹ جاتی کہ "دلیل" کے بارے میں لکھوں تو کیا لکھوں؟ دلیل پر لکھنے کے لیے میرے پاس کوئی مضبوط "دلیل" نہیں تھی سوائے اس دن کے کہ جب میری پہلی تحریر "دلیل" پر شائع ہوئی۔

میں "دلیل" کو جانتی نہیں تھی۔ کبھی اس سے تعارف بھی نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس پر کچھ پڑھا۔ ایک دن یوں ہی فیس بک کھولا تو سامنے ہی ڈاکٹر رابعہ خرم درانی کا ایک مضمون "دلیل" نامی ویب سائٹ پر آیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر رابعہ کو میں "خواتین کا اسلام" کے توسط سے جانتی تھی کہ اس میں ان کے مضامین پڑھتی رہی ہوں۔ جی میں آیا کہ اپنا بھی ایک مضمون بھیج کر دیکھتی ہوں۔ "آنکھوں کی ٹھنڈک" کے نام سے دوپہر دو بجے مضمون روانہ کیا اور حسب روایت یہی سمجھا کہ اگر قابل اشاعت ہوا تو بھی شائع ہونے میں پندرہ دن یا مہینہ لگے گا۔

لیکن میں بخدا حیران رہ گئی جب دوپہر دو بجے روانہ کیا آرٹیکل شام پانچ بجے "دلیل" پر شائع ہو چکا تھا، الحمداللہ ثمہ الحمداللہ۔ اس کے بعد تو گویا ایسی حوصلہ افزائی ہوئی کہ دل میں ایک لگن سی لگ گئی۔ یکے بعد دیگرے اپنی ٹوٹی پھوٹی تحریریں دلیل کو ارسال کرتے رہے اور دلیل کبھی معمولی اور کبھی بہت زیادہ اصلاح و اضافے کے ساتھ اس کو شائع کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   آج ہماری شادی کی 31 ویں سالگرہ ھے- لالہ شمس

ایک اور تجربہ جو میرے لیے بالکل نیا تھا کہ ہر شائع شدہ تحریر کی اطلاع بذریعہ ای-میل مجھے ملتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ دلیل کے حسن سلوک نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں جو دیگر جگہوں پہ تحاریر بھیجا کرتی تھی، سب کو بھول بھال کر صرف "دلیل" کو ہی قابل دلیل سمجھ لیا۔ دلیل نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے ان کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے جہاں نو آموز لکھاری بھی سیکھنے کے عمل سے گزرتے ہوئے لکھنا سیکھ رہے ہیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں بلکہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔

دلیل میں بہت سے نامور مصنفین لکھ رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں دلیل پر میرا کچھ لکھنا چھوٹا منہ بڑی بات لگتی ہے۔ اس احساس کے تحت گزشتہ کئی دنوں سے لکھنے کا سوچتی ہی رہی لیکن ہمت نہیں کر پائی۔ دلیل کا شکریہ مجھ پر بھی واجب تھا اور جب بھی دلیل کی سالگرہ پر کسی کی تحریر پڑھتی تو خود بھی لکھنے کی امنگ جاگ جاتی۔ اور آج میں خود کو نہیں روک سکی۔

میرے قلم کو اعتماد دینے والے، میری ہر چھاپی گئی تحریر سے مجھے نیا حوصلہ بخشنے والے "دلیل" تمہیں سالگرہ مبارک ہو۔ میری دعا ہے کہ

عروج تجھ کو ملے ایسا اس زمانے میں

کہ آسمان بھی قسمت پہ تیری ناز کرے