خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟ جویریہ سعید

اکثر اداس، پریشان، کاموں کے بوجھ تلے ہلکان اور دوسروں سے خفا رہنے والی اچھی لڑکیوں کی بہت ساری باتیں سننے کے بعد ان سے ہم ایک سوال پوچھا کرتے ہیں.
”خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟“
اکثر کو اس کے جواب میں گڑبڑاتے ہی پایا ہے.

جو افراد بہت زیادہ تناؤ رکھنے والے کاموں سے وابستہ ہوتے ہیں، ان سے باقاعدہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کام سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ذہنی سکوں کے لیے کیا کریں گے؟
کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ خواتین بھی معاشرے کی ایسی کارکنان ہیں جو بہت زیادہ تناؤ والے حالات میں بہت زیادہ کام کرتی ہیں. آپ نے خود کو تروتازہ رکھنے کے لیے اب تک کیا طریقے اختیار کیے ہیں؟
کیا دن کا کوئی حصہ یا کچھ دنوں کے بعد کسی دن کا ایک حصہ خود اپنی ذات کے لیے بھی ہوتا ہے؟ اس میں آپ کیا کرتی ہیں؟
کوئی ایسا کام جسے کر کے خوشی ملتی ہو؟
کیا کبھی خود اپنے ساتھ وقت گزارنے اور خوش رہنے کی کوشش کی ہے؟
ہر مرتبہ دوسروں سے خفا رہنا اس لیے کہ ان کے پاس آپ کے لیے وقت نہیں، یا وہ وہ سب نہیں کرتے جو آپ کو چاہیے، آپ کو مزید چڑچڑا نہیں کر دیتا؟

اگر ایسا ہے تو بات یہ ہے کہ آپ خوش ہونے کے لیے خارج پر انحصار کرتی ہیں یعنی آپ سمجھتی ہیں کہ کچھ دوسرے افراد یا کچھ اشیاء یا حالات آپ کو خوش کر سکتے ہیں. اور جب وہ آپ کو میسر نہیں آتے تو آپ مبتلائے حسرت ہو جاتی ہیں اور مزید ناخوش ہوتی ہیں. مثلا آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے شوہر نامدار آپ کو وقت دیا کریں، آپ کی سنیں، اخبار، فیس بک یا فون میں گم نہ رہیں، ان کے دوست ان سے ملنے نہ آئیں نہ انہیں لے کر کہیں جائیں، گھر گرہستی کے ہزار بکھیڑے ان کو خود میں الجھائے نہ رکھیں. خواہش تو آپ کی برحق ہے، لیکن یہ کبھی کبھی تو ہو سکتا ہے، روز یا اکثر نہیں. اور جب تک آپ اسی کو اپنی خوشی کا ذریعہ سمجھتی رہیں گی تو آپ کے جھلانے کے مواقع زیادہ آئیں گے. اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آپ سمجھتی ہوں کہ اچھے کپڑے، گھومنا پھرنا، بیش قیمت سامان یا تحفے تحائف آپ کو خوش کر سکتے ہیں. یہ بھی آپ کی غلط فہمی ہے، کیونکہ جو لوگ ان چیزوں کی فکر میں لگ جاتے ہیں، ان کو ہر وقت دوسروں سے مقابلہ بازی کی عادت پڑ جاتی ہے اور مسابقت انسان کو تھکاتی ہے، تسکین نہیں پہنچاتی. اسی طرح خارج سے ہر وقت تائید کی خواہش بھی انسان کو بے سکون کرتی ہے. سارا وقت دوسروں کو خوش رکھنے، متاثر کرنے اور ان سے داد سمیٹنے کو خوشی کا سبب سمجھنے والے چڑچڑے، بدگمان، حاسد اور شکوہ کناں رہتے ہیں.

ہمارا مشورہ یہ ہے کہ خوشی کے لیے اپنے ہی اندر وجہیں بھی تلاش کریں اور ذرائع بھی. خود اپنے ساتھ وقت گزاریں. کچھ ایسا سوچیں اور کریں جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپ کو کسی کے ساتھ کو ضرورت نہ ہو.

خوشی کے لیے اپنے ہی اندر وجہیں بھی تلاش کریں اور ذرائع بھی. خود اپنے ساتھ وقت گزاریں. کچھ ایسا سوچیں اور کریں جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپ کو کسی کے ساتھ کو ضرورت نہ ہو.

کوئی اچھی کتاب پڑھ لیں، شاعری سے لطف اٹھائیے، اس لیے نہیں کہ آپ فیس بک یا واٹس ایپ کے گروپس میں شیئر کر کے داد سمیٹیں گی، بلکہ ذرا اس کے مضامین، اسلوب اور الفاظ و تراکیب پر غور کیجیے اور حظ اٹھائیے، کوئی ڈاکومنٹری دیکھ لیجیے، گھر میں کچھ پودے لگائیے، جن کے ساتھ وقت بتائیں، ان سے باتیں کریں، ان کے لیے پریشان ہوں، دعائیں کریں، خود کو سنوارنے میں وقت بتا لیجیے، کسی دوست سے گپ شپ لگائیے، قرآن کریم کی کوئی سورہ حفظ کر لیجیے، کسی سورہ کو منتخب کر کے اس کی روزانہ تھوڑی بہت تفسیر پڑھنے کا اہتمام کیجیے اور قرآن کریم کے الفاظ میں اللہ کریم کی گفتگو کو سنیے، مسکرائیے، آنسو بہائیے، الجھیے، سوال کیجیے کہ اس آیت کا کیا مطلب؟ اللہ کریم نے ایسا کیوں کہا؟ پھر اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں. مصوری کریں، بچوں کی کارٹون فلمیں دیکھیے، کچھ مزاحیہ وڈیو کلپس دیکھیے، کسی فلاحی کام کے لیے ہر ہفتے کچھ وقت مختص کر لیجیے، چاہے انفرادی طور پر یا کسی پہلے سے مصروف عمل جماعت یا تنظیم میں رضاکارانہ طور پر کوئی کام لے لیجیے. کسی کی مدد کر کے جو خوشی ملتی ہے وہ انمول ہوتی ہے. چہل قدمی کے لیے جائیے اور اس دوران درختوں، پھولوں، بادلوں اور پرندوں کو دیکھیے، ان سے کچھ باتیں کیجیے اور الحمدللہ، سبحان اللہ کہنا نہ بھولیے. کبھی نعت سن لیجیے اور تصور میں محبوب کے حضور پہنچ جائیے.

کبھی کبھی کوئی شرارت کیجیے، آنکھیں موند کر اپنی مرضی کے خواب دیکھیے، اپنا انٹرویو لیجیے اور خود اپنی ذات کو کھوجنے کی کوشش کیجیے، مثلا آئینے میں دیکھ کر اپنے آپ سے باتیں کیجیے.

کبھی کبھی کوئی شرارت کیجیے، آنکھیں موند کر اپنی مرضی کے خواب دیکھیے، اپنا انٹرویو لیجیے اور خود اپنی ذات کو کھوجنے کی کوشش کیجیے، مثلا آئینے میں دیکھ کر اپنے آپ سے باتیں کیجیے. پوچھیے کہ زندگی کی تین سب سے بڑی خواہشات کیا ہیں؟ کیا آپ جہاز تو اڑانا نہیں چاہتیں؟ کیا اپ کو بلو وہیل دیکھنے کا شوق ہے یا فرانسیسی زبان فرفر بولنے کی خواہش ہے؟ آپ کی تین خوبیاں کیا ہیں؟ کون کون سی حماقتیں زندگی میں ایسی کی ہیں کہ اب سوچ کر بھی شرم آتی ہے؟ اپنے کسی پسندیدہ فرد سے ملیں گی تو کیا باتیں کریں گی؟

یہ بھی پڑھیں:   عیدِ قرباں اور ہم - عبداللّٰہ ماحی

(ایک مرتبہ ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ ایک گھنٹہ تک اسی موضوع پر گفتگو کی کہ جب آپ پیارے نبی صلی اللہ وسلم سے ملیں گے تو کیا کریں گے.؟ بہت سی دلچسپ باتیں سامنے آئیں. مثلا جتنے کاغذ کے جہاز بنائے ہیں، وہ سب تحفتا دیے جائیں گے، ”ہاٹ وہیلز“ کی گاڑیاں پیش کی جائیں گی، پیزا کھایا جائے گا، اپنی کاپیاں دکھای جائیں گی. نظمیں سنائی جائیں گی. ایسے میں ہماری ننھی پری شرماتے ہوئے ہمارے کان میں بولیں.. ”میں کہوں گی، پلیز مجھے گود میں لے لیں!“)

شوقیہ کوکنگ کیجیے، آسمان پر تاروں کو تکیے، پرندوں، درختوں اور پودوں کے نام جاننے کی کوشش کیجیے. کچھ بھی ایسا سوچیے اور کرنے کی کوشش کیجیے جس سے آپ کو خوشی ملے، آپ کو مزہ آئے. آپ اکیلے میں ہنس پڑیں، اپنے ہی آپ مسکرائیں. جو خواتین ڈھیروں کام کرتی ہیں، بہت سارے لوگوں کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں، خود ان کا خوش اور تروتازہ رہنا بہت ضروری ہے.

آپ کہتی ہیں کہ آپ اتنی مصروف رہتی ہیں کہ ان سب کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا؟
ہم کہتے ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ کو وقت نہ ملے، آپ ان کاموں کے لیے وقت اس لیے نہیں نکالتیں کہ آپ سوچتی ہی نہیں کہ یہ بھی ایک کام ہے.
ہر روز نہ سہی، کچھ دنوں کے بعد ہی آپ کو ایک آدھ گھنٹہ اپنے لیے زبردستی چرانا چاہیے. جب سب سو جائیں، یا گھر پر نہ ہوں، یا جب شوہر نامدار فون پر مصروف ہوں، یا آپ کھانا پکا رہی ہوں، یا چاہے آپ کو کوئی ذرا نسبتا کم اہم کام چھوڑنا پڑے.
آپ تازہ دم ہوں گی تو اگلے بہت سے کاموں کو خوش اسلوبی سے انجام دیں سکیں گی.

ایک اور بات بھی اہم ہے. یہ آپ کی زندگی ہے، آپ کے اپنے حالات ہیں. دوسروں سے مشورہ لینا، کوئی بات واقعی ضروری ہو تو مان لینا اور کبھی کبھی کسی اور سے کچھ سیکھ لینا بھی ٹھیک ہوتا ہے. مگر ہر وقت دوسروں کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں. ہر بات میں دوسروں کو دیکھیں گی، ان کی باتوں پر کان دھریں گی، ان کے ”مشوروں، نصیحتوں اور معنی خیز باتوں“ کو سوچتی رہیں گی، خود پر کڑھیں گی، اور دوسروں کو کاپی کرنے کی کوشش کریں گی تو بہت ناخوش رہیں گی.

یہ بھی پڑھیں:   وقت وقت کی بات - فرح رضوان

ایک بار پھر وہی بات. خود کو جانیے. آپ خود کیا ہیں، آپ کے حالات کیا ہیں، خود آپ کو کیا مناسب لگتا ہے؟ آپ کے لیے کیا ٹھیک ہے؟ آپ کو کس طرح راحت و خوشی ملتی ہے؟ یہ آپ کو خود سوچنا چاہیے. اور اس سب کے لیے آپ کا خود اپنے ساتھ رہنا بہت ضروری ہے.

تجربہ کر دیکھیے. ہو سکتا ہے کہ آپ جو دوسروں کے ساتھ کی متمنی رہتی ہیں، کچھ عرصے بعد آپ میں کچھ ایسی تبدیلی آجائے کہ کچھ اور لوگ آپ کے ساتھ کے خواہشمند ہونے لگیں. آپ حیران ہو رہی ہیں؟ ہم مسکرا رہے ہیں!

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.