روحانیت کا صفحہ - ریحان اصغر سید

آج کے مادیت پرست دور میں روحانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ انسان نے اپنا مقصد حیات اور قبلہ و کعبہ پیسے کو بنا لیا ہے۔ اس نازک صورتحال میں ہم فخریہ طور پر داد و تحسین اور ستائش کے مستحق ہیں جو اس صحفے کے توسط سے جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں روحانیت کے نور کی شمع ابھی تک جلائے ہوئے ہیں۔ شاید یہ شعر لکھتے ہوئے دور اندیش اور مستقبل شناس کاظمی صاحب کے ذہن میں ہمارا ہی خیال تھا۔
تندی مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اس ہفتے کے صفحے میں ہم حسب معمول کچھ نایاب اوراد و وظائف اور اشتہارات کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں۔ وظائف کے سلسلہ میں اس دفعہ ”فیس بک پر زیادہ لائکس لینے کا وظیفہ“، ”اپنی سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا وظیفہ“، ”روزانہ تکیے کے نیچے سے ہزار روپے کا نوٹ نکالنے کا طریقہ“ اور ”پانی پر دم کر کے اسے پیڑول بنانے کا وظیفہ“ شامل ہیں۔ لیکن پہلے اشتہارت کی طرف چلتے ہیں۔

بابا جی جھنڈے والے عرف بین الاقوامی سرکار

حمد ہے اس رب کی جس نے بابا جی کو اس دنیا میں بھیجا تاکہ دکھی انسانیت اور ان کے دکھ کم کیے جا سکیں۔ ہمارے بابا جی کے کمالات اور کرامات بے شمار ہیں۔ بڑے بڑے ممالک کے سربراہان مملکت بابا جی سے تعویذ، دعا اور دوا لیتے ہیں۔ یہ بابا جی کی دعاؤں کا فیض ہی ہے جو یورپ کا مرد بیمار ترکی آج اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہے۔ چائنہ کی ترقی کے پیچھے بھی بابا جی کے وظائف اور تعویذ کارفرما ہیں۔ مودی اور ٹرمپ کی جیت ہو یا نواز شریف کی اقتدار میں واپسی، سب کچھ بابا جی کی مرضی اور منشا سے ہی طے پاتا ہے۔ افسوس حکمران اقتدار میں آ کے بدمست ہو جاتے ہیں۔ ممتاز قادری کی پھانسی کو لے کر بابا جی شریف خاندان سے سخت ناراض ہیں، اس لیے بابا جی کے مؤکل شریف خاندان کے اقتدار کا سورج اب ہمیشہ کے لیے ڈبو دیں گے۔ پانامہ کیس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ہم صرف ہوائی باتیں نہیں کرتے۔ آستانے پر آ کے خود کرامات کا مشاہدہ کجیے۔ یاد رکھیے مشکل جتنی بھی بڑی ہو، بابا جی کے لیے بہت چھوٹی ہے۔
آج ہی اپنے مسائل کے حل کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
منجانب مریدین و خیر خواہ بابا جی

بیماریوں کے سریل کلر
خاندانی حکیم عثمان دہلی والے

سوائے موت کے دنیا کا کوئی مرض ایسا نہیں جس کا علاج ممکن نہ ہو۔ خدا غارت کرے ایلوپتھک طریقہ علاج کو جو لوگوں کے گٹے گوڈوں میں بیٹھ گیا ہے۔ خدا کی مخلوق ماری ماری پھر ہے، وہ تو مالک کے فضل سے ہمارا دم اور در غنمیت ہے جہاں ہر طرف سے مایوس دکھی انسانیت کی بلا امتیاز رنگ و نسل کے خدمت کی جاتی ہے۔ ایک دفعہ مطب پر ضرور تشریف لائیں۔
شوگر، ہیپائٹیس، کینسر، امراض دل، جگر، گردہ، معدہ اور پوشیدہ و پیچیدہ بیماریوں کے سپیشلسٹ۔
ملنے کا پتہ
بلمقابل اڈا ڈوئیاں والا ڈاکخانہ چوچیاں پور تحصیل و ضلع خوشاب

قارئین کے خطوط

بشیر کریانہ سٹور
جناب مجھے آپ کا میگزین خاص طور پر روحانی صحفہ بےحد پسند ہے۔ حکیم عثمان صاحب کے طبی ٹوٹکوں سے مجھے میرے دائمی پیٹ درد میں کافی افاقہ ہو چکا ہے۔ لیکن نسخے کے استعمال کے بعد سےگردے میں درد معدے میں گرانی اور جگر کی گرمی کی شکایت محسوس ہو رہی ہے، اور ہر وقت ٹانگوں اور سر میں درد رہتی ہے، نظر بھی بہت کمزور ہو گئی ہے۔ حکیم صاحب اس بارے میں کوئی راہنمائی فرما دیں تو نوازش ہوگی۔

عقیل ڈسکہ۔
آپ کے میگزین کے سارے سلسلے اچھے ہیں لیکن روحانی صحفے کی کیا بات ہے۔ یہ روحانی صحفے کا ہی فیض ہے کہ میں نے تسخیر مؤکل تسخیر ہمزاد کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے میں امیر ہونے کے لیے محنت مزدوری کے چکر میں پھنسا ہوا تھا۔ شاہ جی سے امید ہے کہ اگلے مہینے کے پرچے میں تسخیر پری کا وظیفہ بھی رقم فرما دیں گے. مزید ان سے یہ شرعی مسئلہ بھی دریافت فرما دیں کہ کیا پریوں سے بھی نکاح کے لیے چار کی شرط لازم ہے؟
عین نوازش ہو گی۔

وحشت خان، چارسدہ
ام کو توم کا میگزین بوہت پسند اے۔ ہم نے خط اس لیے لکھا اے کہ اماری خرامخور خوکومت کیوں بابا جی انڑنیشنل کی ہدمات حاصل نہیں کرتی تا کہ بھارت اور ایران جیسے دشمنوں کا تعویزوں کے ذریعے بندوبست کیا جا سکے۔ یا بابا جی خود سوموٹو ایکشن لیں۔ ورنہ امارا لوگ یوں ہی بمب حملوں میں مرتا کھپتا رہے گا۔
خدائے پیمان

قارئین! وظائف کا سلسلہ اس دفعہ رہ گیا، اگلی دفعہ ان کے ساتھ حاضر ہوں گے.

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ہاہاہاہا ریحان اصغر سید کی ہر تحریر ہی لاجواب ہے اپنی منفرد انداز بیان سے کاری کادل جیتے کا جو ملکہ انہیں حاصل ہے کم کم لکھاریوں کے حصہ میں آتا ہے ۔