ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات - محمد عامر خاکوانی

ریمنڈ ڈیوس کو ہم پاکستانی کب بھلا سکتے ہیں؟ بلیک واٹر کا ایجنٹ کہیں، امریکی کنٹریکٹر، جاسوس یا سفارت کارکانام دیں. موصوف نے چھ سال پہلے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ ستائیس جنوری، 2011 ء کو دن دہاڑے فائرنگ کر کے دو پاکستانی نوجوان قتل کر ڈالے، فرار ہونے کی کوشش میں پکڑا گیا۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، اعلیٰ حکومتی عہدے داروں نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے کہ ریمنڈ ڈیوس سے حساب لیا جائے گا، اسے قانون کے تحت سزا سنائی جائے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی،خادم پنجاب شہباز شریف صاحب نے اپنے مزاج کے مطابق کئی دھواں دھار بیان داغے، جن میں قانون کی سربلندی کی قسمیں کھائی گئیں۔ ادھر امریکی حکومت نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استحقاق حاصل ہے، اس کے خلاف پاکستان میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ امریکی مطالبے پر بڑا سخت ردعمل سامنے آیا۔ ریمنڈ کے خلاف کئی جلوس، ریلیاں نکلتی رہیں، ملک کی تقریباً تمام چھوٹی بڑی جماعتوں نے بڑا سخت موقف اپنایا۔ جماعت اسلامی بھی ان میں پیش پیش تھی، مقتولین کے ورثا کی جانب سے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وکیل بھی پیش ہوتے رہے، ان کی سخت جرح کا ریمنڈ ڈیوس نے کتاب میں اعتراف بھی کیا۔ کوئی ڈیڑھ ماہ تک یہ قصہ چلتا رہا اور پھر اچانک ہی سولہ مارچ کو ریمنڈ ڈیوس اڑنچھو ہوگیا۔

حیران پریشان لوگوں کو پتہ چلا کہ ریمنڈ ڈیوس نے جن لوگوں کو قتل کیا تھا، ان کے ورثا نے دیت کی رقم لے کر اسے معاف کر دیا ہے اور یوں اس” شرعی انصاف“ کے بعد ریمنڈ ڈیوس مزے سے امریکہ پہنچ گیا۔ اس کے جانے کے بعد میڈیا کی حد تک خاصی ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ اخبارات میں خبریں آئیں، کئی کالم بھی لکھے گئے کہ ریمنڈ ڈیوس کو ہمارے اداروں نے امریکیوں کو خوش کرنے کی خاطر چھوڑا ہے اور مقتولین کے ورثا پر دباؤ ڈال کر انھیں دیت لینے پر رضامند کیا گیا۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ اس فیصلے میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن اور اس کے قائد بھی شامل ہیں، یعنی اتفاق رائے سے سول ملٹری لیڈرشپ نے ایسا کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی ڈیل کا الزام براہ راست جنرل شجاع پاشا پر عائد کیا گیا۔ حکومت سے استعفے کا مطالبہ اور جو کچھ ایسے حالات میں ہوتا ہے، کہا گیا۔ ہوا مگر کچھ نہیں۔ کچھ دنوں بعد کوئی اور ایشو آگیا، اور میڈیا اس میں مصروف ہوگیا۔

ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ پاکستانیوں کی نفسیات میں ایک گہرے زخم کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ جس انداز میں اس نے پاکستان کے دو شہری مار دیے اور پھر بھاگنے کی کوشش کی، پکڑے جانے کے بعد بھی اس کی نخوت اور تکبر میں کمی نہیں آئی تھی۔ عوام کا غصہ اور جوش دیدنی تھا۔ ان دنوں ہر جگہ یہی بات زیر بحث آتی۔ ہر کوئی متفق تھا کہ اس امریکی جاسوس کو پھانسی پر چڑھا دینا چاہیے۔ سول ملٹری اعلیٰ عہدے داروں کی جانب سے اس تاثر کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ اس تناظر میں جب اچانک ہی امریکی ایجنٹ کے چلے جانے کی خبر آئی تو بہت سوں پر بجلی سی گری۔ لوگوں کو شدید توہین اور بےوقار ہونے کا احساس ہوا۔

چند دن پہلے ریمنڈ ڈیوس کی ”کنٹریکٹر“ کے نام سے کتاب مارکیٹ میں آئی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے کھل کر لکھا کہ اس ڈیل میں آصف زرداری، جنرل کیانی اور نواز شریف شامل تھے، اس لیے تنقید کا رخ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں پر ہے۔ عمران خان کا چونکہ اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، اس لیے وہ اور ان کے انصافین نوجوان صورتحال سے مسرور ہیں۔ جماعت اسلامی کے وابستگان بھی خوش ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کی گواہی ان کے مؤقف کو درست ثابت کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر خاص طور سے انصافین کی جگتوں کا سامنا ن لیگیوں کو کرنا پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی پانامہ اور جے آئی ٹی کی وجہ سے خاصے بے آرام اور ناخوش ہیں۔ بیٹھے بٹھائے ریمنڈ ڈیوس کا ایشو مسلم لیگ ن کے گلے پڑ گیا۔ ویسے بنیادی ہدف تو زرداری صاحب، جنرل کیانی اور شجاع پاشا ہیں، مگر ریٹائر ملٹری افسران نے کون سا سیاست کرنی ہے۔ رہے زرداری صاحب تووہ پنجاب سے پہلے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، سندھ میں انہیں کوئی پریشانی نہیں، چاہے دس ریمنڈ ڈیوس باہر بھیج دیں۔ میاں نواز شریف اور ان کے مرد آہن بھائی کے امیج کو البتہ دھچکا لگا ہے، جو اس وقت بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے اور پھر چپکے سے حقیقت پسند بن کر ڈیل کر لی۔ میڈیا میں موجود ن لیگی دوستوں کا غم وغصہ سمجھ میں آتا ہے۔ ابھی تو وہ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ کرپشن ملک کا نمبر ون ایشو نہیں ہے اور شریف خاندان کے خلاف مقدمہ کرپشن کا نہیں بلکہ یہ سب سیاسی ایشو ہے۔ اب ان بیچاروں کو کرپشن کا دفاع چھوڑ کر ریمنڈ ڈیوس والے معاملے میں میاں صاحب کے مبینہ کردار کا دفاع کرنا پڑے گا۔ خیر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پر لکھنے کا ارادہ ہے، اسے پڑھ رہا ہوں، مکمل کر کے ہی کتاب پر حتمی تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس تنازع اور حالیہ کتاب کے حوالے سے دو تین باتیں سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مغرب میں چھپنے والی ہر کتاب جھوٹ کا پلندہ بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے سچائی کا مرقع کہا جا سکتا ہے۔ ہمیں آنکھیں کھول کر اس کاجائزہ اور تجزیہ کرنا چاہیے۔ مغرب میں شائع ہونے والی بہت سی کتابوں کا ایک خاص زاویہ، تناظر، ہدف اور بعض اوقات مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ ہمارے ہاں چھپنے والی اکثر کتابوں میں پاکستانی تناظر، زاویہ اور ہماری سائیڈ کی سٹوری ہوتی ہے۔ پاکستان میں البتہ بعض کتابیں خاصے ایجنڈے کے لیے بھی لکھی جا سکتی ہیں، لکھی جاتی ہیں۔ مختلف این جی اوز کی فنانشل سپورٹ، باہر کے تھنک ٹینکس کی مالی معاونت ان کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا بھی ہمیں تجزیہ کرنا چاہیے، ممکن ہے اس میں سب کچھ سچ ہو، ممکن ہے کچھ سچ، کچھ جھوٹ اور یہ بھی ممکن ہے کہ نوے فیصد سچ کے ساتھ دس فیصد ایسا زہریلاجھوٹ شامل کیا گیا ہو جس پر یقین کر لیا جائے اور جو مخصوص ایجنڈے کے لیے مفید ہو۔ یاد رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ہمارے خلاف سی آئی اے کی سازش ہے۔ صرف اتنا عرض کیا ہے کہ باہر چھپنے والی ہر کتاب پر آنکھیں بند کر کے سو فیصدیقین نہ لے آیا کریں۔ آج کی دنیا میں سچ بھی مفت نہیں ملا کرتا، اس کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔

جہاں تک تعلق ہے پاکستانی خفیہ اداروں، خاص کر آئی ایس آئی کے کردار کا تو ہمارے لیے حتمی رائے قائم کرنا آسان ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ 2011ء کا ہے۔ چھ سال گزر گئے۔ امریکیوں کے اس خطے میں مقاصد پورے نہیں ہو سکے۔ افغانستان میں اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود امریکی کامیاب نہیں ہوپائے۔ طالبان کی قیادت کو ختم کرنا، طالبان نیٹ ورک کو تباہ کرنا اور خاص کر حقانی نیٹ ورک کو نیست و نابود کرنا وہ خواب ہے جو کئی امریکی جرنیل دیکھتے رہے اور پھر شرمسار ہو کر افغانستان سے رخصت ہوگئے۔ بش سے اوباما اور اب ٹرمپ تک ہر امریکی صدر پاکستان پر ڈو مور کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ہر ایک کو شکوہ ہے کہ پاکستانی افواج اور پاکستانی ایجنسیاں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہیں، ڈبل گیم کر رہی ہیں، طالبان کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ امریکی سول، ملٹری قیادت کے یہ شکوے ، امریکی تجزیہ کاروں کے طعنے ہی اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی ادارے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ دوستوں کی واہ واہ سے زیادہ دشمنوں کی تنقید اور تلملاہٹ بتاتی ہے کہ آپ کے وار کس حد تک درست رہے ہیں۔ پاکستانی اداروں نے امریکی استعمار کی آخری حد تک جا کر مزاحمت کی ہے۔ ماڈرن ہسٹری میں پہلی بار دنیا نے سنگل سپر پاور کو بھگتا ہے۔ اس سپرپاور کے ایجنڈے کے خلاف کھڑا ہونا معمولی بات نہیں۔ کبھی ہمارے خفیہ اداروں کی تاریخ لکھی جائے تو بہت سے گمنام ہیروز کا تذکرہ ہوگا، آج جن کے نام کوئی نہیں جانتا۔

یہ سب اپنی جگہ درست، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کیس بدترین مس ہینڈلنگ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس معاملے میں ہمارے اداروں نے بہت کچھ حاصل کیا۔ سی آئی اے کواپنا پورا نیٹ ورک لپیٹنا پڑا۔ بلیک واٹر کے بےشمار کنٹریکٹرز کو پاکستان سے نکلنا پڑا۔ یہ سب کچھ کیا گیا، مگر اس کی قیمت بھی بھاری ادا کرنا پڑی۔ یہ سب کچھ اس قدر زیادہ میڈیا ہائپ کے بغیر بھی ہوسکتا تھا۔ عوام کی توقعات اس قدر نہ بڑھائی جاتیں تو صدمہ اس قدر گہرا اور شدید نہ ہوتا۔ اس دن کمرہ عدالت میں شجاع پاشا کی بذات خود موجودگی کی کیا تک تھی؟جو کام میجر کی سطح کا افسر کر سکتا تھا، اس کے لیے جنرل صاحب خود تشریف لے گئے۔ یہ اوور ایفی شینسی تھی یا پھر امریکیوں کے آگے سرخرو ہونے کی خواہش؟ اس معاملے میں بہت کچھ سامنے نہیں آ سکتا۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے بعد مگر ہمارے سابق عسکری ذمہ داران کو تفصیلی جواب ضرور دینا چاہیے۔ عوام اپنے اداروں سے محبت کرتے ہیں، مگر وہ پھر ان سے بھاری توقعات بھی وا بستہ کر لیتے ہیں، جو پوری نہ ہوں تو پھر ان کی کرچیاں تاحیات دل میں پیوست رہتی ہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com