لائن کٹ چکی تھی - اسری غوری

اس نے اپنے لہجے کی نمی چھپاتے ہوئے کہا:
اللہ مجھے بتادے نا، کون ہیں وہ لوگ جن کا میں نے دل دکھایا، کبھی ان کو میری وجہ سے غم پہنچا ہو، میں نے ان سے معافی مانگ لینے میں اک لمحہ نہیں لگانا۔
وہ کہتے کہتے ہاتھوں میں منہ چھپا کر بری طرح رو پڑی۔
انھوں نے اسے رونے دیا۔

کچھ دیر صرف اس کی دبی دبی سسکیوں کی آواز تھی جو دھیرے دھیرے مدھم ہوتی گئی جس کا مطلب تھا کہ وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش میں کامیاب ہو رہی ہے۔
کچھ دیر میں سناٹا چھاگیا۔

وہ بولے : مسئلہ تمھاری معافی کا نہیں۔
یہ بتاؤ کیا جنھوں نے تمہیں دکھ دیے
تمھیں ستایا
تمھیں بے سکون کیا
تمھیں غمناک کیا ۔۔۔
کیا ان کو معاف کرسکتی ہو؟
کیا ان کے لیے دعا کرسکتی ہو؟
جنھوں نے تم سے خوشیاں چھینی ہوں، تم سجدوں میں ان کی خوشیاں مانگ سکتی ہو؟
وہ جو معافی مانگنے کو بےتاب تھی، اب زباں کنگ ہونے کی باری اس کی تھی۔
یہ تو کبھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔
کتنا مشکل تھا معاف کرنا۔

ان کو جن پر اسے مان تھا،
اور انھوں نے اسے چکنا چور کرڈالا تھا۔
ان کو جو اسے اک نظر نہیں دیکھ سکتے تھے۔
ان کو جو اس کی ہر کامیابی سے حسد کرتے تھے۔
ان کو جنھوں نے اس کی زندگی کو جہنم بنایا تھا۔
ان کو جنھوں نے اس کا سکون چھینا تھا۔
کتنا کتنا مشکل تھا۔
نہ صرف معاف کرنا، بلکہ ان کے لیے دعا کرنا۔
خاموشی ہی خاموشی تھی۔

وہ اس کا جواب نہ پا کر، کچھ دیر بعد گویا ہوئے۔
معافیاں مانگنا اگر بہت ظرف کا کام ہے۔
تو سنو!
معاف کردینا بھی بہت جگرے کا کام ہے۔
اور رب کا فرمان ہے کہ یہ صفت نہیں نصیب ہوتی،
مگر ’’بڑے نصیبے‘‘ والوں کو.
یہ رب کی صفات میں سے ہے۔
رب کا تقرب چاہنے والوں کو اس کی صفات کو اپنانا پڑتا ہے۔
وہ ایسے ہی نہیں چن لیا کرتا۔
اسے خالص لوگوں سے محبت ہے۔
خود کو کھنگالو اپنے اندر کو ادھیڑو۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا 110سال بعد قبول ہوئی - ضیاء چترالی

اور
خود سے پوچھو اتنا ظرف ہے تم میں۔
کہ جو تمھاری نم انکھوں کا سبب بنے۔
تم ان کے چہروں پر ہنسی بکھیرنے کا باعث بن سکتی ہو؟

یاد رکھنا!
ایسے جواب کے لیے وقت بہت کم ہوا کرتا ہے۔
اس سوال کا جواب تلاش کرلو۔
جب کرلو تو اپنے سارے سوالات کا جواب پا لوگی۔
لائن کٹ چکی تھی۔۔!!

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب!
    ایک اہم نکتے پر توجہ دلانے کا شکریہ۔ واقعی ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے تو معافی طلب کرتے رہتے ہیں لیکن خود دوسروں کو معاف کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔