ریمنڈ ڈیوس اور شکیل آفریدی: پاک امریکہ تعلقات کے دو رخ - محمد عاصم حفیظ

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے ملکی و غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ہلچل مچا رکھی ہے۔ ہر شخص اپنے مطلب کی باتیں لے کر خود کو دانشور ثابت کر رہا ہے جبکہ عالمی تعلقات کے اس معاملے کو بہت سے لوگ ملکی سیاست کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی پوائنٹ اسکورننگ میں مصروف ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے سرعام دو معصوم پاکستانیوں کا قتل کیا، وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا، امریکی حکومت نے اس کی گرفتاری پر دباؤ ڈالا، ایسے میں امریکہ کے ساتھ مل کر جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں پھولنا یقینی بات تھی۔ پھر لمبی لمبی ملاقاتیں ہوئیں اور منصوبہ بندی شروع ہوئی، امریکی ایک ایک لمحے پر غصے میں تھے. “چوہدری” کا بندہ تھا چھوڑنا ہی تھا، سب ہی جان چھڑانا چاہتے تھے، سب نے ہی جان چھڑائی اور “قاتل ریمنڈ ڈیوس” انتہائی آسانی سے اپنے ملک جا پہنچا۔ اب اس کی کتاب آئی ہے جس میں اس نے دعوے کیے ہیں کہ کس طرح پاکستانی حکومت، اپوزیشن اور فوج کے ادارے سب ہی اس کی خدمت کو حاضر رہتے تھے اور بالآخر اسے رہائی دلوائی گئی۔

جذباتیت اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کسی امریکی کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے خواب تو دیکھے جاسکتے ہیں، پرجوش نعرے بھی لگائے جا سکتے ہیں، بڑے بڑے احتجاج بھی کیے جا سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جب نائن الیون ہوا تو پاکستان میں ایک جنرل کی حکومت تھی، اور وہ ایک فون کال کا دباؤ برداشت نہ کر سکا.

اگر ناراض نہ ہوں تو عرض کروں کہ اگر اُس وقت امیر جماعت اسلامی سراج الحق صدر پاکستان ہوتے، عمران خان وزیر اعظم ہوتے اور حمید گل آئی ایس آئی کے سربراہ یا وزیر دفاع ہوتے تو بھی ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنا پڑتا.

جذباتی نعرے صرف جلسے جلوسوں میں لگانے کے لیے ہوتے ہیں۔ خوابوں کی دنیا میں تو کسی بڑے سے اجتماع میں پرجوش تقریروں کے ذریعے “انڈیا ٹوٹتا اور امریکہ جلتا“ ہوا دیکھا جا سکتا ہے لیکن ابھی دنیا میں ایسے حقائق موجود نہیں ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت کچھ ایسی ہی ہے کہ ہر کوئی اپنی مار پر رہتا ہے۔ دونوں ساتھ بھی چلتے ہیں اور ایک دوسرے پر نظر بھی رکھتے ہیں. دونوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں بھی ہیں کہ ان کے مخالفین کو سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کو علم ہے کہ افغان مزاحمت کے پیچھے پاکستان کا کتنا ہاتھ ہے اور اسی لیے وہ پاکستانی طالبان کو سپورٹ کر کے یا بلیک واٹر جیسے غنڈوں کے ذریعے اپنا غصہ نکالتا رہتا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب بھی امریکی پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور ہمارے نادان دوست اس پروپیگنڈے کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ درحقیقت اس کتاب کے ذریعے سی آئی اے نے اپنا غصہ نکالا ہے کیونکہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی ان کے بندے کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور پھر باقاعدہ دیت لے کر قانونی طریقے سے چھوڑا گیا۔ کتاب سے تو ایسا لگتا ہے کہ ریمینڈ ڈیوس جیل سے سب کچھ کنٹرول کر رہا تھا۔اگر ریمنڈ ڈیوس یہ بھی لکھ دیتا ہے کہ جیل میں اس کی خدمت کے لیے حمزہ شہباز، بلاول بھٹو کے علاوہ جنرل پاشا کا بیٹا بھی معمور تھے اور اس کا کھانا کور کمانڈر کے گھر سے آتا تھا، تو ہمارے سیاسی تجزیہ نگاروں نے وہ بھی تسلیم کر لینا تھا۔ امریکہ کے بندے کو پکڑ لینا بڑی بات تھی اور پھر جیل میں کئی دن رکھنا اس سے بھی زیادہ بڑی بات ہے۔

آپ خود سوچیے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر صدر، وزیر اعظم اور فوج اتنی ہی ڈری سہمی تھی تو پھر اسے پکڑا ہی کیوں گیا؟ اور بالفرض بھولے سے یہ غلطی ہوگئی تو پھر پہلے ہی دن کیوں نہ چھوڑ دیا؟ عدالتوں میں کیوں گھسیٹا اور دیت لے کر کیوں چھوڑا گیا؟ اس کے بدلے بلیک واٹر کا بوریا بستر کیونکر گول کر دیا؟

اگر ملک میں سب کچھ امریکہ کے کہنے پر چلتا ہے تو جناب اب تک امریکہ کے شدید ترین دباؤ کے باوجود شکیل آفریدی کو حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر آپ سمجتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑنا بزدلی ہے تو پھر شکیل آفریدی کو ابھی تک قید رکھنے اور امریکا کے حوالے نہ کرنے کو آپ کیا کہیں گے؟ اگر امریکہ کی ہر بات مانی جاتی ہے تو پھر وہ حافظ سعید، جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی اور ان کے کام کو بند کیوں نہیں کرا سکا؟ عرض صرف اتنی ہے کہ ملکی سلامتی کے ادارے ابھی اتنے غافل نہیں کہ آنکھیں بند کر کے ہر بات پر عمل کر لیں۔ کچھ کام کرنے پڑتے ہیں اور بہت سے کام نہیں بھی کیے جاتے۔

عالمی سیاست کے معاملات جذبات سے طے نہیں کیے جاتے. “ غیرت” کی باتیں اچھی لگتی ہیں لیکن پیارے ہم وطنو! یہ نعرے تب لگانا جب اپنی معیشت کو خود کفیل بنا لو، معاشی پابندیاں برداشت کر سکو اور شاید جنگ بھی۔ جذباتیت اپنی جگہ لیکن اس مقام تک پہنچنے میں دیر لگتی ہے۔ ہم سب مل کر کوشش کریں تو شاید ہماری اگلی نسل کسی ریمنڈ ڈیوس کو پھانسی لگا دے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کرکے ملکی اداروں پر تنقید کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ان کی طرح جانوں پر کھیل کر ملکی سلامتی کی حفاظت کرنا کافی مشکل کام ہے۔