شجرکاری، بہترین صدقہ جاریہ - مومنہ گل

درخت و پودے ﷲ تعالیٰ کی بہت قیمتی نعمت و خصوصی رحمت ہیں۔ اگرچہ جینے کے لیے تو ناگزیر ہیں ہی، لیکن رنگ برنگ و خوشنما و خوش بودار یہ جان دار کائنات کی خوبصورتی بھی ہیں۔ ازل سے ہی انسان نباتات کی محبت کا شکار ہے جہاں ان سے اپنی آنکھوں کے ذریعے دل و دماغ کو تازگی بخشتا ہے وہیں اپنی زندگی کی بیشتر ضروریات کے لیے ان کا محتاج بھی ہے۔

پودوں سے محبت ہمیں گھٹی میں ملی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں آم، انار اور فالسے کو موجود پایا۔ سبزیوں میں سہانجنا، پالک، ٹماٹر کے بھی مزے لیے۔ موتیا، چنبیلی اور گلاب سے گھر کی فضاء کو ہمیشہ معطر پایا۔ گھر کے آس پاس درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں کو ہمیشہ مہربان پایا اور ان پر بسیرا کرنیوالے پرندوں کے گھونسلوں کو قریب سے دیکھا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ان درختوں اور پودوں کی بدولت قدرت کو اتنا قریب سے دیکھ کر ان کی محبت دل میں جڑ نہ پکڑتی۔

گھر کے صحن میں لگے پودوں کی دیکھ بھال مالی کے کرنے کے باوجود جب جب موقع ملتا پودوں کی گوڈی کر کے ان کو پانی دے کر ہمیشہ خوشی پائی۔ پھر ایک قدم اور آگے یوں بڑھایا کہ کیاری میں جو بھی خالی جگہ ملتی اس میں مختلف بیج جیسے خشک دھنیا وغیرہ ڈال کر ہرا دھنیا نکلتے دیکھنا یا کبھی خشک لہسن بو کر ہرے لہسن کی آمد کا انتظار کرنا یا پھر خربوزے کے بیج بو کر خوبصورت بِیل پر ہری لائنوں والے خربوزے دیکھنا ایک دلچسپ مشغلہ رہا۔ پھر اپنے ہاتھوں لگائے نازک پودوں سے مطلوبہ چیزیں توڑ کر اور ان کو کھا کر عجیب خوشی کا احساس ہوتا۔ ایک مرتبہ تلسی کے بیج بوئے اور پھر روزانہ انتظار کہ کب ننھی کونپلیں نکلتی ہیں۔ لیکن نجانے کیا معاملہ ہوا کہ کافی دن گزر گئے اور پودے نمودار نہ ہوئے۔ مایوس ہو کر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ ایک دن ایسے ہی فرصت میں کیاری کا معائنہ کیا تو زمین پر بچھے سبز غلاف کو دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ اور پھر تلسی کے پودوں نے بھی خوب رنگ جمایا۔

ابو جی کو پھل دار پودوں کا بہت شوق تھا کہ اس سے گھر میں رونق رہتی ہے۔ اسی شوق کی تکمیل کے لیے لیموں کا بہت قیمتی پودا منگوایا اور لگواتے وقت یہ کہا کہ اس کو میں لگوا رہا ہوں مگر اس کا پھل میں نہیں کھا سکوں گا اور پھر ہوا بھی ایسے کہ اس پودے نے جب پہلا پھل دیا تو ابو جی اس فانی دنیا سے جا چکے تھے۔ لیکن ان کا محبت سے لگایا ہوا پودا سال میں دو مرتبہ لیموں سے بھر جاتا ہے جس سے ہم بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پورا سال اس پر بیٹھ کر جب خوبصورت پرندے ﷲ کی حمد وثناء بیان کرتے ہیں یا پھر پھولوں کے موسم میں شہد کی مکھیاں آکر رس چوستی ہیں تو ابو جی کی یاد پل پل ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ یہ پودا جو اب تن آور درخت بن چکا ہے ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔

آج یہ قیمتی نعمت انسان کی ناقدری کی بدولت انسان کی ہی توجہ کی طالب ہے۔ آئیے ہم بھی درخت اور پودے لگائیں اور اپنےحصے کی مشعل جلا کر اس روشن کام میں شامل ہو جائبں۔