تبدیلی خود سے - حیدر مجید

ہر شخص معاشرے میں انقلابی تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ چاہے بات ماحولیاتی آلودگی سے چھٹکارا پانے کیو، بدحال عدالتی نظام کو بہتر بنانے کی ہو، معاشرتی برائیوں سے اچھائیوں کی طرف جانے کی ہو یا نااہل حکمرانوں سے قابل حکمرانوں کی، ہر ذی شعور آج سے بہتر ہی نہیں بہترین معاشرہ چاہتا ہے۔

درحقیقت المیہ یہ ہے کہ تبدیلی کا خواہش مند ہر شخص جانتے بوجھتے بھی اس بات کو جھٹلا رہا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد وہ خود ہے۔ جب کبھی ذاتی تبدیلی کی بات آئے تو ایک جواز گھڑ لیا جاتا ہے کہ "ایک میرے ہی ٹھیک ہونے سے کیا فرق پڑے گا؟" یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پانچوں انگلیاں ایک سی نہیں ہوتیں اور معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آگے بڑھ کر اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں، لیکن روشنی کی امنگ میں جلتے یہ دیے تاریکی کے مقابلہ میں بہت تھوڑی ہیں۔

معاشرے میں پھیلی تاریکی سے مقابلہ کرنے والے ہوں یا اپنے ہی رنگ میں جینے والے انسان ہوں، ان سب ہی کی زندگی میں چند چھوٹے چھوٹے کام جیسے سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا مشترک ہیں۔ اگر ہر شخص ان ہی کاموں کو دینی تعلیم کے مطابق کرنے کی کوشش کرے تو کوئی بعید نہیں کہ ہم صراط مسقیم پر گامزن ہوجائیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ عبادت کس وقت کرتے ہیں؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمارا ہر کام عبادت ہوتا ہے۔ اس شخص نے حرانی سے پوچھا کہ کیا آپ کھانا نہیں کھاتے، سوتے نہیں، بیت الخلاء نہیں جاتے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہم اپنا ہر کام سنت کے مطابق کرتے ہیں جس سے ہمارے کام عبادت میں شامل ہوتے ہیں۔

بس زندگی کے ان امور کی ابتدا اور اختتام دعاؤں اور سنت کے مطابق کرنے سے نہ صرف ہمارے کام ہماری عبادت بن جائے گے بلکہ اس سے معاشرے میں اچھائی اور امن بھی بڑھے گا۔