رمضان المبارک سے ملنے والے اہم سبق - عادل سہیل ظفر

رمضان کریم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اور اس کی بے شمار رحمتوں والا مہینہ ہے، اِس مُبارک مہینے میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ اللہ کے عِلاوہ کوئی اور نہیں جانتا کہ کِس کی زندگی میں آنے والا رمضان اس کے لیے آخری رمضان ہوگا۔ اگر ابھی ابھی گذرنے والا رمضان ہماری زندگیوں کا آخری رمضان ہوا تو۔۔۔ آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ ہم نے رمضان کے اسباق میں سے کچھ سیکھا بھی یا نہیں؟

رمضان کا پہلا سبق

کسی نیکی کے قبول ہونے کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نیکی پر عمل مستقل ہو جائے اور اس کے بعد مزید نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے۔ پس اگر ہم رمضان کے بعد نیکی پر قائم نہیں رہتے تو اِس بات کا قوی امکان ہے کہ رمضان میں اپنے تئیں کی گئی ہماری نیکیاں قبولیت کے درجے پر فائز نہیں ہو سکیں۔

اگر تو کوئی مُسلمان رمضان اِس طرح پاتا ہے کہ اس میں اللہ نے اس پر اپنی ظاہری اور باطنی رحمت کا نزول فرمایا ہو، اور اس کا نفس اللہ کی اطاعت پر راضی ہو گیا ہو، اور اس کا دِل آخرت کی فِکر میں مشغول ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی وہ اپنے اوپر اللہ کی اِس رحمت کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا رہے، اور تا زندگی خود کو اللہ کی تابع داری اور عبادات میں مشغول رکھے۔ یہ اللہ کا ہی حکم ہے وَاعبُد رَبَّكَ حَتَّى يَأتِيَكَ اليَقِينُ (ترجمہ) اور اپنے رب کی عبادت کیے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔ (سورت الحجر، آیت 99)

اور فرمایا کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُسلِمُونَ (ترجمہ) اے اِیمان لانے والو! اللہ (کی ناراضگی اور عذاب) سے بچو جیسا کہ اس سے بچنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔ (سورت آل عمران، آیت 202)
پس مُسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی موت تک اللہ کی عبادت میں مشغول رہے، اور ایک سچے عملی مسلمان کی موت مرے۔ کسی سچے اِیمان والے کے شایان شان نہیں کہ وہ ایک دفعہ اللہ کی اطاعت و عبادات کی خوشبودار مٹھاس چکھنے کے بعد اسے کسی بھی انداز میں، کسی بھی فسلفے یا افکار کی چکروں میں کھو کر گناہوں اور اللہ کی نافرمانی کی بدبودار کڑواہٹ سے بدل لے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون الہی اور کورونا وائرس - حسین اصغر

یاد رکھیے کہ رمضان کے عِلاوہ بھی صِرف وہی ایک اللہ ہی حقیقی اور سچا معبود ہے جس کی رمضان میں عبادت کی جاتی ہے۔ پس رمضان المبارک سے ملنے والا پہلا سبق یہ ہوا کہ ایک سچا اِیمان والا اِس میں اللہ کی اطاعت اختیار کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کرتا ہے اور پھر اس کے اللہ کی اطاعت و عبادت ترک نہیں کرتا۔

رمضان کا دوسرا سبق

روزہ بندے اور اس کے حقیقی، سچے اور تنہا معبود اور رب، اللہ کے درمیان ایک راز اور ایک خاص تعلق والا عمل ہے۔ اس کی حقیقت کا عِلم صِرف اور صِرف اور صِرف اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہی ہے۔ اِسی لیے یہ خوش خبری عطاء فرمائی گئی ہے کہ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِى وَأَنَا أَجْزِى بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِى (ترجمہ) آدم کی اولاد کی ہر ایک نیکی پر اس کے لیے اس نیکی جیسی دس سے سات سو تک نیکیاں ہیں، (لیکن) اللہ عزّ و جلّ کا کہنا ہے کہ (یہ معاملہ) روزے کے عِلاوہ (ہے، چونکہ) میرے بندے نے میرے لیے اپنی بھوک پیاس اور خواہشات کو چھوڑا ،(لہذا) وہ (یعنی روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا (یعنی جتنا چاہے دوں۔ (صحیح مُسلم، حدیث: 2763 / کتاب الصیام، باب 30)

روزے کا صِرف اللہ کے لیے ہی رکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو اگر کوئی چاہے تو انتہائی آسانی سے محض دِکھاوے والا بنا سکتا ہے، کہ جب چاہے کہیں چُھپ کر کھا پی لے اور لوگوں کے سامنے خود کو روزہ دار ظاہر کرتا رہے، لیکن جب وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا عمل یقیناً اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔ پس روزہ دار کے اِخلاص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو جتنا چاہے گا اتنا اجر عطاء فرمائے گا۔ یوں ماہ رمضان سے ملنے والے اسباق میں سے ایک سبق یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنا ہر عمل اِخلاص اور اللہ کے مراقبے اور یقینی عِلم کے شعور کے ساتھ ادا کرنا چاہیے جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روایتی یا گوریلا جنگ - سلمان رضا

رمضان کا تیسرا سبق

رمضان المبارک میں ایک منظر ایسا دکھائی دیتا ہے جو رُوح تک کو مسرُور کر دیتا ہے اور وہ ہے مسجدوں کا نمازیوں سے بھر جانا۔ کیا ہی بھلا ہو کہ ہم اللہ کے گھروں کو ہمیشہ ہی اِسی طرح آباد رکھیں، اور یہ سبق سیکھ ہی لیں کہ نماز باجماعت رمضان اور غیر رمضان سب ہی دِنوں میں ایک ہی جیسی فرضیت رکھتی ہیں۔

رمضان کا چوتھا سبق

جب کوئی مُسلمان خود کو رمضان المبارک میں پاتا ہے تو خود کو وقتی طور پر، رمضان کے دِنوں میں، روزے کے اوقات میں اللہ کی حلال کردہ چیزوں سے بھی روکے رکھتا ہے کیونکہ اسے اللہ نے ایسا کرنے کا حُکم دِیا ہوا ہے۔ لہذا اللہ کے اجر و ثواب کے حصول کے لیے اور اس کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ اپنے ظاہری اور باطنی اعضاء کو اللہ کی نافرمانی سے بچائے رکھتا ہے، تاکہ اپنے اللہ کی رضا حاصل کر سکے اور اس کے عذاب سے بچ سکے۔

اس میں یہ سبق ہے کہ اللہ نے اپنے اِیمان والے بندوں پر ان کی پوری زندگی کے لیے جو کچھ حرام کیا ہوا ہے اس حرام سے بالکل اِسی طرح دُور رہنا چاہیے کہ جِس طرح کہ وہ رمضان کے دِنوں میں حلال چیزوں سے بھی دُور ہو جاتا ہے۔

اللہ کرے کہ ہم اس کی برکتوں والے مہینے رمضان سے ملنے والے اِن اَسباق کو سمجھ لیں اور ان کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کر کے اللہ سے ملیں اور اس کی تیار کردہ عظیم خوشیوں کو حاصل کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ آمین

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.