اتحاد: ضرورت یا فریضہ؟ - سکندر علی بہشتی

اس وقت امت اسلامی کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جس کی طرف قرآن و حدیث میں بھی تاکید کی گئی ہے وہ “اتحاد امت“ ہے۔ امت اسلامی سے مراد قرآن کو آخری الٰہی کتاب و پیغمبر خاتم الانبیا اور اسلام کو قیامت تک کے لیے اللہ کا آخری دین ماننا والا گروہ ہے جیسا کہ حدیث میں ان چیزوں پر ایمان رکھنے والے کو مسلمان کہا گیا ہے۔

عجلان سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق سے پوچھا، مجھے ایمان کی تعریف بیان فرمائیں۔ امام رحمہ اللہ نے فرمایا: خدا کی وحدانیت اور حضرت محمدؐ کی رسالت کی گواہی دینا، آپ جو کچھ خدا کی جانب سے لائے ہیں ان سب کا اقرار، پنج گانہ نمازیں پڑھنا، زکوۃ دینا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا، ہمارے دوستوں سے دوستی اور ہمارے دشمنوں سے دشمنی کرنا اور صادقین کی زمرہ میں داخل ہونا۔ (شعور اتحاد، شمارہ: 1)

جو بھی ان مبانی پر اعتقاد رکھتے ہوں وہ امت اسلامی میں شامل ہے۔ جیسے کہ خدا فرماتا ہے: بے شک تمہارا یہ دین ”اسلام” ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کرو (انبیاء، 92)

اس گروہ کا ہدف اور منزل اسلام کی نگاہ میں ایک ہے لہٰذا اپنے اہداف کے حصول کے لیے امت کا اتحاد ایک دینی اصل اور عقلی ضرورت ہے۔ اسلام کے مایہ ناز علما نے بھی اسی کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا ہے اور عملی طور پر بھی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اتحاد کا مقصد مسلمانون کا اپنے افکار نظریات سے دستبردار ہو کر دوسرے کے افکار کو قبول کرنا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا اپنی مذہبی ہویت و شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے، مشترک دشمن کے مقابل متحد و ہم مقصد ہو جائے اور ایک دوسرے کے مقدسات کا مکمل احترام کرے۔ اور اپنے نظریات کو دلیل و منطق اور دوسروں کے افکار کا احترام رکھتے ہوئے بیان کرے۔

قرآن نے واضح طور پر اتحاد پر زور دیا ہے۔ جیسا کہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نکال لیا اور اللہ اسی طرح اپنے آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ (آل عمران، 103)

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

حبل اللہ سے مراد اللہ کی کتاب، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام ہے جو انسان خداتک پہنچاتا ہے۔ پیغمبر السلام کی ایک حدیث میں تمام مسلمانوں کو جسد واحد قرار دیا گیا ہے جس کے عضو کی تکلیف پورے جسم کو درد میں مبتلا کردیتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس کے اوپر ظلم نہیں کرتا ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑتا ہے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مشغول ہوتا ہے، خدا اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کا کوئی غم دور کر دیتا ہے، خدا قیامت کے دن اس سے قیامت کا غم دور کر دے گا اور جو کسی مسلمان کو لباس پہناتا ہے، خدا قیامت کے دن اس کو لباس پہنائے گا۔

امام صادق کی نظر میں مسلمان جماعت سے ایک بالشت کا فاصلہ اختیار کرنا اپنی گردن سے اسلام کے رشتہ کو الگ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ان اس کی تعلیمات کا احیا اور معاشرے میں فروغ اور ایک اسلامی معاشرے کا قیام مسلمانوں کی آپس میں ہم بستگی اور وحدت سے ہی ممکن ہے۔

استعمار اور اسلام دشمن عناصر کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار پھیلائے اور کبھی امت ایک نکتہ پر متحد نہ ہوجائے۔ اس لیے مختلف جزوی مسائل اور اختلاف کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ اہداف اور اصلی مقصد سے دور رکھا ہے۔ یہ سلسلہ اسی دن سے شروع ہوا جس دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الٰہی پیغام لے کر مبعوث ہوئے اور مختلف طریقوں میں جملہ طمع دھمکی، جسمانی اذیت، ترک موالات، اقتصادی ناقہ بندی، نفسیاتی اثر فوجی دھمکیوں کے ذریعے کیا گیا مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالم قریش کے چنگل سے آزاد ہوتے ہی مدینہ میں مسلمانوں میں برادری قائم کر کے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے کی سازشوں پر پانی پھیلا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کی موجودہ صورتحال اور اسکا علاج - عطاء الرحمن بلھروی

لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہونے اور اسلامی قیادت سے ناآشنا افراد کے ہاتھوں میں آ نے کی وجہ سے اسلامی مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ پس اس فراموش شدہ اصول کا احیا وقت کے علما و دانشمندوں کی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ امت مسلمہ ایک نہایت مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں عالم استعمار نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ثقافتی اور عملی جنگ قائم کی ہوئی ہے۔ اس سے مقابلہ کے لیے واحد ہتھیار وحدت ِامت ہے۔

اس لیے وحدت کے اہداف کا واضح ہونا اور وحدت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی پہچان اور اس کے علل و اسباب سے آگہی ضروری ہے تاکہ ان نہیں دور کیا جاسکے جو کہ وحدت جیسے عظیم اسلامی اصول سے دور ہونے کا سبب ہے۔ آج بھی مسلمانوں کی عظمت کی بحالی اور اسلام کی سربلندی کے اس اہم عامل سے استفادہ کرتے ہوئے اتحاد وحدت کو فروغ دے کر ہی مسلمان عزت و سربلندی حاصل کر سکتے ہیں۔